تاریخ: 12 جولائی 2025 | از: نیوز میکرز ویب ڈیسک
ایئر انڈیا کی فلائٹ اےآئی 171 کواحمد آباد میں پیش آنے والے المناک حادثے کی ابتدائی تحقیقات میں ہوشرباانکشافات سامنےآئےہیں: رپورٹ کےمطابق ، ٹیک آف کے چند سیکنڈ بعد دونوں انجن بند ہو گئے تھےاورطیارہ زمین بوس ہو گیا۔ اس حادثے میں طیارے کےعملےاورمسافروں سمیت 241 افراداورزمین پرموجود 33 افراد جاں بحق ہوگئے۔
انڈین ایئر کرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو (AAIB) کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق حادثے کی ممکنہ وجہ طیارے کے فیول کنٹرول سوئچز ہیں، جو ٹیک آف کے فوراً بعد ‘رن’ سے’کٹ آف’ پوزیشن پر چلے گئے۔ اس سے انجنزکو ایندھن کی فراہمی بند ہو گئی اور طیارہ بےقابو ہو کر گر گیا۔
فیول کنٹرول سوئچز کیا ہیں،کیسے کام کرتے ہیں؟
12 جون 2025 کو احمد آباد ایئرپورٹ سے دوپہر 1:39 پر ٹیک آف کرنے کے بعد، بوئنگ 787 طیارہ صرف 32 سیکنڈ تک ہی فضا میں رہ سکا۔ اس مختصر وقت میں، اس نے محض 0.9 ناٹیکل میل (تقریباً 1.6 کلومیٹر) کا فاصلہ طے کیا اور زیادہ سے زیادہ 650 فٹ کی بلندی حاصل کی۔
رپورٹ کے مطابق، ٹیک آف کے فوراً بعد دونوں انجنوں کے فیول کنٹرول سوئچ اچانک بند ہوگئے، جس کے باعث انجن بند ہو گئے اور طیارہ پوری طرح سےبےجان ہوگیااورچند ہی لمحوں میں زمین سے ٹکرا گیا اورBJمیڈیکل کالج کے ہاسٹل پر جا گرا۔
فیول کنٹرول سوئچز کیا کرتے ہیں؟
فیول کنٹرول سوئچ ہوائی جہاز کے انجن میں ایندھن کی فراہمی کو کنٹرول کرتے ہیں۔ یہ پائلٹ کے زیرِ کنٹرول ہوتے ہیں اور ان کا استعمال انجن کو آن یا آف کرنے کے لیے کیا جاتا ہے، خاص طور پر زمین پر یا کسی ہنگامی صورتحال میں۔
بوئنگ 787 جیسے جدید طیاروں میں یہ سوئچزبہت محفوظ طریقے سے بنائے گئے ہیں تاکہ وہ حادثاتی طور پر بند نہ ہو سکیں۔ ان پر میٹل لاک، بریکٹ، اور اسپرنگ میکانزم ہوتا ہے، جس کی مدد سے انہیں جان بوجھ کر اوپر اٹھا کر** ہی ‘رن’ سے ‘کٹ آف’ میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔
پائلٹ کی حیرت؟
کاک پٹ وائس ریکارڈر میں دونوں پائلٹس کی گفتگو ریکارڈ ہوئی، جس میں ایک پائلٹ حیرت سے دوسرے سے پوچھتا ہے:
"تم نے فیول کیوں بند کیا؟”
جواب میں دوسرا پائلٹ کہتا ہے: میں نے کچھ نہیں کیا۔
کچھ سیکنڈ بعد دونوں فیول سوئچ دوبارہ رن پوزیشن پر واپس آ گئے، لیکن تب تک بہت دیرہو چکی تھی۔
انسانی غلطی یا تکنیکی خرابی؟
امریکی ایوی ایشن ماہرجان کاکس کے مطابق، ان سوئچز کو غلطی سے بند کرنا تقریباً ناممکن ہے کیونکہ انہیں صرف جان بوجھ کر مخصوص طریقے سے ہی بند کیا جا سکتا ہے۔
وہ کہتے ہیں: آپ انہیں صرف دھکیل کر بند نہیں کر سکتے۔ اور کوئی بھی تربیت یافتہ پائلٹ ٹیک آف کے دوران انہیں بند نہیں کرے گا۔”
تو پھر سوال یہ ہے کہ اگر دونوں پائلٹ انکار کر رہے ہیں، تو سوئچ بند کیسے ہوئے؟
کئی سوالات ابھی باقی ہیں
AAIB کی رپورٹ یہ واضح نہیں کرتی کہ سوئچز بند کس نے کیے یا کیوں؟ کیا یہ کوئی تکنیکی خرابی تھی؟ کوئی سافٹ ویئر بگ یا الیکٹریکل فالٹ؟ یا پھر کسی اور نظام کی ناکامی؟
بلیک باکس کا مکمل تجزیہ اور سسٹمز کی گہرائی سے جانچ ہی اس حادثے کی اصل وجہ کا پتا دے سکتی ہے۔
طیاروں کی حفاظت پر بڑا سوالیہ نشان
یہ حادثہ ایک بار پھر ایوی ایشن سیفٹی، انجن کنٹرول میکانزم، اور انسانی و تکنیکی اعتماد پر سوال اٹھاتا ہے۔ اگر اتنا محفوظ سمجھا جانے والا سوئچ خود بخود بند ہو سکتا ہے، تو پھر دیگر طیارے بھی خطرے میں ہو سکتے ہیں۔
ایوی ایشن انڈسٹری کو اب اس بات کا جائزہ لینا ہو گا کہ کیا موجودہ حفاظتی نظام کافی ہیں؟ یا انہیں مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے؟