Home / دوسروالاانصاف ۔۔

دوسروالاانصاف ۔۔

SC throws Hamza Shehbaz

بہت زیادہ غیرجانبدارہوکربھی سوچتاہوں توسمجھ نہیں آتاکہ وہ کون ساغصہ ،بغض یاعنادہےجوادارےمسلم لیگ ن اوراس کی قیادت باالخصوص شریف خاندان کےخلاف نکال رہےہیں؟ وجہ عمران خان کی محبت ہے ، اس کابنایاہواکرپشن کابیانیہ ہے یاکچھ اور ۔۔۔ کل کےسپریم کورٹ کےفیصلےکےبعددماغ اس قدرماوف ہوچکاہےکہ کچھ سجھائی اورسمجھائی نہیں دےرہا۔ ہاں ایک بات ہےکہ تین ججی فیصلہ اس پانچ ججی فیصلےہی کی ایک کڑی لگتی ہےکہ جس کےتحت تین مرتبہ کےمنتخب وزیراعظم کوبیٹےسےتنخواہ نہ لینےپرگھربھیج دیاگیا۔ حیرت ہےکہ چیف جسٹس عمرعطابندیال نےحمزہ شہبازکےکیس میں نوازشریف کی نااہلی کےاسی کیس کابڑےفخرسےحوالہ بھی دیا۔

بات حمزہ شہبازکےہٹ جانےاورپرویزالہیٰ کےآجانےکی نہیں بلکہ بات قانون اورآئین کی حکمرانی کی ہے۔ اگریہی فیصلہ فل کورٹ دیتاتوکسی کواعتراض نہ ہوتالیکن اب یہ فیصلہ عدلیہ کےبہت سےمتنازعہ فیصلوں میں ایک فیصلہ بنکرہمیشہ کیلئےانصاف کےمنہ چڑاتارہےگا۔

پڑھنےوالوں کی آسانی کیلئےہم کسی قسم کی قانونی موشگافیوں میں جائےبغیریہ جاننےکی کوشش کرتےہیں کہ یہ فیصلہ ہےکیااوراس میں تین رکنی بنچ نےکس بات پرڈپٹی اسپیکرکی رولنگ سےاختلاف کیا؟

یادرہےکہ پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کے حمزہ شہباز نے22جولائی کوہونےوالےوزیراعلیٰ کےالیکشن میں 179ووٹ حاصل کئےجبکہ ان کےمدمقابل پرویزالہیٰ نے176ووٹ لئے۔ اس الیکشن میں پرویزالہیٰ کوملےتو186ووٹ تھےلیکن ڈپٹی اسپیکرنےرولنگ دی کہ پرویزالہیٰ کوپڑنےوالےق لیگ کے10ووٹ خارج کئےجاتےہیں کیونکہ پارٹی سربراہ چودھری شجاعت نےاپنےارکان کوپرویزالہیٰ کوووٹ دینےسےمنع کردیاتھا۔ ڈپٹی اسپیکردوست محمدمزاری نےیہ خط ایوان میں دکھایااوراسی کی بنیادپرانہوں نےسپریم کورٹ کے17مئی کےفیصلےکاحوالہ دیتےہوئےق لیگ کے10ووٹ شمارنہیں کئےتھے۔

واضح رہےکہ سپریم کورٹ نےاپنے17مئی کےفیصےمیں قراردیاتھاکہ پارٹی کاحق اس کےارکان سےزیادہ ہےاورمنحرف ارکان کاووٹ شمارنہیں ہوگا۔

سپریم کورٹ کے25جولائی2022کےفیصلےکےبعدکسی بھی سیاسی پارٹی میں پارٹی سربراہ سےزیادہ پارلیمانی لیڈرکی اہمیت کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ یعنی اب اگرشہبازشریف چاہیں تووہ نوازشریف کی ہدایات کےبرعکس کسی بھی جماعت کوپارلیمنٹ میں ووٹ کرسکتےہیں ۔ اسی طرح پیپلزپارٹی کےپارلیمانی لیڈرچاہیں توبلاول کی ہدایات کونظراندازکرتےہوئےاپنےارکان کواپنی مرضی کےامیدوارکوووٹ ڈالنےکیلئےکہہ سکتےہیں۔

ہم سب جانتےہیں کہ پاکستان کی سیاست میں پارٹی لیڈرہی سب سےاہم ہوتاہےکیونکہ اسی کےنام پرووٹ پڑتاہے۔ سپریم کورٹ کایہ کہناکہ سیاسی جماعت میں پارلیمانی پارٹی کاالگ تشخص ہوتاہے،اپنی من چاہی تشریح توہوسکتی ہےحقیقت ہرگزنہیں۔ اسی موقع پرسپریم کورٹ نےبرطانیہ کاحوالہ بھی دیاجہاں پارلیمانی پارٹی کوزیادہ طاقت حاصل ہے۔ یہاں عدالت عظمیٰ شایدبھول گئی کہ وہ پاکستان کی سپریم کورٹ ہےبرطانیہ کی نہیں۔ دوسراہمیں ہرگزنہیں بھولناچاہیےکہ پارلیمان میں کسی کوبھی ووٹ دینےکافیصلہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کےمابین مشاورت سےہوتاہےاوراس کےبعدپارلیمانی لیڈرکوہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ یہ بھی واضح رہےکہ ہمارےہاں پارلیمانی لیڈرکبھی بھی پارٹی لیڈرکی ہدایات کےبرخلاف ووٹ نہیں ڈالےگاکیونکہ اس طرح وہ پارٹی پالیسی سےانحراف کامرتکب ہوگا۔ سپریم کورٹ کایہ سمجھناکہ پارٹی لیڈرایک ڈکٹیٹرکی طرح کام کرتاہےاوراس لئےپارلیمانی لیڈرکوبالکل الگ سےایک تشخص دیناضروری ہے،پرلےدرجےکی ناسمجھی والی بات ہے۔

ایک اوربات یادرکھنےوالی ہےکہ 16اپریل کوہونےوالےوزیراعلیٰ پنجاب کےالیکشن میں حمزہ شہباز197ووٹ لیکروزیراعلیٰ منتخب ہوئےتھے۔ ان 197ووٹوں میں تحریک انصاف کے25منحرف ارکان کےووٹ بھی شامل تھے۔ ان 25ارکان کوپارٹی قائدعمران خان نےپرویزالہیٰ کوووٹ ڈالنےکی ہدایت کی تھی لیکن انہوں نےپارٹی قائدکی ہدایات کونظراندازکرتےہوئےحمزہ شہبازکوووٹ دیااورحمزہ شہبازوزیراعلیٰ بن گئے۔ تحریک انصاف نےاس الیکشن کوسپریم کورٹ میں چیلنج کیااورسپریم کورٹ نےپارٹی قائدکی ہدایات کونظراندازکرنےپران 25ارکان کےووٹ شمارنہ کرنےکاحکم دیا۔ بعدمیں انہی 25اراکین پنجاب اسمبلی کوپارٹی پالیسی سےانحراف کےجرم میں اپنی نشستوں سےہاتھ دھوناپڑے۔

دوسری جانب جب ایک خط ق لیگ کےقائدچودھری شجاعت کی جانب سےلکھاگیااوراپنےاراکین سےکہاگیاکہ وہ پرویزالہیٰ کوووٹ نہ ڈالیں لیکن ان ارکان نےپارٹی قائدکی ہدایات کےخلاف پرویزالہیٰ کوووٹ ڈالا۔ اسی لئےڈپٹی اسپیکردوست محمدمزاری نےان دس ووٹوں کوسپریم کورٹ کےفیصلےکی روشنی میں شمارنہیں کیااوریوں حمزہ شہبازکوفاتح قراردیاگیا۔

تویوں ایک ہی طرح کےکیس میں سپریم کورٹ نےدوالگ الگ فیصلےدئیے۔ حمزہ شہبازکوملنےوالےمنحرف ارکین کےووٹ مستردکردئیےگئےلیکن پرویزالہیٰ کوملنےوالےمنحرف ارکان کےووٹ شمارکرلئےگئے۔ حمزہ شہبازکےکیس میں پارٹی قائدعمران خان کی ہدایات پرعمل نہ کرنےپر25منحرف اراکین کےووٹ شمارنہیں کئےاورانہیں ڈی سیٹ بھی کردیا،تاہم پرویزالہیٰ کےکیس میں 10منحرف ارکان کےووٹ بھی شمارکئےگئےاوران کی بنیادپرپرویزالہیٰ وزیراعلیٰ بھی بن گئے۔

بچپن میں جب کوئی سرکس ہمارےشہرمیں آتی تواس میں اہم بچوں کیلئےسب سےپرکشش جگہ وہ ہوتی تھی جہاں جگہ ہوتی تھی جس کےباہرلکھاہوتاتھا: دودھڑوالاانسان۔ آج دوچہروں والاانصاف دیکھاتوبچپن کاوہ دودھڑوالاانسان یادآگیا۔ فرق بس اتناہےکہ سرکس والادودھڑکاانسان نقلی تھالیکن دوچہروں والاانصاف اصلی ہے۔ اس کےدودھڑنظرآتےتھے،اس کےدوچہرےنظرنہیں آتے۔

انصاف دینےوالےانصاف کابٹوارہ کرناشروع کردیں توانصاف میں اورکسی دربارکےلنگرمیں کوئی فرق نہیں رہتا،کسی کوتھوڑامل گیا،کسی کوزیادہ اورکوئی منہ دیکھتارہ گیا۔

About Zaheer Ahmad

Muhammad Zaheer Ahmad is a senior journalist with a career spanning over 20 years in print and electronic media. He started from the Urdu language Daily Din, proceeding to Daily Times, where he stayed as sub-editor for 2 years. In 2008, he joined broadcast journalism as a Producer at the English language Express 24/7, and later to its major subsidiary, Express-News. Zaheer currently works there as a Senior News Producer. He is also the Managing Editor of newsmakers.com.pk. Zaheer can be reached at [email protected]

یہ بھی چیک کریں

2018 general elections rigged, Imran Khan

عمران خان کی سیاسی کامیابی کےچندراز

عمران خان کی سیاست کومات دینےکیلئےپہلےاسےسمجھناضروری ہے اورمجھےنہیں لگتاکہ مسلم لیگ ن نےایساکرناضروری سمجھاہے۔ اس …