ویب ڈیسک ۔۔ ایران کے دارالحکومت تہران میں فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے سابق سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت سے متعلق خفیہ رپورٹ کے مندرجات منظر عام پر آ گئے ہیں، جن میں ان کے کمرے کا اے سی خراب ہونے، طویل منصوبہ بندی، اور آپریشن کی پیچیدگیوں کے حوالے سے اہم انکشافات کیے گئے ہیں۔
اسرائیلی اخبار ’ٹائمز آف اسرائیل‘ نے چینل 12 کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ شہادت کی رات اسمعیل ہنیہ کے کمرے کا اے سی خراب ہوگیا تھا، جس کے بعد انہوں نے گیسٹ ہاؤس کا کمرہ عارضی طور پر تبدیل کر لیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق، اے سی کی مرمت کے بعد وہ دوبارہ اپنے کمرے میں واپس آ گئے، جہاں ایک آئی ای ڈی ڈیوائس پہلےہی نصب کی جاچکی تھی۔
منصوبہ بندی اور مقام کا انتخاب
اسرائیلی وزیر دفاع کے حالیہ اعترافی بیان کے مطابق، اسمعیل ہنیہ کو شہید کرنے کی منصوبہ بندی گزشتہ سال 7 اکتوبر کے بعد شروع کی گئی۔ ابتدائی طور پر، قطر، ترکیہ، روس، اور ایران کو ممکنہ مقامات کے طور پر زیر غور لایا گیا۔ قطر میں جاری مذاکرات کو نقصان پہنچانے کے خدشے کے باعث ایران کو آپریشن کے لیے موزوں ترین سمجھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق، ترکیہ اور روس میں کارروائی سے دونوں ممالک کے صدور کی ممکنہ ناراضی سے بچنے کے لیے آپریشن ایران منتقل کیا گیا۔ اسمعیل ہنیہ کے تہران میں پرتعیش گیسٹ ہاؤس میں بارہا قیام کے سبب وہاں انہیں نشانہ بنانا آسان سمجھا گیا۔
حساس آپریشن کی تفصیلات
خفیہ رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ اسرائیل نے پہلے اسماعیل ہنیہ کو سابق ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی نماز جنازہ کے دوران نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن شہری ہلاکتوں کے خدشے کے باعث یہ منصوبہ ملتوی کر دیا گیا۔ بعد ازاں، نئی ایرانی حکومت کی حلف برداری تقریب کے موقع پر کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق، تقریب سے قبل ہنیہ کے کمرے میں ایک آئی ای ڈی نصب کی گئی، لیکن اے سی کی خرابی نے منصوبے کو خطرے میں ڈال دیا۔ اے سی کی مرمت کے بعد، ہنیہ کمرے میں واپس آ گئے، اور رات ایک بج کر 30 منٹ پر دھماکا ہوا، جس میں وہ شہید ہو گئے۔
اندرونی مدد کا شبہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قدر پیچیدہ کارروائی کسی ایرانی شہری، پاسداران انقلاب کے اہلکار، یا حماس کے اندرونی شخص کی مدد کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ اسرائیل کی جانب سے اس کارروائی کی تفصیلات نے ایران کی سیکیورٹی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔