Home / لاس اینجلس آگ کی وجہ موسمیاتی تبدیلیاں تونہیں؟

لاس اینجلس آگ کی وجہ موسمیاتی تبدیلیاں تونہیں؟

LA fire and climate change

ویب ڈیسک ۔۔ لاس اینجلس کےجنگلات میں لگنےوالی آگ اربوں ڈالرکانقصان اورکئی قیمتی جانوں کےضیاع کےبعدبھی تاحال قابومیں نہیں آئی ۔ محکمہ موسمیات کےمطابق اگلےہفتےچلنےوالی تیزہوائیں آگ کےشعلوں کومزیدبھڑکادیں گی۔

حکام کےمطابق ڈیڑھ لاکھ سےزائدلوگ اپنےگھروں سےنقل مکانی کرچکےہیں اوراتنےہی لوگوں کوگھرچھوڑنےکیلئےتیاررہنےکی وارننگ دی جاچکی ہے۔ ہزاروں گھراورعمارتیں راکھ کاڈھیربن چکی ہیں اورہزاروں کےخاک ہونےکاخطرہ سروں پرمنڈلارہاہے۔

کال فائرکےمطابق آگ نےمجموعی طور پر تقریباً 38,000 ایکڑ زمین کو اپنی لپیٹ میں لےرکھا۔ لاس اینجلس کی تاریخ کی یہ سب سےتباہ کن آگ ہے،جس کےآگےدنیاکاسب سےطاقتورملک بےبس دکھائی دےرہاہے۔

ہفتے کی صبح تک کیلیفورنیا میں 1,28,000 سے زائد گھروں اور کاروباروں کو بجلی کی فراہمی معطل تھی۔ 

◾ گورنر گیون نیوسم نے پانی کی فراہمی کے مسائل کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے،جس کےباعث ممکنہ طور پر فائر فائٹرز کی کوششوں میں رکاوٹ پیداہوئی۔ 

لاس اینجلس کی آگ میں موسمیاتی تبدیلی کا کردار؟

نیشنل کلائمیٹ اسیسمنٹ کے مطابق، موسمیاتی تبدیلی مغربی امریکہ میں بڑی اور زیادہ شدید جنگلاتی آگ کا باعث بن رہی ہے۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، طویل خشک سالی، اور بارش کے نمونوں میں تبدیلی ایسی مثالی صورتحال پیدا کر رہی ہے جو جنگلاتی آگ کے شعلے بھڑکانے اور ان کے تیزی سے پھیلنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔

یہ تبدیلیاں کئی پہلوؤں پر گہرے اثرات ڈالتی ہیں:

عوامی صحت کے خطرات، جیسے دھویں اور ذرات کے باعث سانس کی بیماریوں میں اضافہ۔

معاشی نقصانات، جن میں آگ بجھانے اور بحالی کے لیے اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔

ماحولیاتی نقصان، جیسے اہم ماحولیاتی نظام کا متاثر ہونا اور حیاتیاتی تنوع کو خطرہ لاحق ہونا۔

لاس اینجلس کے معاملے میں، یہ عوامل آگ بجھانے والے عملے اور مقامی کمیونٹیز کے لیے مشکلات کو مزید بڑھا دیتے ہیں، اور معمولی آگ کو تباہ کن سانحے میں بدل دیتے ہیں۔

سانٹا آنا ہوائیں اور موسمیاتی تبدیلی: غیر یقینی اور خطرہ 

اگرچہ سائنس دان ابھی تک اس بات پر تحقیق کر رہے ہیں کہ آیا موسمیاتی تبدیلی اور سانٹا آنا ہواؤں کی شدت کے درمیان کوئی براہ راست تعلق ہے، جو آگ بجھانے کی کوششوں کو مشکل بنا رہی ہیں، لیکن جنگلاتی آگ کے خطرے پر عالمی حدت کے وسیع اثرات واضح ہیں۔ 

ایک بڑی اکثریت کا ماننا ہے کہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی عالمی حدت، جو توانائی کے لیے کوئلہ اورتیل جلانے کا نتیجہ ہے، نے: 

– خشک سالیوں کو طویل اور شدید بنا دیا ہے۔ 

– پودوں کو زیادہ خشک اور آتش گیر کر دیا ہے۔ 

یہ حالات خاص طور پر جنوب مغربی امریکہ، بشمول جنوبی کیلیفورنیا، میں تباہ کن جنگلاتی آگ کے خطرے کو نمایاں طور پر بڑھا دیتے ہیں۔ 

فیڈریشن آف امریکن سائنٹسٹس کی موسمیاتی اور ماحولیاتی ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر ہننا سیفورڈ کا کہنا ہے کہ جنگلاتی آگ کا بحران صرف موسمیاتی عوامل یا پالیسی کی ناکامی کا نتیجہ نہیں بلکہ دونوں کا مجموعہ ہے۔”

یہ صورتحال مؤثر طریقے سے جنگلاتی آگ کےخطرات کو کم کرنے کے لیے موسمیاتی اقدامات اور حکمت عملی کی پالیسی تبدیلیوں کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔ 

یہ بھی چیک کریں

Trump claims Iranian supreme leader Khamnaei killed

خامنہ ای مارےجاچکے، امریکی صدرکابڑادعویٰ

Sunday, 01 March 2026 | Web Desk امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ …