ویب ڈیسک: اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ پٹی کے شہریوں کو شام کے شمالی علاقوں میں بسانے کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، ترکیہ کی سرحد کے قریب واقع شامی علاقوں میں خیمہ بستیوں کی بحالی کا عمل جاری ہے، جہاں مستقبل میں غزہ کے متاثرین کو منتقل کیا جائے گا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ خیمہ بستیاں ماضی میں جنگ کے دوران قائم کی گئی تھیں اور اب ان کی بحالی کا مقصد غزہ کے شہریوں کو آباد کرنا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے کے سلسلے میں قطر اور ترکیہ شامی حکومت سے رابطے میں ہیں، جبکہ ترکیہ کے دو ادارے اس منصوبے کی نگرانی کر رہے ہیں۔ تاہم، دونوں اداروں نے اس حوالے سے تصدیق یا تردید سے گریز کیا ہے۔
اس سے قبل امریکی میڈیا، بالخصوص سی بی ایس نیوز، بھی یہ رپورٹ دے چکا ہے کہ اسرائیل اور امریکا غزہ کے شہریوں کو شام میں دوبارہ آباد کرنے کے امکانات پر غور کر رہے ہیں۔
یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اطلاعات کے مطابق اسرائیل خاموشی سے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ منصوبے پر عملدرآمد کی کوشش کر رہا ہے، جس کا مقصد غزہ کے 20 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو مستقل طور پر کسی اور مقام پر منتقل کرنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، گزشتہ ماہ وائٹ ہاؤس نے اس مقصد کے لیے شام کی نئی حکومت سے بھی رابطہ کیا تھا، تاہم شامی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے ایسے کسی رابطے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔