News Makers

تازہ ترین

کورونا وائرس پاکستان میں مصدقہ کیسز
374173
  • اموات 7662
  • سندھ 162227
  • پنجاب 114010
  • بلوچستان 16744
  • خیبرپختونخوا 44097
  • اسلام آباد 26569
  • گلگت بلتستان 4526
  • آزاد کشمیر 6000

 

سینیٹ الیکشن خطرےمیں پڑگئے ۔۔

سینیٹ الیکشن خطرےمیں پڑگئے ۔۔
اپ لوڈ :- منگل 23 فروری 2021
ٹوٹل ریڈز :- 28

ویب ڈیسک ۔۔ سپریم کورٹ میں سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کےدوران اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا کہ بدھ تک کیس مکمل نہ کیا گیا تو3مارچ کوالیکشن کمیشن سینیٹ انتخابات نہیں کرواسکےگا۔
 
پیپلز پارٹی کے وکیل سینیٹر رضا ربانی نے دلائل میں کہا کہ آئین ووٹ ڈالنے والے کی شناخت ظاہر کرنے کی اجازت نہیں دیتا، جہاں ووٹوں کی خریدو فروخت ہوگی، قانون اپنا راستہ بنائے گا، کرپشن ووٹنگ سے پہلے ہوتی ہے تو اس کے لیے ووٹ دیکھنے کی ضرورت نہیں۔
 
اس موقع پر  جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ایسا طریقہ بھی بتا دیں کہ ووٹ دیکھا بھی جائےاور سیکریریسی بھی متاثر نہ ہو، اگر معاہدہ ہو کہ آدھی رقم ووٹ ڈالنے کے بعد ملے گی تو پھر کیا ہوگا؟
 
چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ قانون مکمل طور پر معصوم اور اندھا ہوتا ہے، اس پر بدنیتی سے عمل ہو تو مسائل جنم لیتے ہیں، کیا ایسا کوئی نظام نہیں کہ معلوم ہو سکے کس نےکس کو ووٹ دیا؟ رشوت ووٹ سے جڑی ہے تو اس کا جائزہ کیسے نہیں لیا جاسکتا؟ ہر شخص کرپشن اور کرپٹ پریکٹس کے خلاف ہے،اس ساری مشق کو ضائع نہیں جانےدینا چاہتے۔
 
دورانِ سماعت اٹارنی جنرل پاکستان نے سماعت جلد مکمل کرنے کی استدعا کی اور کہا بدھ تک کیس مکمل نہ کیا گیا تو 3 مارچ کو الیکشن کمیشن انتخابات نہیں کروا سکے گا۔سپریم کورٹ میں سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کےدوران اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا کہ بدھ تک کیس مکمل نہ کیا گیا تو3مارچ کوالیکشن کمیشن سینیٹ انتخابات نہیں کرواسکےگا۔
 
پیپلز پارٹی کے وکیل سینیٹر رضا ربانی نے دلائل میں کہا کہ آئین ووٹ ڈالنے والے کی شناخت ظاہر کرنے کی اجازت نہیں دیتا، جہاں ووٹوں کی خریدو فروخت ہوگی، قانون اپنا راستہ بنائے گا، کرپشن ووٹنگ سے پہلے ہوتی ہے تو اس کے لیے ووٹ دیکھنے کی ضرورت نہیں۔
 
اس موقع پر  جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ایسا طریقہ بھی بتا دیں کہ ووٹ دیکھا بھی جائےاور سیکریریسی بھی متاثر نہ ہو، اگر معاہدہ ہو کہ آدھی رقم ووٹ ڈالنے کے بعد ملے گی تو پھر کیا ہوگا؟
 
چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ قانون مکمل طور پر معصوم اور اندھا ہوتا ہے، اس پر بدنیتی سے عمل ہو تو مسائل جنم لیتے ہیں، کیا ایسا کوئی نظام نہیں کہ معلوم ہو سکے کس نےکس کو ووٹ دیا؟ رشوت ووٹ سے جڑی ہے تو اس کا جائزہ کیسے نہیں لیا جاسکتا؟ ہر شخص کرپشن اور کرپٹ پریکٹس کے خلاف ہے، اس ساری مشق کو ضائع نہیں جانے دینا چاہتے۔
 
دورانِ سماعت اٹارنی جنرل پاکستان نے سماعت جلد مکمل کرنے کی استدعا کی اور کہا بدھ تک کیس مکمل نہ کیا گیا تو 3 مارچ کو الیکشن کمیشن انتخابات نہیں کروا سکے گا۔

Copyright © 2018 News Makers. All rights reserved.