ویب ڈیسک – متنازعہ اوربدنام زمانہ مصنف سلمان رشدی پر 2022 میں ایک ادبی تقریب کے دوران حملہ کرنے والے ہادی مطر کو 25 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ امریکی ریاست نیو یارک کے شہر میوِیل کی چاؤٹاکوا کاؤنٹی کورٹ میں جمعہ کے روز اس فیصلے کی تصدیق کی گئی۔
یہ حملہ 2022میں اُس وقت کیا گیاجب سلمان رشدی کونیویارک میں ایک تقریب میں اسٹیج پرمصنفین کی آزادی پراظہارِ خیال کیلئےمدعوکیاگیاتھا۔ حملے کے نتیجے میں رشدی شدید زخمی ہوگیا اوران کی ایک آنکھ کی بینائی متاثر ہوئی، جب کہ اسےمتعدد اندرونی چوٹیں بھی آئیں۔
پسِ منظر: ایک متنازعہ کتاب اور عالمی ردِعمل
سلمان رشدی، جس کی عمر اب 77 برس ہے، 1988 میں اپنی کتاب The Satanic Verses کی اشاعت کے بعد سے مسلسل خطرات کی زدمیں ہے۔ اس کتاب کو دنیائے اسلام میں گستاخانہ قرار دیا گیا تھا، جس کے بعد ایران کے اُس وقت کے سپریم لیڈر آیت اللہ روح اللہ خمینی نے رشدی کے قتل کا فتویٰ جاری کیا تھا۔
عدالتی کارروائی اور سزا
27سالہ ہادی مطر، جو نیو جرسی کے علاقے فیئر ویو کےرہائشی ہیں، فروری میں عدالت کی جانب سے دوسرے درجے کے اقدامِ قتل کا مجرم قراردیاگیا۔ عدالت نے ہادی کواس جرم میں زیادہ سے زیادہ 25 سال قید کی سزا سنائی، جب کہ حملے کے دوران مداخلت کرنے والے کوہوسٹ ہنری ریس پر حملے کے جرم میں مزید 7 سال کی سزا بھی سنائی گئی۔ دونوں سزائیں ایک ساتھ چلیں گی۔
حملے کی ویڈیو عدالت میں پیش
عدالت میں پیش کی گئی ویڈیو فوٹیج میں دیکھا گیا کہ ہادی مطر نے اسٹیج پر آتے ہی رشدی پر چاقو سے حملہ کر دیا۔ یہ واقعہ سینکڑوں افراد کی موجودگی میں پیش آیا، جب رشدی اپنی تقریر شروع ہی کرنے والاتھا۔ ہنری ریس، جو غیر منافع بخش تنظیم City of Asylum کے بانی ہیں، حملہ روکنے کی کوشش میں زخمی ہوئے۔
سلمان رشدی کی حالت اور طویل بحالی
ڈسٹرکٹ اٹارنی جیسن شمٹ کے مطابق سلمان رشدی اب بھی اس حملےکےاثرات سےنکلنےکی کوشش میں ہے۔ شمٹ کےمطابق،وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکارہے، اسےڈراونےخواب آتےرہتےہیں ۔ یہ ایک ایسا دھچکہ ہے جو اُس شخص کے لیے بہت بڑا ہے جو سالوں بعد دوبارہ عوامی زندگی میں قدم رکھ رہا تھا۔
رشدی کو سر، گردن، سینے اور ہاتھ پر کئی وار کیے گئے۔ اس کے جگراورآنتوں کو نقصان پہنچا، جس کے بعد فوری سرجری کی گئی۔ اُن کی بحالی میں کئی ماہ لگے۔
وفاقی دہشت گردی کے الزامات بھی زیرِ التوا
اگرچہ مطر نے دورانِ سماعت خود بیان نہیں دیا، لیکن اُس کے وکیل نیتھنیئل بارون نے موقف اپنایا کہ یہ مقدمہ اقدامِ قتل کے بجائے صرف حملے کے زمرے میں آنا چاہیے تھا، اور مطر کے ارادے کو مکمل طور پر ثابت نہیں کیا جا سکا۔ وکیل کے مطابق ملزم فیصلے کے خلاف اپیل کرے گا۔
ریاستی مقدمے کے علاوہ، ہادی مطر پر وفاقی سطح پر دہشت گردی سے متعلق الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ ہادی نے رشدی کو قتل کرنے کی کوشش دہشت گردی کی کارروائی کے طور پر کی، اور وہ حزب اللہ نامی تنظیم کی حمایت میں مواد فراہم کرنے کا بھی مرتکب ہوا، جسے امریکہ ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے۔
وفاقی مقدمہ رواں سال کے آخر میں شروع ہونے کا امکان ہے۔