Home / انرواچیف کااسرائیل کوسخت جواب

انرواچیف کااسرائیل کوسخت جواب

UNRWA chief reacts on Israeli sanctions

ویب ڈیسک ۔۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے فلسطینی پناہ گزین (انروا) کے سربراہ نے غزہ میں حالیہ جنگ بندی معاہدے کو سراہتے ہوئے اسے انسانی بحران کے حل کے لیے ایک اہم "آغاز” قرار دیا ہے۔

نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران فلپ لازارینی نے غزہ میں شدید مشکلات کو کم کرنے کے لیے فوری، بلا رکاوٹ اور مستقل انسانی امداد تک رسائی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا: جنگ بندی صرف ایک نقطہ آغاز ہے۔

لازارینی نے امدادی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لیے عالمی کوششوں کی حمایت کرنے کے انروا کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا: ہم تعلیم کی بحالی اور بنیادی صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے ذریعے غزہ کی بحالی میں مدد دینے کے لیے تیار ہیں۔

تاہم، انہوں نے اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کی جانب سے فلسطینی علاقوں میں انروا کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے والے نئے قانون پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ یہ قانون دو ہفتوں کے اندر نافذ ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا: یہ تباہ کن ہوگا۔ غزہ میں یہ بین الاقوامی انسانی امداد کو شدید نقصان پہنچائے گا اور پہلے سے سنگین حالات کو مزید خراب کر دے گا۔

اسرائیل کی جانب سے انروا کی خدمات کو دیگر اداروں میں منتقل کرنے کے دعوے پر، لازارینی نے کہا: انروا کو عوامی سطح پر خدمات فراہم کرنے کے لیے جو مینڈیٹ اور صلاحیت حاصل ہے، وہ منفرد ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انروا کی تعلیمی اور بنیادی صحت کی خدمات کی فراہمی کی صلاحیت کسی بھی دوسرے ادارے سے زیادہ ہے اور یہ خدمات صرف ایک فعال ریاست کو منتقل کی جا سکتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: انروا اور اس کا عملہ غزہ کے سماجی ڈھانچے کا حصہ ہیں۔ اس ادارے کی تباہی سے سماجی نظم مزید بگڑ جائے گا۔

لازارینی نے خبردار کیا کہ انروا کے خاتمے سے جنگ بندی معاہدے کو نقصان پہنچے گا اور غزہ کی بحالی اور سیاسی منتقلی میں رکاوٹ پیدا ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کے پاس انروا کی خدمات کی کمی کو پورا کرنے کے لیے مالی وسائل یا صلاحیت موجود نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا: انروا کے خاتمے سے فلسطینیوں کی زندگیوں اور مستقبل پر ناقابل واپسی اثرات پڑیں گے اور یہ بین الاقوامی برادری اور اس کے حل پر ان کے اعتماد کو ختم کر دے گا۔

لازارینی نے انروا کی مقبوضہ علاقوں میں فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ قریبی تعاون اور مغربی کنارے میں صحت کی خدمات کے دوسرے بڑے ادارے کےطورپرکردار کو اجاگر کیا۔

غزہ پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بند کمرہ اجلاس کے دوران، لازارینی نے انروا کے خلاف جاری "عالمی غلط معلوماتی مہم” کی طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور اس کے حامی ممالک کی جانب سے بڑے ڈونر ممالک میں پارلیمنٹس اور حکومتوں کو نشانہ بنانے کے لیے شدید سفارتی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے نیویارک سمیت مختلف شہروں میں انروا کے خلاف چلنے والے اشتہارات کا بھی ذکر کیا اور کہایہ اسرائیلی وزارت خارجہ کی مالی معاونت سے چلائے گئے ہیں۔

یہ بھی چیک کریں

Irani President Masoud Pezeshian reaction after Khamnaei death

انتقام فرض، اداکرنےکی پوری کوشش کرینگے: ایرانی صدر

Sunday, 01 March 2026 | Web Desk سپریم لیڈرآیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کےبعدصدرمسعود …