ویب ڈیسک ۔۔ ڈونالڈ ٹرمپ نےاپنی دوسری صدارتی ٹرم کاحلف اٹھالیااوراس موقع پراپنےافتتاحی خطاب میں انہوں نےایسابہت کچھ کہاجوانہوں نےاپنےپہلےصدارتی حلف کےموقع پربھی کہاتھا۔ ٹرمپ نےاپنےافتتاحی صدارتی خطاب میں کچھ ایساتاثردیاکہ جیسےوہ امریکہ کیلئےناگزیرہیں اوریہ کہ ان کےعلاوہ آنےوالےامریکی صدورنےملک کیلئےکچھ نہیں کیا۔ مزیدیہ کہ ملک کومیرےبغیرجوبھی مسائل لاحق ہوئےانہیں میں ہی حل کرسکتاہوں اورکروں گا۔
آٹھ سال پہلے،ٹرمپ نےامریکی خونریزی کا ذکرکرتےہوئےاس کےفوری خاتمےکاوعدہ کیااورپیرکوانہوں نے اعلان کیا کہ ملک کے”زوال” کا فوری خاتمہ ہوگا،اورامریکہ کا سنہری دورشروع ہوگا۔ انہوں نےخودکوقوم کےنجات دہندہ کےطورپرپیش کیا۔
روایات کو توڑتے ہوئے، ریپبلکن صدر نے اپنے خطاب کا آغاز کیپیٹل روٹندا سے کیاکیونکہ باہرکی شدید سردی کے سبب خطاب کا انعقادچاردیواری کےاندرکیاگیا۔ ان کی تقریر کےسامعین میں چندسومنتخب عہدیدار اورٹرمپ کی حامی شخصیات شامل تھیں۔ تقریب میں ان کےخاص مہمان ایلون مسک بھی شامل تھے۔
تقریر کے اہم نکات:
امریکہ کے "سنہری دور” کا وعدہ
ٹرمپ کی تقریران کی انتخابی ریلیوں کےوعدوں پرمشتمل تھی، جس میں انہوں نے اپنی قیادت میں قومی کامیابی کےبلندبانگ وعدے کیے اور موجودہ نظام کوشدیدتنقیدکانشانہ بنایا۔
اپنی تقریرکےدوران انہوں نےبہت سےمبالغہ آمیزدعوےبھی کئے۔ کہاملک میں ایک نئےاوردلچسپ دورکاآغازہونےجارہاہے،امریکہ اب ایک ایساملک بنےگاجوپہلےسےکہیں زیادہ عظیم ،مضبوط اورغیرمعمولی ہوگا۔ ہمارااولین مقصد ایک ایساملک بناناہوگاجو فخر،خوشحالی اورآزادی سےبھرپورہو۔
انہوں نےایساکہہ کریہ تاثردینےکی کوشش کی کہ جیسےوہ ایک ناکام ملک کےوارث بن رہےہیں ۔ 2024میں بھی انہوں نےکچھ ایساہی کہاتھا۔
انہوں نے اپنی انتخابی مہم کےوعدوں کودہراتے ہوئےمیکسیکو سرحد پرفوج بھیجنے،داخلی تیل کی پیداوار بڑھانےکاوعدہ کیا۔
امریکہ کی پچھلی قیادت کی کرپشن
ٹرمپ نے پچھلے چار سالوں کےدوران امریکی قیادت کوناکام اورکرپٹ قرار دیاانہوں نے اپنے پیشرو، سابق صدر جو بائیڈن یا کسی دوسرے ڈیموکریٹ کا نام نہیں لیا، لیکن ان کی باتوں کا ہدف واضح تھا۔
انہوں نے موجودہ حکومت پرالزام لگایاکہ یہ قانون کی پیروی کرنے والے شہریوں کے بجائے خطرناک تارکین وطن کا تحفظ کرتی ہے، غیر ملکی سرحدوں کی حفاظت امریکی سرحدوں کی قیمت پر کرتی ہے اور ہنگامی حالات میں بنیادی خدمات فراہم کرنے میں ناکام ہے۔
ٹرمپ نےکہایہ سب کچھ آج سے بدل جائے گا، اور یہ بہت جلد بدل جائے گا۔ کہامجھےخدانےقاتلانہ حملےمیں اسی لئےبچایاتاکہ میں ملک کودوبارہ عظیم بناسکوں۔
جنگلات کی آگ کے بارے میں جھوٹ
ٹرمپ نے ملک کی حالت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لاس اینجلس کے ارد گرد کی آگ ابھی تک جل رہی ہے۔ انہوں نےآگ بجھانےکی حکومتی کوششوں اورناقص تیاریوں کوتنقیدکانشانہ بنایا۔
ہال کےاندر کا منظر
صدارتی حلف برداری کی تقریریں عام طور پر نیشنل مال پر کی جاتی ہیں، جہاں ہزاروں افراد اپنی آنکھوں سےنئی تاریخ بنتےدیکھتے۔ تاہم، ٹرمپ نے اپنی تقریر کیپیٹل روٹندا میں کی، جہاں تقریباً 600 افراد موجود تھے، جن میں کانگریس کے ارکان، کابینہ کے نامزد افراد، ٹرمپ کے اہل خانہ، کاروباری شخصیات اور سیاسی اہم شخصیات شامل تھیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کے بڑے لوگ جیسے ایلون مسک اور ایمیزون کے سی ای او جیف بیزوس کابینہ کے ارکان کے سامنے بیٹھے تھے۔ جہاں کاروباری شخصیات کواپنی بیویاں لانے کی اجازت دی گئی تھی، وہیں کانگریس کے ارکان ایسا نہیں کر سکے۔