News Makers

تازہ ترین

کورونا وائرس پاکستان میں مصدقہ کیسز
374173
  • اموات 7662
  • سندھ 162227
  • پنجاب 114010
  • بلوچستان 16744
  • خیبرپختونخوا 44097
  • اسلام آباد 26569
  • گلگت بلتستان 4526
  • آزاد کشمیر 6000

 

جسٹس فائزعیسیٰ کیس : صدارتی ریفرنس کےتابوت میں آخری کیل

جسٹس فائزعیسیٰ کیس : صدارتی ریفرنس کےتابوت میں آخری کیل
اپ لوڈ :- سوموار 15 جون 2020
ٹوٹل ریڈز :- 142

 ویب ٖڈیسک ، مانیٹرنگ ڈیسک
 
جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیس کی سوموارکوہونےوالی سماعت کودیکھنےکےبعدیوں لگتاہےکہ جیسےصدارتی ریفرنس کےتابوت میں آخری کیل ٹھونک دی گئی ہےاوربیرسٹرفروغ نسیم کی حالت وہ ہےکہ چودھری صاحب فیرمیں انکارہی سمجھاں ؟
 
ایم جےٹی وی کی جانب سےسماعت کی رپورٹنگ کرتےہوئےمعروف صحافی اوراینکرمطیع اللہ جان کاکہناتھاکہ دس رکنی بنچ کی جانب سےجس قسم کےریمارکس سامنےآئےاورجس قسم کےسوالات پوچھےگئےاس نےسابق وزیرقانون کےہوش اڑاکےرکھ دئیے۔ جسٹس منصورعلی شاہ نےپوچھاکہ اگرایک جج صاحب ایف بی آرکولکھیں کہ مجھےمیری اہلیہ کےاثاثوں کی تفصیلات بتائیں توکیاایف بی آرایساکرےگا؟ جواب میں فروغ نسیم کاکہناتھاکہ سرمیں معلوم کرکےبتاوں گا۔ سوموارکی سماعت میں بیرسٹرفروغ نسیم فاضل بنچ کےسامنےجج کیساہوناچاہیےاورکیسانہیں ہوناچاہیےاس حوالےسےلیکچردیتےرہے۔ 
 
بنچ کےسربراہ جسٹس عمرعطابندیال نےاپنےریمارکس میں کہاکہ پہلےتویہ واضح کریں کہ جج کی نجی زندگی میں کیاشامل ہے۔۔ اس کی اپنی لائف یاپھراس کےبیوی بچوں کی لائف ؟ آپ کہتےہیں کہ جج صاحب نےباہرکی جائیدادنہیں بتائی ۔ آپ کہتےہیں کہ جج کی اہلیہ اوربچےجج کوملنےوالی مراعات سےفائدہ اٹھاتےہیں لیکن آپ نےمراعات کےحوالےسےکینیڈاکاحوالہ نہیں دیاکہ وہاں مراعات سےکیامرادلی جاتی ہے۔ 
 
جسٹس منصورعلی شاہ نےکہا کہ اگرایف بی آرکارروائی بھی کرتاہےتوزیادہ سےزیادہ اثاثےچھپانےکاکیس بنےگا، شادی ہوجانےسےالزام شوہرپرکیسےآسکتاہے؟ فروغ نسیم نےکہاکہ سیاستدانوں پرلازم ہےکہ وہ اپنےبیوی بچوں کےاثاثےشوکرتےہیں ۔ جس پرجسٹس منصورعلی شاہ نےکہا کہ سیاستدانوں کےحوالےسےقانون بناہواہے۔ لیکن ججزکےحوالےسےکوئی قانون دکھائیں کہ جج کی بیوی کوئی غلط کام کرےتوذمہ داری جج پرآجائے۔ فروغ نسیم کی دلیل یہ ہےکہ جج کےحوالےسےکوئی تنازع پیداہوجائےتوبذات خودوہ تنازعہ پیداہوناہی مس کنڈکٹ ہوجاتاہے۔ فروغ نسیم نےکہاکہ جج صاحب کےبارےمیں عام تاثرہےکہ انہوں نےاپنی اہلیہ کےاثاثےچھپائےہیں ۔ جس پرجسٹس منصورعلی شاہ نےکہاکہ سوشل میڈیاکادورہے۔یہاں راتوں رات کسی کاامیج تباہ کردیاجاتاہے۔ 
 
جسٹس باقرنےکہاکہ بڑاسوال یہ ہےکہ کس نےاس پراپرٹی کی خریداری میں پیسےلگائے؟  سماعت کےآخرمیں بنچ کےسربراہ جسٹس عمرعطابندیال نےفیصلہ کن ریمارکس دئیے۔ انہوں نےفروغ نسیم سےمخاطب ہوتےہوئےکہا کہ آپ اپنےریفرنس سےہٹ رہےہیں ۔ ہمیں پتاہےکہ سپریم جوڈیشل کونسل کاکیااختیارہے؟ آپ نےہمیں بتاناتھاکہ سپریم جوڈیشل کونسل کےسامنےجوریفرنس آتاہےوہ محض معلومات ہوتی ہیں یااس سےزیادہ اس کی اہمیت ہوتی ہے؟ آپ نےتاحال پراپرٹی کی سورس آف فنڈنگ کےحوالےسےکوئی واضح میٹریل پیش نہیں کیا۔ کوئی شک نہیں کہ جج کاعہدہ ایک امانت ہوتاہےاورآپ نےثابت کرناہےکہ اس کیس میں اس امانت میں کیسےخیانت کی گئی؟ کسی جج کوایک عمومی تاثرکی بناپراس کےعہدےسےنہیں ہٹایاجاسکتا۔ آپ کےاب تک کےسامنےآنےوالےتمام الزامات میں بدنیتی اوربدعنوانی کاالزام نہیں ہے۔ آپ نےخودکوایف بی آرکےسیکشن 116 سےخودکوالگ کرلیاہے۔ اب جوحقائق پیش کئےجارہےہیں وہ متنازعہ ہیں ۔ فروغ نسیم صاحب آپ نےابھی تک جج کی بدنیتی پرکوئی دلائل نہیں دئیے۔ جسٹس عمرعطابندیال نےکہا کہ ایف بی آرکاسیکشن ون ون سکس جج پریہ ذمہ داری نہیں ڈالتاکہ وہ اپنی اہلیہ کےاثاثےظاہرکرے۔ انہوں نےواضح کردیاکہ ہم براہ راست کسی جج پرلگائےجانےوالےالزامات پرسیکشن ون ون سکس کی تشریح نہیں کرسکتے۔ یہ معاملہ نچلی عدالتوں سےہوتاہواہم تک آئےگاتواسے دیکھ لیں گے۔ آپ نےابھی تک ہمیں ایف بی آرکےجوقواعدبتائےہیں اس میں بھی کہیں نہیں ہےکہ اگرجج کی اہلیہ انڈی پینڈنڈنٹ ہیں توجج اپنی اہلیہ کےاثاثےظاہرکرنےکاپابندہے۔ جسٹس عمرعطابندیال نےواضح الفاظ میں ایڈووکیٹ فروغ نسیم کوبتادیاکہ آپ اب ریفرنس سےبھی پیچھےہٹ گئےہیں اورسپریم جوڈیشل کونسل کےشوکازنوٹس کاسہارالےرہےہیں ۔ ایساہےتوآپ کاکیس کمزورہوگیاہے۔ آپ کواپنےدلائل مکمل کرنےکیلئےمزیددودن دیتےہیں کیونکہ عدالت کےپاس لامحدودٹائم نہیں ہے۔ 
 

Copyright © 2018 News Makers. All rights reserved.