Sunday, 01 March 2026 | Web Desk
ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ملک بھر میں عوامی ردعمل شدید، متضاد اور غیر یقینی صورت اختیار کر گیا۔ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد بی بی سی اور اس کی فارسی سروس نے ایران کے مختلف شہروں سے ملنے والی اطلاعات کی بنیاد پر ایک جامع تصویر پیش کی ہے۔
دھماکوں سے آغاز
ہفتے کی صبح تقریباً 9 بج کر 40 منٹ (06:10 جی ایم ٹی) پر ایران کے کئی شہروں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ دھماکوں کی جگہوں کے قریب خوف و ہراس میں بھاگ رہے ہیں، پس منظر میں چیخ و پکار اور رونے کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔
لیکن اس کےساتھ ہی ایک مختلف ردعمل بھی دیکھنےمیں آیا۔ بی بی سی فارسی کے مطابق کچھ حلقوں میں اطمینان اور یہاں تک کہ جشن کا ماحول بھی دیکھا گیا۔ وہ افراد جو طویل عرصے سے حکومت کی تبدیلی کے خواہاں تھے، اس پیش رفت کو ایک نئے آغاز کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
تہران کے ایک شہری نے بی بی سی فارسی کو بتایا:
آیت اللہ خامنہ ای کی موت پرتبصرہ کرتےہوئے ایک شہری کاکہناتھا، مجھے یقین نہیں آ رہا۔ یہ ایسی خوشخبری ہے کہ سمجھ نہیں آتا کیا کروں۔ میں پوری رات سو نہیں سکا۔ میں بس اس پہلے دن کا انتظار کر رہا ہوں جو خامنہ ای کے بغیر شروع ہوگا۔ میرا خیال ہے مشرقِ وسطیٰ اور شاید دنیا بھی اب بہتر ہو گئی ہے۔
جشن اور امید
کچھ ویڈیوز میں ایک خاتون کو واضح اطمینان کے ساتھ یہ کہتے سنا گیا کہ خامنہ ای کی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایک اور کلپ میں اسکول کے نوجوان طلبہ کو رقص کرتے اور نعرے لگاتے دیکھا گیا، حتیٰ کہ بعض نے “آئی لوٹرمپ”کے نعرے بھی لگائے۔
انٹرنیٹ بلیک آؤٹ اور خوف
حملوں کے آغاز کے بعد ایران تقریباً مکمل انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کا شکار ہو گیا، جس کے باعث اندرونِ ملک رابطہ کرنا مشکل ہو گیا۔ بعض افراد نے سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز جیسے اسٹارلنک اور ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس (VPNs) کے ذریعے عارضی طور پر رسائی حاصل کی۔
بی بی سی نے حکومت کے حامی بعض افراد سے بھی رابطہ کیا۔ تہران کے ایک رہائشی نے بتایا:
“یہ ایک معمول کا دن تھا جب تک امریکا اور اسرائیل نے حملے شروع نہیں کیے۔ ہمارے بچے اسکول گئے ہوئے تھے، ہمیں فوراً جا کر انہیں واپس لانا پڑا۔”
ایک اور شہری نے بتایا کہ ہفتے کی صبح لڑاکا طیاروں کی آوازیں اور دو زور دار دھماکے سنائی دیے۔ فضا میں واضح طور پر جنگ کا تاثر تھا اور لوگ ڈبہ بند خوراک ذخیرہ کرنے میں مصروف تھے۔
“ہمارے بچوں کا خیال رکھنا”
انٹرنیٹ بند ہونے سے پہلے بعض افراد نے سوشل میڈیا پر خدشہ ظاہر کیا کہ اگر وہ مارے گئے تو ان کی آواز کم از کم محفوظ رہے۔ ایک ایرانی نے لکھا:
“اگر میں مر جاؤں تو یاد رکھنا کہ ہم بھی موجود تھے — وہ لوگ جو کسی بھی فوجی حملے کے مخالف ہیں اور جو خبروں میں صرف ایک عدد بن کر رہ جائیں گے۔”
ایک اور پیغام میں لکھا گیا:
“ہم انسان ہیں، کسی لیڈر کے سپاہی نہیں۔ ہمارا مستقبل جمہوری ہونا چاہیے، کسی فرد پر منحصر نہیں۔”
ایک جذباتی پیغام میں ایک صارف نے لکھا:
“وعدہ کریں کہ اگر ہمیں کچھ ہو جائے تو ہمارے بچوں کا خیال رکھیں گے۔ انہیں بتائیں کہ ہم نے ہر ممکن کوشش کی — ہم خاموش مارچوں میں شریک ہوئے، ووٹ دیا، کئی کئی شفٹوں میں کام کیا اور سختیاں برداشت کیں۔”
تقسیم شدہ رائے عامہ
بی بی سی فارسی کے مطابق بہت سے ایرانی، جو حالیہ برسوں میں سخت کریک ڈاؤن کا سامنا کر چکے ہیں، اب حکومت کی تبدیلی کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں — چاہے وہ فوجی مداخلت کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو۔
تاہم ایک بڑا طبقہ خدشہ ظاہر کر رہا ہے کہ فضائی حملےحکومت کو مزید سخت گیر بنا سکتے ہیں، اور عام شہری اس کی قیمت چکا سکتے ہیں۔
غیر یقینی مستقبل
ایران اس وقت تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ کچھ لوگ اسے آزادی کی صبح سمجھ رہے ہیں،جبکہ دیگراسے ایک طویل اورغیر یقینی دور کا آغاز قرار دے رہے ہیں۔ عوامی جذبات تیزی سے بدل سکتے ہیں،خاص طورپراگرعام شہریوں کی ہلاکتوں کی تصدیق ہوتی ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ کےمطابق، ملک بھر میں اس وقت خوف، امید، غصہ اور جشن — سب ایک ساتھ موجود ہیں، اور آنے والے دن ایران کی سیاسی سمت کا تعین کریں گے۔