ویب ڈیسک ۔۔ اسرائیلی حکومت نے پڑوسی ملک میں اپنے قومی سلامتی کے مفادات کو محفوظ بنانے کے لیے شام کو صوبائی بلاکس میں تقسیم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
اسرائیلی روزنامہ اسرائیل ہایوم کے مطابق، اسرائیلی وزیر دفاع، اسرائیل کاٹز نے منگل کے روز ایک چھوٹے اجلاس کی صدارت کی جس میں مختلف وزراء نے شرکت کی۔ اجلاس میں ترکی کی شام میں مداخلت اور نئے عبوری شامی رہنما احمد الشراء سے متعلق خدشات پر گفتگو کی گئی۔
اجلاس میں لندن میں قائم خبر رساں ادارے مڈل ایسٹ آئی کی گزشتہ ماہ کی رپورٹ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں بتایا گیا تھا کہ تل ابیب نے شام کو تین بلاکس میں تقسیم کرنے کی تجویز دی تھی: شمال مشرق میں کردوں کے زیر انتظام علاقے، جنوب میں دروز اقلیت کے علاقے، اور دمشق میں اسد حکومت کے باقی ماندہ حصے۔ تاہم، یہ منصوبے بظاہر باغیوں کے قبضے اور 8 دسمبر کو اسدحکومت کے زوال کے بعد ناکام ہو گئے۔
ان نئے منصوبوں کے تحت، اسرائیلی سلامتی کے ادارے نے شام کو صوبائی خطوں یا کانٹونز میں تقسیم کرنے کا تصور پیش کیا۔ اسرائیل ہایوم کے مطابق، اس اقدام کا مقصد "تمام شامی نسلی گروہوں کی سلامتی اور حقوق کا تحفظ” ہے۔
اسرائیلی وزیر برائے توانائی و بنیادی ڈھانچہ، ایلی کوہن نے اس طرح کے منصوبوں پر بین الاقوامی کانفرنس میں وسیع تر گفتگو کی تجویز دی۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ معاملہ براہ راست تل ابیب سے منسلک نہ کیا جائے تاکہ شامی عوام اسرائیلی مداخلت پر بے چینی محسوس نہ کریں۔