News Makers

تازہ ترین

کورونا وائرس پاکستان میں مصدقہ کیسز
374173
  • اموات 7662
  • سندھ 162227
  • پنجاب 114010
  • بلوچستان 16744
  • خیبرپختونخوا 44097
  • اسلام آباد 26569
  • گلگت بلتستان 4526
  • آزاد کشمیر 6000

 

کیانوازشریف پرغداری کاپرچہ کاٹنےاورکٹوانےوالےدونوں تہجدگزارتھے؟

کیانوازشریف پرغداری کاپرچہ کاٹنےاورکٹوانےوالےدونوں تہجدگزارتھے؟
اپ لوڈ :- بدھ 07 اکتوبر 2020
ٹوٹل ریڈز :- 111

ویب ڈیسک ۔۔ جیونیوزکے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“ میں میزبان علینہ فاروق شیخ کےاس سوال پرکہ نواز شریف پر غداری کے مقدمہ پروزیراعظم عمران خان کا اظہار ناپسندیدگی، حکومتی پالیسی کیا ہے؟ کا جواب دیتے ہوئے تجزیہ کاروں کاکہناتھاکہ حکومت نواز شریف کے قانونی ٹرائل کے بجائےان کامیڈیا ٹرائل کرنا چاہتی ہے،رات کے جس پہر مقدمہ درج ہوا شاید وہ پولیس والاتہجد گزارتھا جواس وقت اٹھا ہوا تھا ۔۔ 
 
ماہرقانون اورتجزیہ کاربابر ستار نے کہا کہ ریاست کیخلاف کچھ جرائم ایسے ہیں جس میں صرف ریاست ہی مقدمہ درج کرواسکتی ہے، پولیس نے ایک شہری کے کہنے پر بغاوت کی ایف آئی آر کیسے کاٹ دی اس پر سوال اٹھتا ہے؟ حکومت نواز شریف کا قانونی ٹرائل کرنے کے بجائے میڈیا ٹرائل کرنا چاہتی ہے۔۔ ہمارا سوشل کانٹریکٹ ایسا ہے جس میں ریاست سمجھتی ہے کہ اسے شہریوں کو ڈرا کر رکھنا ہے، اس میں قانون کا مذاق اڑا یا جاتا اور بطور ٹول استعمال کیا جاتا ہے۔
 
ارشاد بھٹی کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن بھی ماضی میں سیاستدانوں اور صحافیوں پر غداری کے الزامات لگاتی رہی ہے، آج بھی اپنے خلاف غداری کے مقدمہ کی مذمت کرتے ہوئے ساتھ عمران خان کو غدار کہہ دیتے ہیں، نواز شریف سے بینظیر بھٹو اور عمران خان تک سب محب وطن ہیں، عمران خان صبح اخبار پڑھتے رات میں ٹی وی دیکھتے ہیں البتہ دفتر میں سارا دن اسپورٹس چینل لگا ہوتا ہے۔
 
حسن نثار نے کہا کہ تھانیدار نے شاید شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار بننے کیلئے نواز شریف کیخلاف بغاوت کا پرچہ کاٹ دیا ہوگا۔
 
منیب فاروق کا کہنا تھا کہ ریاست کے علاوہ کوئی بغاوت کا مقدمہ درج نہیں کرواسکتا ہے، رات کے جس پہر مقدمہ درج ہوا شاید وہ اے ایس آئی تہجد گزار تھا جو اٹھا ہوا تھا، درخواست گزار بھی شاید تہجد گزار تھا کہ رات ڈھائی بجے مقدمہ درج کروانے تھانے پہنچ گیا، اگر اپوزیشن واقعی فارغ ہے تو حکومت مایوسانہ اقدامات کیوں اٹھارہی ہے۔

ٹیگز

Copyright © 2018 News Makers. All rights reserved.