News Makers

تازہ ترین

کورونا وائرس پاکستان میں مصدقہ کیسز
374173
  • اموات 7662
  • سندھ 162227
  • پنجاب 114010
  • بلوچستان 16744
  • خیبرپختونخوا 44097
  • اسلام آباد 26569
  • گلگت بلتستان 4526
  • آزاد کشمیر 6000

 

ریوڑیاں اپنوں میں بانٹی جارہی ہیں

ریوڑیاں اپنوں میں بانٹی جارہی ہیں
اپ لوڈ :- منگل 11 جون 2019
ٹوٹل ریڈز :- 370

جہاں کرپشن کا زہر رگوں میں سرائیت کرچکا ہے وہاں اقرباء پروری نےبھی معاشرے کے خدوحال بگاڑ دیئے ہیں۔ اس بیماری میں سابق حکومتیں مبتلا رہیں تو موجودہ دور بھی ان امراض سےشفایاب نہیں ہوسکا۔ وزیرمملکت برائے موسمیات زرتاج گل کی طرف سے اپنی بہن شبنم گل کی نیکٹا میں تعیناتی کامعاملہ زبان زد عام ہے۔لیکن یہ پہلا  واقعہ نہیں،موجودہ حکومت میں ایسے لاتعداد  واقعات ملتے ہیں۔  

پرانے پاکستان میں حصول ملازمت کیلئے اول خویش بعد درویش  میرٹ تھا یعنی پہلے اپنے لوگوں کوترجیح دی جائے اور پھر کچھ ملازمتیں بچ جائیں تو اہلیت اور قابلیت کی بنیاد پر بانٹ دی جاتی تھیں۔ نئے پاکستان میں  اول وآخر شرط یہی رکھی گئی ہے کہ امیدوار پکا انصافیا ہو۔  نئے پاکستان میں اپنے لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کا یہ فارمولا دکھائی دیتا ہے کہ صوبائی سطح پر کام کرنےوالی ایک کمیٹی فہرستیں تیار کرتی ہے،جس کی " اوپر" سے منظوری کےبعد  رسمی کارروائی پوری کر کے تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض تقرریوں کے لئے تو اشتہار دینے کا تکلف بھی نہیں کیا گیا۔ جیسے پی ٹی آئی کی ورکر سارہ احمد کو چائلڈ پروٹیکشن بیورو کا چیئر پرسن مقرر کیا گیا ۔ فاطمہ چدھڑ کو پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کا چیئر پرسن لگایا گیا ۔ انصاف اسٹودنٹس فیڈریشن کے سابق صدر حافظ فرحت عباس ٹیکنیکل  ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (ٹیوٹا)کے چیئرمین کا عہدہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ شیخ محمد عمران کو ایل ڈی اے کا وائس چیئرمین مقرر کیا گیا۔ میاں محمودالرشید کے سابق پی آر او حافظ ذیشان کو پی ایچ اے کا وائس چیئرمین لگایا گیا۔ وفاقی وزیر فواد چوہدری کے بھائی فیصل فرید حسین کو ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا عہدہ دیا گیا۔پنجاب کے وزیرِ زراعت نعمان لنگڑیال نے اپنے بہنوئی نوید انور بھنڈر کو پنجاب ایگری کلچرل مارکیٹنگ ریگولیٹری کمپنی میں بیٹھادیا۔

خودمختار اداروں اور سرکاری کمپنیوں میں پی ٹی آئی  کے ارکان اسمبلی کوبھی  بھاری مشاہرے پر تعینات کرنےکی فہرست  کافی طویل ہے۔ راولپنڈی سے رکن صوبائی اسمبلی واسق قیوم عباسی کو پنجاب ایجوکیشن فاونڈیشن کا چیئرمین تعینات کیا گیا ۔ سردار محسن لغاری جو راجن پور سے پی ٹی آئی کے ایم پی اے ہیں، انہوں نے پنجاب ایری گیشن اینڈ ڈرینج اتھارٹی کی کمان سنبھالی۔ فیصل آباد سے تحریکِ انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی شکیل شاہد کو فیصل آباد ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کا چیف ایگزیکٹو آفیسر تعینات کیا گیا۔

 وہ  پارٹی رہنما  جو الیکشن نہیں جیت سکے یا پھر ٹکٹ نہ ملنے پر قیادت سے ناراض تھے، اُنہیں بھی کافی کچھ مل گیا ۔ پنجاب کے تمام بڑے شہروں میں ڈویلپمنٹ اتھارٹیز، پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹیز، ویسٹ مینجمنٹ کمپنیاں ہوں یا پھر واسا، اُن کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کے عہدوں پر پارٹی سے وابستہ سابق ارکان اسمبلی  اور رہنماوں کو براجمان کیا گیا۔  راولپنڈی سے سابق ارکان صوبائی اسمبلی عارف عباسی اور آصف محمود، جنہیں ٹکٹ نہیں مل سکا تھا، ان میں سے ایک کو راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی جبکہ دوسرے کو پی ایچ اے کا چیئرمین لگایا گیا ۔ تحریکِ انصاف بہاولپور خواتین ونگ کی صدر شہلا احسن جنہیں ٹکٹ نہیں ملا تھا، انہیں  پارکس اینڈ ہارٹیکلچر کا چیئرمین تعینات  کیا گیا۔ سرگودھا سے ممتاز احمد کاہلوں کو  پہلے متروکہ وقف اِملاک بورڈ کا چیئرمین لگانے کی تجویز تھی مگر پھر اُنہیں سرگودھا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا چیئرمین بنا دیا گیا۔ ڈاکٹر اسد معظم جو الیکشن ہار گئےتھے، اُنہیں فیصل آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا چیئرمین لگایا گیا ۔ فیصل آباد سے ہی پی ٹی آئی کے رہنما شیخ شاہد جنہیں ٹکٹ نہیں ملا تھا، اُنہیں وائس چیئرمین واسا بنادیا گیا ۔ عامر رحمان کو گوجرانوالہ  ڈویلپمنٹ اتھارٹی، رانا جبار کو ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی جبکہ عامر ملک کو بہاولپور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا چیئرمین تعینات کیا گیا۔ اِسی طرح لطیف نذیر کو پی ایچ اے فیصل آباد، یاسر گیلانی کو پی ایچ اے لاہور، اعجاز جنجوعہ کو پی ایچ اے ملتان، سعداللہ ایڈووکیٹ کو پی ایچ اے سرگودھا جبکہ ذوالفقار احسن کو پی ایچ اے سیالکوٹ کا چیئرمین لگا دیا گیا۔آج بھی  ریوڑیاں اپنوں میں ہی بانٹی جارہی ہیں۔

میرٹ کہیں یا اقرباء پروری ؟اس نظام میں ملازمتیں دینے کی غرض سے چار رُکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس میں ارشد داد، اعجاز چوہدری، کرنل(ر) اعجاز منہاس اور چوہدری سرور شامل تھے۔ چوہدری سرور نے اپنی مصروفیات کے باعث رابعہ ضیا کو اپنی جگہ اِس کمیٹی کا ممبر نامزد کیا۔پھر اِس کمیٹی نے سب کی مشاورت کے بعد فہرستیں تیار کی تھیں  کہ کسے کونسی نوکری دی جائے گی لیکن جہانگیر ترین کے سامنے اِس کمیٹی کی ایک نہ چلی اور پھر چوہدری سرور کی نامزد کردہ رابعہ ضیا کو گُڈ گورننس کمیٹی سے نکال دیا گیا۔یہ وہ حقائق ہیں جنہیں  جھٹلانا ممکن نہیں،پھربھی  وزیراعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق کہہ رہے ہیں کہ  سفارش پر تقرریاں پی ٹی آئی کی روایات  کے خلاف  ہے، پی ٹی آئی حکومت میں کوئی شخص اپنے عزیز و اقارب کو فائدہ نہیں پہنچا سکتا، تحریک انصاف نے ہمیشہ اقربا ءپروری کی مخالفت کی اس لئے حکومتی شخصیات عہدوں کا فائدہ اٹھا کر رشتہ داروں کو نواز نہیں سکتیں۔نعیم الحق کی باتیں یونہی ہیں جیسے "ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن، دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے"۔

دوسری طرف  نو ماہ کی کارکردگی میں ایک بھی ایسا کارنامہ نہیں جس کا سہرا حکومت کو پہنایا جا سکے۔ کوئی ایسا پروجیکٹ نہیں جس پر فخر کیا جا سکے۔ معاشیات سے سماجیات تک  ہر شعبہ زوال کا شکار ہے۔کوئی اثبات کا پہلو اگر نظر آجائے تو اس کو ضرور جلی حروف میں لکھنا چاہئے مگر آج  نہ غریبوں کا کوئی پرسان حال ہے  نہ بڑھتی قیمتوں کی کوئی روک تھام ہے، نہ معیشت کا کوئی نظام ہے، نہ اسٹاک مارکیٹ مندی سے نکل رہی ہے، نہ برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے، نہ درآمدات میں خاطر خواہ کمی ہو رہی ہے،نہ ڈھائی کروڑ بچے اسکول گئے ہیں نہ انہیں اسکول نصیب ہوئے ہیں، نہ اسپتال تعمیر ہوئے ہیں، نہ پولیس کا نظام تبدیل ہوسکا ، نہ اقربا پروری ختم ہوئی ہے ، نہ باہر سے لوگوں نے آکر پاکستان میں ملازمتیں شروع کی ہیں، نہ سبز پاسپورٹ کو عزت ملی ہے، نہ فی الحال ایک کروڑ نوکریاں دستیاب ہوئی ہیں ،نہ پچاس لاکھ گھر بنے ہیں، نہ پشاور کی بی آر ٹی تعمیر ہوئی ہے اورنہ ہی  بلوچستان میں امن ہوا ہے۔

mughal_khalil@ymail.com

Khalil Mughal

Mr. Khalil Mughal is a senior journalist with a long career. He has served in the leading media organizations in Pakistan. Currently, he is associated with Express News.

Khalil Mughal مزید تحریریں

Khalil Mughal

Copyright © 2018 News Makers. All rights reserved.