News Makers

تازہ ترین

کورونا وائرس پاکستان میں مصدقہ کیسز
374173
  • اموات 7662
  • سندھ 162227
  • پنجاب 114010
  • بلوچستان 16744
  • خیبرپختونخوا 44097
  • اسلام آباد 26569
  • گلگت بلتستان 4526
  • آزاد کشمیر 6000

 

چیف جسٹس کےعدالتی حکم پرجسٹس فائزعیسیٰ کااختلافی نوٹ

چیف جسٹس کےعدالتی حکم پرجسٹس فائزعیسیٰ کااختلافی نوٹ
اپ لوڈ :- ہفتہ 20 فروری 2021
ٹوٹل ریڈز :- 68

ویب ڈیسک ۔۔ وزیر اعظم ترقیاتی فنڈ کیس میں سپریم کورٹ کےجج جسٹس قاضی فائز عیسٰی کااختلافی نوٹ سامنے آیا ہے۔ میڈیاکےذریعےسامنےآنےوالےاس نوٹ میں جسٹس فائزعیسیٰ کاکہناہےکہ نوٹِس وزیراعظم عمران خان کےبیان پرلیاگیا جوآئین کےخلاف تھا، تحقیق کے بجائے جج کو اس کےآئینی فرائض کی ادائیگی سے روک دیاگیا۔
 
اپنے نوٹ میں جسٹس فائزعیسیٰ نےلکھا کہ بینچ جسٹس مقبول باقر اور مجھ پر مشتمل تھا، دو رکنی بینچ نے 10 فروری کو سماعت ملتوی کردی، 10  فروری کو حکم لکھوایا کہ  وزیراعظم کا جواب  اطمینان بخش نہ ہواتومعاملہ چیف جسٹس کوبھجوایاجائےگا۔
 
جسٹس فائز عیسیٰ نےاپنےنوٹ میں لکھا کہ چیف جسٹس نے معاملہ 5رکنی بینچ کے سامنے مقرر کردیا، میں نے جسٹس مقبول باقرکوبینچ سےالگ اورپانچ رکنی بینچ پراعتراض کیا،چیف جسٹس نے خط کا جواب نہیں دیا ، نہ ہی اٹھائے گئے سوالات کاجواب دیا۔
 
انہوں نے لکھا کہ بینچ کی تشکیل سےشکوک پیداہوئےکہ آخراس کیس میں غیرمعمولی دلچسپی کیوں ہے،عدالتی نظام کی غیرجانبداری اور عوامی اعتماد پر اٹھنےوالےسوالات کاجواب نہیں دیاگیا۔
 
جسٹس فائزعیسٰی کااختلافی نوٹ میں مزیدکہناتھاکہ چیف جسٹس نےزبانی بھی نہیں بتایاکہ جسٹس مقبول باقرکوکیوں بینچ سےہٹایا، کیس کی فائلوں سے انکشاف ہوتا ہے کہ چیف جسٹس کو زبانی احکامات پر فائل پیش کی گئی، چیف جسٹس نے 10 فروری کو 5 رکنی بینچ کی تشکیل کا حکم دیا،  کیس سننے والے دورکنی بینچ سے لے کر 5 رکنی  بینچ کےسامنےلگادیاگیا، چیف جسٹس نےصوابدیدی اختیاراستعمال کرکے 5 رکنی بینچ نامناسب اندازمیں تشکیل دیا، بینچ کی تشکیل سے غیر ضروری سوالات پیدا ہوئے۔

Copyright © 2018 News Makers. All rights reserved.