News Makers

تازہ ترین

کوروناوائرس : متاثرہ افراداورشعبوں کیلئےوزیراعظم کابڑاریلیف پیکیج

کوروناوائرس : متاثرہ افراداورشعبوں کیلئےوزیراعظم کابڑاریلیف پیکیج
اپ لوڈ :- منگل 24 مارچ 2020
ٹوٹل ریڈز :- 74

  ویب ڈیسک ۔۔
 
وزیراعظم عمران خان نے ملک میں کورونا وائرس کےباعث معاشی اورکاروباری سرگرمیوں کوہونےوالےنقصانات کےازالےکےلئےمختلف شعبوں کے لیے ریلیف پیکیج کا اعلان کردیا۔
 
صحافیوں کےایک گروپ کوریلیف پیکیج کےحوالےسےبریف کرنےسےپہلےانہوں نےایک مرتبہ پھرملک میں کرفیونمالاک ڈاون کی مخالفت کرتےہوئےکہاکہ سب سے زیادہ خطرہ آج ہمیں کورونا سے نہیں ہے بلکہ کورونا سے خوف میں مبتلاہوکرغلط فیصلے کرنے سے ہے۔ ہمیں اپنے ملک کے حالات دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ ہم جو فیصلہ کریں گے کہیں اس کے اثرات  معاشرے میں کورونا سے زیادہ تباہی تو نہیں مچا دیں گے؟
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ لاک ڈآن کی آخری قسم کرفیو ہے، کرفیو لگانے سے معاشرے پرپڑنےوالے اثرات کےبارےمیں ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔ مکمل کرفیو لگانے سے نقصان امیر کو نہیں بلکہ کچی بستیوں میں رہنے والے غریبوں کو ہو گا۔ ہمیں اپنے غریبوں کے بارے میں سوچنا ہے کہ وہ ان حالات میں کہاں سے اپنے گھر کا چولہا جلائیں گے، ہمارے معاشی حالات اٹلی اور چین جیسے ہوتے تو کرفیو لگانا آسان ہوتا۔
 
 
مزدوراورایکسپورٹ انڈسٹری کیلئےریلیف پیکیج
انہوں نے ریلیف پیکج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے مزدور طبقے کے لیے 200ارب روپے مختص کیے ہیں اور اس علاوہ ہم صوبوں سے مشاورت کر رہے ہیں اور ان کے ساتھ مل کر بے روزگار ہونے والے مزدوروں کے لیے کاروباری برادری سے بھی بات کر رہے ہیں کہ وہ صنعت بند ہونے کی صورت میں انہیں نوکریوں سے فارغ نہ کریں۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ اور انڈسٹری سب سے زیادہ متاثر ہے اور ان کے لیے ہم نے دو فیصلے کیے ہیں جس کے تحت انہیں فوری طور پر 100ارب کے ٹیکس ری فنڈ کر دیے جائیں گے تاکہ ان کے پاس فوری طور پر رقم میسر ہو تاکہ یہ اپنے مزدوروں پر بھی خرچ کر سکیں۔
 
 
چھوٹی، درمیانی صنعت اورزراعت کیلئےپیکیج
وزیراعظم نے کہا کہ چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعت کے لیے ساتھ ساتھ زراعت کے لیے 100ارب روپے رکھے ہیں اور ان کے قرض پر سود کی ادائیگی موخر کردیںگے جبکہ ان کو رعایتی قرض بھی دیا جائے گا اور اس کے علاوہ کسانوں کےلیے ہم نے اس میں پیسا رکھا ہے۔
 
 
خط غربت سےنیچےزندگی گزارنےوالے
عمران خان نے کہا کہ ہم سب سے زیادہ مشکل حالات میں زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے 4مہینے کے لیے150ارب روپے رکھ رہے ہیں جس کے تحت ان خاندانوں کو 3ہزار روپے ماہوار دیے جائیں گے اور ہماری کوشش ہو گی کہ اس میں صوبے بھی ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں تاکہ ہم ان کی مزید مدد کر سکیں۔
عمران خان نے کہا کہ ہم پناہ گاہوں میں توسیع کریں گے کیونکہ جو موجودہ پناہ گاہوں میں بہت رش ہے اور ہم بہت زیادہ احتیاط کے ساتھ ان کی مکمل چیکنگ کر کے دیکھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں بیروزگاری کو دیکھتے ہوئے پناہ گاہوں میں توسیع کریں گے تاکہ لوگ وہاں آ کر کھانا کھا سکیں اور رہ سکیں لیکن اس بات خیال رکھا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس سے ان کی مکمل چیکنگ کے بعد اندر آنے دیا جائے۔
 
 
یوٹیلیٹی اسٹورزکیلئےپیکیج
وزیر اعظم نے یوٹیلیٹی اسٹورز کے لیے بھی 50ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا تاکہ یوٹیلٹی اسٹور میں مستقل چیزیں رہیں اور عام آدمی اس سے کھانے پینے کی چیزیں خرید سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے گندم کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے 280ارب روپے رکھے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس سے کسانوں کے ہاتھ میں  پیسہ آئے گا اور کم از کم ہمارے دیہاتی علاقوں میں حالات بہتر رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے کھانے پینے چیزیں مثلاً دال چاول، گھی وغیرہ پر ٹیکسز وہ ختم کر دیے ہیں یا انتہائی کم کردیے ہیں تاکہ ان کی قیمت نیچے آئے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی
عمران خان نے پیٹرول، ڈیزل، لائٹ ڈیزل، کیروسین کی قیمتوں میں بھی 15روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس سے حکومت پر 75ارب روپے کا اثر پڑے گا۔
 
 
گیس اوربجلی کےبل
وزیر اعظم نے بجلی اور گیس کے بلوں پرصارفین کے لیے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے 75فیصد صارفین کا 300یونٹ کا بل آتا ہے اور ان کے لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ تین مہینے کی قسطوں میں بل دے سکیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح اسی طرح 81فیصد گیس کے صارفین جن کا بل 2ہزار روپے مہینہ سے کم آتا ہے، ان کو بھی تین مہینے کی قسطوں میں بل ادا کرنے کی سہولت میسر ہو گی۔
 
 
میڈیکل ورکرز
عمران خان نے 50ارب روپے میڈیکل ورکرز کے لیے مختص کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ان کے لیے آلات لینے کے لیے ان کو طبی سہولیات کی فراہمی میں بھی مدد کی جائے گی۔
 
ایمرجنسی کی صورت میں
وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے الگ سے 100ارب روپے مختص کیے ہیں تاکہ اس لاک ڈاؤن کے دوران ایمرجنسی کی صورت میں اس کو استعمال کیا جا سکے۔
 
 
این ڈی ایم اےکیلئے
انہوں نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے لیے بھی 25ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا جس کس مقصد کٹس لینے سمیت دیگر طبی سازوسامان خریدنا ہے۔
 
 
تعمیرات کےشعبہ کیلئےپیکیج
وزیر اعظم نے تعمیرات کی صنعت کے لیے خصوصی پیکج کی نوید سناتے ہوئے کہا کہ ہم تعمیرات کی صنعت کے لیے آئندہ 3-4 دن میں ایک پیکج کا اعلان کر رہے ہیں اور یہ ایسا پیکج ہو گا جس کا پاکستان کی تاریخ میں آج تک اعلان نہیں کیا گیا کیونکہ اس صنعت سے ہمارے ہاں بیروزگاری کے کاتمے میں بھی مدد ملے گی اور دیگر صنعتوں کو بھی فائدہ ہو گا۔
 
 

Copyright © 2018 News Makers. All rights reserved.