تاریخ: 1 جولائی 2025 | نیوز میکرز ویب ڈیسک
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک پر تنقید کے نشترچلادیے۔ اس بار الزام یہ لگایا کہ ایلون مسک امریکی تاریخ کا سب سے زیادہ سرکاری سبسڈی لینےوالا شخص ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک جارہانہ پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا:
"ایلون مسک کو بہت پہلے سے معلوم تھا کہ میں الیکٹرک گاڑیوں کے لازمی قانون (EV مینڈیٹ) کے سخت خلاف ہوں۔ یہ قانون مضحکہ خیز ہے، اور ہمیشہ سے میری انتخابی مہم کا اہم حصہ رہا ہے۔”
انہوں نے وضاحت کی کہ انہیں الیکٹرک گاڑیوں سے کوئی مسئلہ نہیں، مگر:
"کسی کو بھی مجبور نہیں کیا جانا چاہیے کہ وہ ایک خاص قسم کی گاڑی خریدے۔"
"سبسڈی نہ ملتی تو نہ راکٹ اُڑتے، نہ گاڑیاں بنتیں”
ٹرمپ نے سیدھا نشانہ ایلون مسک پر رکھتے ہوئے کہا:
"ایلون مسک شاید تاریخ کا سب سے بڑا سبسڈی خور ہے۔ اگر یہ سبسڈیزنہ ہوتیں، تو اسے شاید اپنا کاروبار بند کرکے واپس جنوبی افریقہ جانا پڑتا!”
انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت یہ اربوں ڈالر کی سبسڈی بند کر دے تو:
"نہ کوئی راکٹ لانچ ہو گا، نہ سیٹلائٹ، نہ الیکٹرک کاریں، اور ہمارا ملک اربوں ڈالر بچا سکتا ہے۔"
ٹرمپ نے طنز کرتے ہوئے کہا:
"شاید ہمیں محکمہ حکومتی کارکردگی (DOGE) سے کہنا چاہیے کہ اس سب کا تفصیلی جائزہ لے؟ ہم بہت بڑی رقم بچا سکتے ہیں!!!”
سیاسی پس منظر: جب ایلون مسک نے ریپبلکنز کو "پورکی پگ پارٹی” کہا
یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب ایلون مسک نے ریپبلکن پارٹی کے قرض کی حد سے متعلق بل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ بل منظور ہوا تو وہ اگلے ہی دن نئی سیاسی جماعت ’امریکا پارٹی‘ بنانے کا اعلان کریں گے۔
انہوں نے ریپبلکن پارٹی کو "پورکی پگ پارٹی” قرار دیا، جس کے بعد ٹرمپ کا ردعمل سامنے آیا۔
ٹرمپ نے اس بل کا دفاع کرتے ہوئے کہا:
"یہ ایک عظیم، خوبصورت بل ہے — شاید اپنی نوعیت کا سب سے بڑا — جو تاریخی ٹیکس کٹوتیوں، ملازمتوں، فوجی بجٹ میں اضافے اور بارڈر سیکیورٹی کی ضمانت دیتا ہے۔”
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ بل پاس نہ ہوا تو:
"68 فیصد کا زبردست ٹیکس اضافہ !!!"
تجزیہ: طاقت کے دو مرکز آمنے سامنے
ایک وقت میں ایلون مسک اور ٹرمپ کو قریبی سمجھا جاتا تھا، مگر اب ان کے تعلقات میں دراڑیں واضح ہو چکی ہیں۔ ٹرمپ اپنی "ٹیکس دہندہ فرسٹ” مہم کو آگے بڑھا رہے ہیں، جبکہ ایلون مسک بزنس اور ٹیکنالوجی کے ساتھ سیاسی میدان میں بھی قدم جما رہے ہیں۔
یہ تصادم صرف دو افراد کے درمیان نہیں، بلکہ دو نظریات کے درمیان جنگ بنتی جا رہی ہے:
ایک طرف ریاست پر انحصار کرنے والا سرمایہ دار، اور دوسری طرف عوامی پیسے کی حفاظت کا دعوے دار سیاستدان۔
اصل سوال: کیا ایلون مسک کی سلطنت عوام کے پیسے پر کھڑی ہے؟
ٹیسلا کی EV کریڈٹس ہوں یا اسپیس ایکس کے سرکاری معاہدے — ایلون مسک کو امریکہ کی حکومت سے بھرپور مالی فوائد ملے ہیں۔ مگر اب جب ٹرمپ نے اسے سیاسی ہتھیار بنا لیا ہے، سوال یہ نہیں رہا کہ سبسڈی ملی یا نہیں — بلکہ یہ ہے:
ایلون مسک کی ملک بدری پرغور
فلوریڈا میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ ٹیکس بل کی مخالفت پر ایلون مسک کو ڈیپورٹ کریں گے جس پرانہوں نے جواب دیا کہ ہم اسے دیکھیں گے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایلون مسک پریشان ہیں کہ انہوں نے الیکٹرک وہیکل مینڈیٹ کھودیا، ایلون مسک مزید بھی بہت کچھ کھوسکتے ہیں۔
دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کی پیدائش جنوبی افریقا کی ہے، ایلون مسک ری پبلکن ٹیکس بل کے کھلے عام مخالف ہیں، ری پبلکن ٹیکس بل کی بدولت الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری پرکنزیومر کریڈٹ ختم ہوجائے گا۔