News Makers

تازہ ترین

کورونا وائرس پاکستان میں مصدقہ کیسز
374173
  • اموات 7662
  • سندھ 162227
  • پنجاب 114010
  • بلوچستان 16744
  • خیبرپختونخوا 44097
  • اسلام آباد 26569
  • گلگت بلتستان 4526
  • آزاد کشمیر 6000

 

کیانوازشریف کوواپس لایاجاسکتاہے؟ برطانوی ماہرقانون کیاکہتےہیں؟

کیانوازشریف کوواپس لایاجاسکتاہے؟ برطانوی ماہرقانون کیاکہتےہیں؟
اپ لوڈ :- اِتوار 25 اکتوبر 2020
ٹوٹل ریڈز :- 118

وزیراعظم عمران خان کاحال ہی میں دیاجانےوالاایک بیان کہ 'نوازشریف کوپاکستان واپس لانےکیلئےانہیں لندن جاکربرطانوی وزیراعظم بورس جانسن سےبھی بات کرناپڑی تووہ پیچھےنہیں ہٹیں گے،زبان زدعام ہے۔ 
 
وزیراعظم عمران خان کےاس بیان کےبعداس نقطےپربحث کانہ ختم ہونےوالاسلسلہ چل نکلاہےکہ آیاایساممکن ہےکہ وہ برطانیہ جائیں اورنوازشریف کوواپس لےآئیں ؟ 
 
اس سوال کےجواب میں معروف برطانوی ماہرقانون بیرسٹرراشداسلم کہتےہیں کہ عمران خان اوران کےمعاون خصوصی نوازشریف کوواپس لانےکیلئےبرطانیہ کےجس قانون کاحوالہ دےرہےہیں اس قانون کی انہوں نےغلط تشریح کی ہے۔ راشداسلم کےمطابق شایدعمران خان تک مس لیڈنگ قسم کی انفارمیشن پہنچائی گئی ہو۔ 
 
راشداسلم کےمطابق عمران خان کایہ سوچناکہ 'ادھروہ برطانیہ جاکربورس جانسن سےبات کرینگے،ادھروہ نوازشریف کاہاتھ ان کےہاتھ میں پکڑادےگا،غلط ہے۔ عمران خان کاایساسوچناان کی خام خیالی ہے۔ ایسابالکل بھی ممکن نہیں ۔ اگرڈیپورٹ بھی کرناہوتوبھی یہ پراسیس بہت طویل ہوتاہے۔ نوازشریف کی واپسی کیلئےوزیراعظم عمران خان کوغلط ایڈوائس دی جارہی ہے۔ اس لئےانہیں چاہیےکہ وہ برطانوی قانونی ماہرین سےلیگل ایڈوائس لیں ۔ برطانیہ نےاگرکسی کوڈیپورٹ کرناہوتوبھی ایساطویل پراسیس کےبعدپوری تسلی کرنےکےبعدہی کیاجاتاہے۔ یوکےبارڈرایکٹ اس حوالےسےبہت واضح ہے۔ قانونی حقائق کوسامنےرکھتےہوئےہم کہہ سکتےہیں کہ نوازشریف کوڈیپورٹ کرنےکی درخواست ویلڈنہیں ۔ 
 
بیرسٹرراشداسلم کاکہناتھاکہ پاکستان کےپاس یہ آپشن ہےکہ اس کادفترخارجہ میوچل لیگل اسسٹینس سکیم کےتحت برطانوی فارن آفس کولکھ سکتاہےکہ نوازشریف کوڈی پورٹ کیاجائے۔ کامن ویلتھ سکیم کےتحت 2002 میں ایک ایگریمنٹ تمام رکن ممالک کےدستخطوں سےجاری ہواتھاکہ ملزمان کی حوالگی میں رکن ملک ایکدوسرےکےساتھ تعاون کرینگے۔ پاکستان اس معاہدےکےتحت نوازشریف کی حوالگی کی درخواست دےسکتاہے۔ 
 
اگرحوالگی ملزمان کاپراسس سٹارٹ ہوتاہےتواس میں ہوم آفس کاایکسٹرےڈیشن ڈیپارٹمنٹ جوکراون پراسیکیوشن سروس کےساتھ منسلک ہے،وہ یہ درخواست لیکرجج کےپاس جاتاہےتوجج یہ دیکھتاہےکہ آیااس شخص کوانصاف ملےگا؟ اسےانتقام کانشانہ تونہیں بنایاجائےگا؟ کیااس کے ملک میں سزائےموت تونہیں؟ کیااس شخص کی صحت درست ہے؟ کیااسےتذلیل کانشانہ تونہیں بنایاجائےگا؟کیاپہلےجولیگل پراسیس ہواہےوہ انصاف کےمطابق ہوا؟ یہ سب پہلوجج دیکھےگا۔
 
اگرڈی پورٹیشن کیلئےہوم آفس پروسیڈکرتاہےتووہ نوازشریف صاحب کونوٹس دےگا،جس کاجواب دینےکانوازشریف کوحق ہےکہ وہ کہیں کہ ان بنیادوں پرمجھےڈی پورٹ نہ کیاجائے۔پھربھی اگرہوم آفس پروسیڈکرتاہےتونوازشریف کےپاس حق ہےکہ وہ اس کےخلاف ہائی کورٹ میں اپیل کریں کہ انہیں سٹےدیاجائے۔ سٹےکاپراسیس ایک سےڈیڑھ سال چلےگا۔
 
ایکسڑےڈیشن کاپراسیس اس سےبھی لمباہے۔ بھارت کےوجےمالیاکےمثال سامنےہےکہ بھارت اپناپورازورلگانےکےباوجودوجےمالیاکوواپس نہیں لےجاسکاحالانکہ بھارتی عدالتوں میں وجےمالیاپرکرپشن کےالزامات ثابت ہوچکےہیں اوروہاں کی عدالتیں انہیں سزائیں سناچکی ہیں۔ اس سب کےباوجودبرطانیہ نےآج تک وجےمالیاکوڈی پورٹ نہیں کیا۔
 
بیرسٹرراشداسلم کےمطابق جب پاکستان سےکسی ملزم کوڈیپورٹ کرنےکیلئےبرطانوی حکومت کوشواہدبھیجےجاتےہیں توعام طورپروہ نامکمل شواہدہوتےہیں جن کی بنیادپربرطانوی عدالتوں میں وہ کیس ہارجاتےہیں ۔ 
 
بیرسٹرراشداسلم نےمزیدیہ بھی بتایاکہ عمران خان کایہ کہناکہ وہ خودجاکربرطانوی وزیراعظم سےبات کرینگے،نوازشریف کوفائدہ دےگاکیونکہ اس سےسیاسی انتقام کاتاثرابھرتاہے۔ اس قدرجارحانہ اندازمیں دئیےگئےبیان کونوازشریف اسےاپنےحق میں استعمال کرسکتےہیں ۔

ٹیگز

Copyright © 2018 News Makers. All rights reserved.