تاریخ: 4 جولائی 2025 | نیوز میکرز ویب ڈیسک
بھارت کے نائب فوجی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل راہول سنگھ نے مئی 2025 کی پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاکستانی افواج کے مقابلے میں اپنی فوج کی کمزوریوں کا برملا اعتراف کر لیا۔
ایک دفاعی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ محض ایک عسکری جھڑپ نہیں تھی، بلکہ ایک ایسا لمحہ تھا جس نے ہمیں جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
پاکستانی افواج کی ’ٹیکسٹ بک‘ طرز کی تیاری، بھارتی افواج حیران
لیفٹیننٹ جنرل راہول سنگھ کے مطابق آپریشن سندور کے دوران پاکستان کی جنگی تیاری، کمانڈ سسٹم، اور ریئل ٹائم ٹریکنگ نے بھارتی افواج کو حیرت میں ڈال دیا۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ:
پاکستانی افواج ہمارے اسٹرائیک یونٹس کو ایکشن میں آنے سے پہلے ہی ٹریک کر رہی تھیں۔ ہم نے ایسا کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے C4ISR سسٹمز — جس میں کمانڈ، کنٹرول، کمیونیکیشن، کمپیوٹر، انٹیلیجنس، اور سرویلنس شامل ہیں — بھارتی اندازوں سے کہیں زیادہ مؤثر ثابت ہوئے۔
الیکٹرانک وارفیئر میں پاکستان کا غلبہ
ڈپٹی آرمی چیف نے مزید تسلیم کیا کہ پاکستانی فضائیہ نے الیکٹرانک وارفیئر میں ناقابلِ شکست کارکردگی دکھائی، جو پوری کشیدگی کے دوران بھارتی افواج کے لیے سب سے بڑی مشکل بنی رہی۔
فتح راکٹس اور بھارتی فضائی دفاع کی ناکامی
انہوں نے تصدیق کی کہ پاکستان کی جانب سے فَتح سیریز کے گائیڈیڈ راکٹس نے بھارت کے کئی فوجی اڈوں کو شدید نقصان پہنچایا۔
اس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ بھارت کے ائر ڈیفنس سسٹمز اس حساس مرحلے پر اپنی صلاحیتیں دکھانے میں ناکام رہے۔
چین اور ترکی کے کردارکاذکر
لیفٹیننٹ جنرل راہول سنگھ نے نہایت سنجیدہ الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو چین اور ترکی کی براہ راست مدد حاصل تھی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب ڈی جی ایم او سطح کی بات چیت ہو رہی تھی تو پاکستان نے بھارتی حکام کو بتایا:
"ہمیں علم ہے کہ آپ کے فلاں اسٹرائیک یونٹس ایکشن کے لیے تیار کھڑے ہیں۔”
ان کا کہنا تھا کہ یہ معلومات براہِ راست چین سے فراہم کی جا رہی تھیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے پانچ برسوں میں پاکستان کو ملنے والا 81 فیصد اسلحہ چینی ساختہ ہے، اور چین ممکنہ طور پر جنگ کو اپنے ہتھیاروں کے تجربے کی لیب کے طور پر استعمال کر رہا تھا۔
ترکی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بیراکتار ڈرونز اور ماہرین کی صورت میں مدد فراہم کی گئی۔
اپنی فوج کے لیے سبق اور اصلاحات کا مطالبہ
بھارتی ڈپٹی آرمی چیف نے زور دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے C4ISR سسٹمز، ائر ڈیفنس، اور سول-ملٹری فیوژن کو اپ گریڈ کریں۔
انہوں نے کہا:
"ہمیں اپنی اسٹریٹجک سوچ، جنگی حکمت عملی اور ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر کو ازسرِ نو ترتیب دینا ہو گا۔”
پاکستان کا دو ٹوک مؤقف: یہ جنگ ’میڈ اِن پاکستان‘تھی
بھارت کی ان تمام الزامات کے جواب میں پاکستان نے چین یا کسی تیسرے فریق کی معاونت کے دعووں کو یکسر مسترد کر دیا۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے 22 جون 2025 کو عرب نیوز کوانٹرویو دیتے ہوئے کہا:
"یہ پاکستان کی جنگ تھی اور یہ جیت مکمل طور پر ’میڈ اِن پاکستان‘ تھی۔”
خطے کے لیے لمحۂ فکریہ یا موقع؟
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اعترافات نہ صرف بھارت کی دفاعی پالیسی کے لیے جھٹکا ہیں، بلکہ پاکستان کی حالیہ عسکری اپ گریڈیشن اور علاقائی ہم آہنگی کی کامیابی کا ثبوت بھی ہیں۔
مئی 2025 کی جھڑپ اب صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ 21ویں صدی کی جدید جنگی حکمت عملی کا مظہر سمجھی جا رہی ہے—جہاں الیکٹرانک برتری، ریئل ٹائم انٹیلیجنس، اور علاقائی تعاون کسی بھی فتح کی کنجی بن چکےہیں۔
#WATCH | Delhi: At the event 'New Age Military Technologies' organised by FICCI, Deputy Chief of Army Staff (Capability Development & Sustenance), Lt Gen Rahul R Singh says, "Air defence and how it panned out during the entire operation was important… This time, our population… pic.twitter.com/uF2uXo7yJm
— ANI (@ANI) July 4, 2025