News Makers

تازہ ترین

کورونا وائرس پاکستان میں مصدقہ کیسز
374173
  • اموات 7662
  • سندھ 162227
  • پنجاب 114010
  • بلوچستان 16744
  • خیبرپختونخوا 44097
  • اسلام آباد 26569
  • گلگت بلتستان 4526
  • آزاد کشمیر 6000

 

کیاکوروناوائرس سانس کےذریعےپھیلنےکی صلاحیت رکھتاہے؟

کیاکوروناوائرس سانس کےذریعےپھیلنےکی صلاحیت رکھتاہے؟
اپ لوڈ :- اِتوار 05 اپریل 2020
ٹوٹل ریڈز :- 211

خصوصی تحقیقاتی رپورٹ۔۔

جب سےکوروناوائرس جیسی مہلک وبانےدنیاکواپنی لپیٹ میں لیاہے ، ہرکوئی اس بیماری کےحوالےسےایک دوسرےسےطرح طرح کےسوال پوچھ رہاہے۔ اورتواوراس کےعلاج کیلئےبھی ایسےایسےٹوٹکےاورٹونےسوشل میڈیاکےذریعےشیئرکئےجارہےہیں کہ بندہ اپناسرپکڑلیتاہےکہ

کرےتوکیاکرے؟

خیر ۔۔ نفسانفسی کےاس عالم میں ایک سوال ایساہےجوبہت جینوئن ہے۔ ہے۔ وہ ملین ڈالرسوال ہے کہ کیاکوروناوائرس ہوامیں معلق رہنےاورسانس کےذریعےایک سےدوسرےانسان کولگنےکی صلاحیت رکھتاہے؟

 آئیےسائنس ہی کی روشنی میں اس سوال کاجواب جاننےکی کوشش کرتےہیں ۔

دوستو ، آپ جانتےہیں کہ امریکاجیساطاقتورملک بھی کوروناوائرس کی بھیانک لپیٹ میں ہےاورصدرٹرمپ امریکیوں کوماسک لازمی پہننےکےحوالےسےایک پالیسی کااعلان کرنےوالےہیں ۔ ایسےمیں کچھ امریکی ماہرین نےسائنسی امورپرصدرٹرمپ کےمشیرکوایک خط بھیجاہےجس میں لکھاگیاہےکہ کوروناوائرس کی بیماری کسی کےباہرچھوڑےگئےسانس سےبھی لگ سکتی ہے۔ یعنی دوسرےلفظوں میں یہ کہ کوروناوائرس ہوامیں معلق رہنے(ائیربورن)کی صلاحیت رکھتاہے۔

یہ خط اکیسویں صدی میں صحت کولاحق خطرات اورچھوت کی بیماریوں پربنائی گئی قائمہ کمیٹی کےسربراہ ڈاکٹرہاروی فائن برگ کی جانب سےلکھاگیاہے۔ ڈاکٹرفائن برگ جوامریکامیں میڈیکل سائنس کےشعبےمیں ایک جانامانانام ہیں اس خط میں مزیدلکھتےہیں کہ حال ہی میں کی جانےوالی تحقیق سےیہ بات ثابت ہوتی ہےکہ کووڈ نائنٹین کی بیماری سانس کےذریعےبھی پھیل سکتی ہے۔ یعنی کوروناسےمتاثرہ کوئی شخص کھلی ہوامیں سانس لےتوممکن ہےاس بیماری کےجرثومےہوامیں معلق ہوجائیں جوکسی دوسرےانسان کواپنی لپیٹ میں لےلیں ۔

 ڈاکٹرفائن برگ کےخط میں یونیورسٹی آف نبراسکامیڈیکل سینٹرکی جانب سےکی جانےوالی ایک تحقیق کاحوالہ دیاگیاہےجس کےمطابق وہ آئسولیشن مراکزجہاں کوروناکےمریضوں کاعلاج کیاگیاوہاں سےاس بیماری کےجراثیم ملے۔ اسی طرح چین کےشہرووہان اوراس کےاسپتالوں سےبھی اسی قسم کی باقیات ملی ہیں ۔

یہ توہوگیاڈاکٹرفائن برگ کاموقف لیکن ماہرین کاایک گروپ ایسابھی جوڈاکٹرفائن برگ سےمتفق نہیں۔ مخالف رائےرکھنےوالےماہرین کےمطابق آئسولیشن مراکزاورووہان شہرسےجوبیماری کی جوباقیات ملی ہیں انہیں تاحال کسی کسوٹی پرٹھیک طرح سےپرکھانہیں گیااوریہ کہ بیماری کی باقیات بظاہرایسی نہیں لگتیں کہ جوکسی دوسرےانسان کومتاثرکرنےکی صلاحیت رکھتی ہوں ۔

 یونیورسٹی آف نبراسکامیڈیکل سینٹرکےچھوتی بیماریوں پرریسرچ ونگ کےسربراہ ڈاکٹرمارک روپ کےمطابق مختلف مقامات سےجمع کئےگئےکوروناوائرس کےسیمپلزپرتجربات جاری ہیں اوریہ کہناقبل ازوقت ہوگاکہ یہ بیماری انسانی سانس کےذریعےیاانسانوں کےایک دوسرےسےبات چیت کےذریعےبھی پھیلنےکی صلاحیت رکھتی ہے۔ ڈاکٹرروپ کامانناہےکہ ڈاکٹرفائن برگ نےجونتائج اخذکئےہیں وہ محض اندازوں پرمبنی ہیں اورتاحال سائنس کی کسی مستندکسوٹی سےثابت شدہ نہیں ۔ ڈاکٹرروپ نےدوٹوک الفاظ میں کہاہےکہ کوروناوائرس ہوامیں معلق ہونےیاپھراس کےذریعےپھیلنےکی قطعاًصلاحیت نہیں رکھتا۔ اس لئےہمیں ادھرادھرتوجہ دینےکی بجائےاس وائرس کوپھیلنےسےروکنےکی درست حکمت عملی بنانی چاہیےاوریہ پتاچلاناچاہیےکہ اصل میں یہ وائرس ایک سےدوسرےانسان میں منتقلی کیلئےکیاطریقہ کاراختیارکرتاہے؟

نوٹ: (اس خبرکےبیان کئےگئےحقائق اورحوالےفوربزمیں شائع ہونےوالی خبرسےلئےگئےہیں ۔) 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Copyright © 2018 News Makers. All rights reserved.