ویب ڈیسک: امریکی بحریہ کاایف/اے-18 ای سپر ہارنیٹ لڑاکا طیارہ پیر کے روز ایک ٹوئنگ آپریشن کے دوران یو ایس ایس ہیری ایس. ٹرومین کے ہینگر ڈیک سے پھسل کر بحیرہ احمر (ریڈ سی) میں جا گرا۔
عالمی میڈیاکےمطابق،یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب عملہ طیارے کو ایئرکرافٹ کیریئر کے ہینگر بے میں منتقل کر رہا تھا۔ طیارے اور ٹوئنگ ٹریکٹر پر سوار اہلکار طیارہ سمندر میں گرنے سے پہلے ہی چھلانگ لگا کر بچ نکلے۔ امریکی بحریہ کے مطابق، ایک سیلر کو معمولی چوٹ آئی ہے۔
بحریہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا:
ایف/اے-18 ای کو ہینگر بے میں کھینچا جا رہا تھا جب عملےکاطیارے پر کنٹرول ختم ہو گیا۔ طیارہ اور ٹو ٹریکٹر دونوں سمندر میں گر گئے۔
یہ طیارہ اسٹرائیک فائٹر اسکواڈرن 136 کا حصہ تھا۔
یہ واضح نہیں ہے کہ تقریباً 60 ملین ڈالر مالیت کے اس طیارے کو واپس نکالنے کی کوشش کی جائے گی یا نہیں۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
عام طور پر لڑاکا طیاروں کو ہینگر ڈیک پر پرواز یا مرمت کے لیے درکار جگہ پر منتقل کیا جاتا ہے۔
یو ایس ایس ہیری ایس. ٹرومین کئی مہینوں سے مشرقِ وسطیٰ میں تعینات ہے اور حالیہ دنوں میں حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہے۔
یو ایس سینٹرل کمانڈ کے مطابق، خطے میں روزانہ کی بنیاد پر حملے کیے جا رہے ہیں، جن میں لڑاکا طیارے، بمبار، بحری جہاز اور ڈرونز شامل ہیں۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ پہلے ہی اس طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی میں تقریباً ایک ماہ کی توسیع کر چکے ہیں۔