News Makers

تازہ ترین

کورونا وائرس پاکستان میں مصدقہ کیسز
374173
  • اموات 7662
  • سندھ 162227
  • پنجاب 114010
  • بلوچستان 16744
  • خیبرپختونخوا 44097
  • اسلام آباد 26569
  • گلگت بلتستان 4526
  • آزاد کشمیر 6000

 

ججزکےخلاف ریفرنس میں کیاہے؟

ججزکےخلاف ریفرنس میں کیاہے؟
اپ لوڈ :- سوموار 03 جون 2019
ٹوٹل ریڈز :- 178

لاہور: (ویب ڈیسک) وفاقی حکومت نے صدارتی ریفرنس میں سپریم کورٹ کے سینئر جج ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس کے کے آغا پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں اور یہ سمجھا جارہا ہے کہ معزز ججوں نے بڑی غلطی کا ارتکاب کیا ہے لہٰذا انہیں سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارشات پر عہدے سے ہٹادیا جانا چاہیئے۔
 
صدارتی ریفرنس جس کی نقل دی نیوز کے پاس موجود ہے ، اس میں انکشاف ہوا ہے کہ حکومت نے اپنے ریفرنس میں الزام عائد کیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے بیرون ملک جو جائدادیں بنائی ہیں ، اس کے ذرائع معلوم نہیں ہیں۔جب کہ سندھ ہائیکورٹ کے جج جسٹس کے کے آغا اپنی غیر ملکی جائداد کی قیمت ظاہر کرنے میں ناکام رہے ہیں۔لہٰذا سپریم جوڈیشل کونسل کو اس معاملے کی تحقیقات کرانا چاہیئےکہ یہ جائدادیں کہیں منی لانڈرنگ کے ذریعے تو حاصل نہیں کی گئیں۔
 
وفاقی حکومت نے اپنے صدارتی ریفرنس میں یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ اعلیٰ عدالت کے جج نےاپنی اہلیہ کی بیرون ملک جائدادوں کو چھپاکرقانون کی خلاف ورزی کی ہے اور ایسا کرکے سپریم کورٹ کے معزز جج نے ججوں کے ضابطہ اخلاق کے آرٹیکل اور کی خلاف ورزی بھی کی ہے۔صدارتی ریفرنس کے مطابق، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سنگین بے قاعدگیرتکب ہوئے ہیں لہٰذا آئین کے آرٹیکل 209کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر انہیں عہدے سے ہٹادیا جانا چاہئے۔
 
ریفرنس کے مطابق، عبدالوحید ڈوگر نامی ایک شہری نے وزیر اعظم کے اثاثہ بازیابی یونٹ میں 10اپریل،2019کو ایک شکایت جمع کرائی۔جس میں یہ معلومات فراہم کی گئی تھیں کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور دو دیگر ججز کی بیرون ممالک جائدادیں ہیں۔جس کے بعد اے آر یو نے اپنی تحقیقات شروع کیں۔ وزیر اعظم دفتر نے 28روز کے اندر نہ صرف اپنی تحقیقات مکمل کرلیں بلکہ پاکستان اور برطانیہ کے حقائق کی توثیق بھی کرلی۔اس مدت میں وزیر اعظم دفتر نے ججوں کی بیرون ملک جائدادوں سے متعلق سرٹیفائڈ دستاویزات لندن میں پاکستان کے ہائی کمیشن کے ذریعے حاصل کیے۔انہوں نے ایف آئی اے اور ایف بی آر سے بھی اس بات کی تصدیقکرائی کہ اعلیٰ عدلیہ کے ممبرز نے یہ جائدادیں ظاہر نہیں کی ہیں۔

Copyright © 2018 News Makers. All rights reserved.