Home / پیرس والوں کی برسوں پرانی خواہش پوری

پیرس والوں کی برسوں پرانی خواہش پوری

Mayor allows swimming in River Sience Paris

تاریخ: 5 جولائی 2025 | نیوز میکرز ویب ڈیسک

یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے، مگر پیرس والوں نے اس گرمی کا ایسا شاندار توڑ نکالا کہ دنیا دیکھتی رہ گئی۔ تقریباً ایک صدی بعد، فرانس کے دارالحکومت پیرس میں دریائے سین (Seine) کو عوام کے لیے تیراکی کے لیے کھول دیا گیا ہے، اور لوگوں نے ایفل ٹاور کے سائے میں چھلانگیں لگاکرگرمی کوپانی میں ڈبودیا۔

یاد رہے کہ یہ دریا 1923 سے تیراکی کے لیے بند تھا۔ مگر پیرس کی میئر این ہیڈالگو نے برسوں پرانا خواب پورا کرتے ہوئے اسے نہ صرف صاف کیا بلکہ مکمل تیراکی زونز بھی بنا دیے جن میں چینجنگ رومز، شاورز، اور بیچ والی فرنیچر جیسی سہولیات موجود ہیں۔ تین مخصوص مقامات پر لوگ تیراکی کا لطف لے سکتے ہیں، لیکن وہ بھی روزانہ پانی کے معیار کی جانچ کے بعد۔

مگر اب آئیے ذرا پاکستان کی طرف۔ یہاں بھی گرمی کا زور کم نہیں۔ لوگ بلکتے ہیں، بجلی جاتی ہے، پنکھے بند، اور جب سوچتے ہیں کہ چلو دریا میں نہا لیں… تو یا تو دریا سوکھا ہوتا ہے، یا پھر اس میں گند اور بدبو ایسی کہ انسان نہانے کے بجائے بیمار ہو جائے۔

ہمارے ہاں نہ لائف گارڈ ہوتے ہیں، نہ صفائی کا کوئی نظام، اور اکثر مقامات پر گٹر کا پانی سیدھا دریا میں جا رہا ہوتا ہے۔ وہی دریا جو کبھی زندگی کی علامت ہوا کرتے تھے، آج زہریلے نالوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔

پیرس میں تو اولمپکس کے لیے 1.6 ارب ڈالر خرچ کر کے نہ صرف دریا صاف کیا گیا بلکہ جدید ترین سینسرز نصب کیے گئے جو روزانہ پانی میں ای کولی (E. coli) جیسے خطرناک بیکٹیریا کی موجودگی چیک کرتے ہیں۔ اگر بارش ہو جائے تو اگلے دن دریا بند کر دیا جاتا ہے تاکہ کسی کی صحت متاثر نہ ہو۔

لیکن ہمارے ہاں تو نہ کوئی دریا بند ہوتا ہے، نہ ہی کوئی چیک اینڈ بیلنس۔ کراچی سے لے کر لاہور تک، بیشتر شہروں کے قریبی دریا یا تو ناپید ہو چکے ہیں یا پھر کچرے کے ڈپو بن چکے ہیں۔ اور اگر کوئی جوش میں آ کر نہانے چلا بھی جائے تو یا تو بیماری لے کر لوٹے گا یا پھر ڈوبنے کی خبر اگلے دن اخبار میں آئے گی۔

پیرس کے لوگ اس فیصلے کو ماحولیاتی بہتری اور شہریوں کی زندگی کے معیار کو بہتر بنانے کی طرف قدم قرار دے رہے ہیں۔ ہم کب سیکھیں گے کہ صرف فلائی اوور بنانے سے شہروں کو جدید نہیں کہا جا سکتا؟ کیا ہی اچھا ہو اگر ہم بھی اپنے دریاؤں کو دوبارہ زندہ کریں، انہیں صاف کریں، اور شہریوں کو گرمی میں سکھ کا سانس لینے کا موقع دیں۔

اہم نکات:

  • پیرس میں 1923 کے بعد پہلی بار دریا سین کو تیراکی کے لیے کھولا گیا۔
  • تیراکی کے مخصوص زونز میں حفاظتی اقدامات اور لائف گارڈز کی موجودگی لازمی۔
  • روزانہ پانی کی آلودگی کی جانچ اور خطرے کی صورت میں دریا بند۔
  • پاکستان میں دریا یا تو سوکھ چکے یا گندے نالے بن چکے ہیں۔
  • عوامی صحت اور ماحولیاتی بہتری کے لیے حکومتوں کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔

Source: France 24

یہ بھی چیک کریں

Trump claims Iranian supreme leader Khamnaei killed

خامنہ ای مارےجاچکے، امریکی صدرکابڑادعویٰ

Sunday, 01 March 2026 | Web Desk امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ …