News Makers

تازہ ترین

کورونا وائرس پاکستان میں مصدقہ کیسز
374173
  • اموات 7662
  • سندھ 162227
  • پنجاب 114010
  • بلوچستان 16744
  • خیبرپختونخوا 44097
  • اسلام آباد 26569
  • گلگت بلتستان 4526
  • آزاد کشمیر 6000

 

کیاحکومت نوازشریف کوواپس لانےمیں کامیاب ہوپائےگی ؟

کیاحکومت  نوازشریف کوواپس لانےمیں کامیاب ہوپائےگی ؟
اپ لوڈ :- اِتوار 23 اگست 2020
ٹوٹل ریڈز :- 111

نوازشریف کےبظاہرسیاست میں سرگرم ہوتےہی لگتایوں ہےکہ جیسےوہ غیرتحریری معاہدہ یاانڈرسٹینڈنگ بھی دم توڑگیاہےجس کےتحت سابق وزیراعظم کوسزایافتہ مجرم ہونےکےباوجودملک سےباہرجانےکی اجازت دی گئی۔ یہی وجہ ہےکہ حکومت ، نیب اوراس کےماتحت ادارےنوازشریف کولندن سےوطن واپس لانےکیلئےسرگرم ہوچکےہیں ۔لیکن سوال یہ پیداہوتاہےکہ کیااپنےتمامتروسائل کواستعمال کرکےبھی حکومت ایساکرنےمیں کامیاب ہوجائےگی ۔ اس میں شک نہیں کہ نوازشریف کولندن سےوطن واپس لاناحکومت کیلئےکسی کٹھن امتحان سےکم نہیں ۔ 
 
 اس حوالےسےپریس کانفرنس کرتےہوئےمشیرداخلہ شہزاداکبرکاکہناتھاکہ نواز شریف کو علاج کے لیے 8ہفتے کیلئےبیرون ملک جانےاورعلاج کروانےکی اجازت دی گئی تھی،انہوں نےاس دوران ایک ٹیکا بھی نہيں لگوایا، نواز شریف کو وطن واپس لانے کے لیےحکومت تمام قانونی راستے اختیارکرےگی۔
 
شہزاد اکبر نے کہا کہ ایک سزایافتہ مجرم کا لندن کی سڑکوں پر گھومنا نظامِ انصاف کے ساتھ مذاق اور اس کے منہ پر طمانچہ ہے، نیب سے کہیں گے نواز شریف کو بطور سزا یافتہ مجرم وطن واپس لانے کےلیے کارروائی شروع کرے،نوازشریف کےضمانتی شہباز شریف سے بھی پوچھا جائے گا۔
 
 شہزاد اکبرنےکہاکہ نواز شریف کی طبیعت ٹھیک ہےاورانہیں واپس آکر اپنی سزا پوری کرنی چاہیے، پیرول پر رہائی محدود مدت کے لیے ہوتی ہے، نوازشریف کو 2کیسز میں سزا ہوچکی ہے اور وہ لندن کی سڑکوں پر مزے سے گھوم پھر رہے ہیں۔
 
اس پریس کانفرنس کےجواب میں مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کاکہناہےکہ عمران خان نیب کوسیاسی ہتھیارنہ بنائیں ، نوازشریف تمام قانونی تقاضےپورےکرکےباہرگئے۔ واپس ہی لاناہےتوجہانگیرترین کوواپس لائیں ، اورچینی سکینڈل کےذمہ دارعثمان بزدارکےخلاف ایکشن لیں ۔ عمران خان کی سیاست نوازشریف سےشروع ہوکرنوازشریف پر ہی ختم ہوجاتی ہے۔ 
 
حکومت اوراپوزیشن کی اس توتکارسےباہرآتےہوئےہم ایک بارپھراپنےملین ڈالرسوال کی جانب آتےہیں کہ کیایہ حکومت نوازشریف کوواپس لاپائےگی ؟ مجھ ناچیزسےاس سوال کاجواب پوچھیں توجواب ہے ناں ۔ اس ناں کوثابت کرنےکیلئےہمیں ماضی قریب میں حکومت کی اسی قسم کی کوششوں پرایک نظرڈالنی ہوگی ۔ 
 
آپ کویادہوگاکہ اس حکومت نےسابق وزیرخزانہ اسحاق ڈارکولندن سےواپس لانےکی سرتوڑکوشش کی لیکن برطانوی حکومت نےانہیں واپس بھجوانےسےمعذرت کرلی ۔ اسحاق ڈارکےعلاوہ اس قسم کی کوششیں شہبازشریف کےبیٹےسلمان شہبازاوران کےداماد علی کیلئےبھی کی جاچکی ہیں لیکن تاحال کسی میں بھی کامیابی نہیں ملی ۔ اس کی ایک وجہ تویہ ہےکہ پاکستان اوربرطانیہ میں تحویل مجرمان کامعاہدہ نہیں اوردوسرےبرطانوی حکومت جب پاکستان سےان افرادکی حوالگی کیلئےٹھوس تحریری وجوہات کاتقاضاکرتی ہےتوپاکستان کی حکومت برطانوی حکام کوقائل نہیں کرپاتی ۔ ابھی حال ہی میں ایم کیوایم کےبانی کی پاکستان حوالگی کامطالبہ بھی کیاگیاہےجس کاانجام بھی کم وبیش ویساہی ہوگاجیسااس قسم کی کوششوں کااس سےپہلےہواہے۔
 
لہٰذااس بات پرتوہمیں چاروناچارقائل ہوناہوگاکہ نوازشریف کوان کی مرضی کےبغیرپاکستان لانابہت مشکل ہوگااوراس مشکل کااعتراف خودحکومت کےوزیرشیخ رشیدبھی کرچکےہیں ۔ اب نوازشریف کی وطن واپسی کاایک ہی طریقہ ہےکہ یاتووہ خودیہ فیصلہ کرلیں یاپھرالعزیزیہ ریفرنس میں انہیں سنائی جانےوالی سزاکوکالعدم قراردےدیاجائے۔ ویسےحسن اتفاق ہےکہ العزیزیہ ریفرنس میں سنائی جانےوالی سزاکےخلاف نوازشریف کی اپیل اسلام آبادہائیکورٹ میں سماعت کیلئےمقررکی جاچکی ہے۔

Muhammad Zaheer

The author is a journalist. He is currently working for a news channel.

Muhammad Zaheer مزید تحریریں

Muhammad Zaheer

Copyright © 2018 News Makers. All rights reserved.