News Makers

تازہ ترین

کورونا وائرس پاکستان میں مصدقہ کیسز
274289
  • اموات 5842
  • سندھ 118311
  • پنجاب 92073
  • بلوچستان 11601
  • خیبرپختونخوا 33397
  • اسلام آباد 14884
  • گلگت بلتستان 1989
  • آزاد کشمیر 2034

 

وزیراعظم کےمعاونین خصوصی کےاثاثوں کی تفصیلات میں ابہام

وزیراعظم کےمعاونین خصوصی کےاثاثوں کی تفصیلات میں ابہام
اپ لوڈ :- سوموار 20 جولائی 2020
ٹوٹل ریڈز :- 48

 ویب ڈیسک ۔۔
 
وزیراعظم کےمشیروں اورمعاونین خصوصی کےاثاثوں اورشہریت کےحوالےسےسامنےآنی والی تفصیلات کےبعدسےان سےجڑی مختلف خبریں میڈیاکی زینت بن رہی ہیں ۔ جیونیوزکےرپورٹراعزازسیدکی ایک خبرکےمطابق حکومت کوجمع کرائےگئےاثاثہ جات کی تفصیل میں ان کی طرف سےحکومت پاکستان کواداکیے گئے ٹیکسوں کی تفصیلات موجود نہیں ہیں،یہی نہیں اثاثوں کی مالیت کومارکیٹ پرائس سے کہیں کم ظاہرکیا گیا ہے۔
 
مثال کےطورپرمشیر خزانہ نے اپنے نام زمین کی مد میں 20۔۔ ایم اور اہلیہ کے نام 103 ایم لکھا ہےلیکن یہ واضح نہیں کیا یہ کہ یہ ایم کامطلب مربعہ ہے یا کچھ اور ہے۔ حفیظ شیخ نےاپنی مرسیڈیزای سیریز کی گاڑی کا ماڈل نہیں لکھا اوراس کی قیمت صرف پانچ ملین ظاہرکی ہے۔ مشیر خزانہ کے سات غیر ملکی اکاؤنٹس میں 134 کروڑ 75 لاکھ روپے مالیت کے مساوی ڈالرز و درہم ہیں جب کہ ان کے دو پاکستانی بینکو ں میں صرف اور صرف 25 ہزار روپے ہیں۔ حیرت ہےکہ حفیظ شیخ کی طرف سے ٹیکس کی مد میں جمع کرائے گئے کسی ایک دھیلے کا ذکر نہیں ہے۔
 
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کی بات کریں توان کے اثاثہ جات میں ان کے بچوں کے اثاثہ جات کا ذکر موجود نہیں ، اہلیہ کے نام صرف 31 لاکھ کے شیئرز کا ذکر ہے جب کہ انہوں نے 2016 ماڈل کی ٹیوٹا پراڈو زیڈ ایکس کی قیمت صرف 30 لاکھ روپے لکھی ہے جو مارکیٹ میں کم و بیش 3 کروڑ روپے ملکیت کی حامل ہے ۔ عاصم باجوہ کے اثاثوں میں گلبرگ گرین میں 5 کنال کا گھر، ڈی ایچ اے کراچی، ڈی ایچ اے اسلام آباد میں رہائشی پلاٹ، ڈی ایچ اے لاہور میں کمرشل پلاٹ جب کہ رحیم یار خان اور بہاولپور میں زرعی اراضی بھی شامل ہے ۔
 
معاون خصوصی شہباز گل نے گلبرگ گرین میں 39 لاکھ روپے کا رہائشی پلاٹ اور 3 کروڑ 60 ہزار روپے مالیت کے فارم ہاؤس کا تذکرہ کیا ہےلیکن اس کی خریداری کے لیے آمدن کا ذریعہ نہیں لکھا، ان کے مجموعی اثاثہ جات 11 کروڑ 85 لاکھ 90 ہزار سے زائد ہیں۔ انہوں نے بھی اپنے ذرائع آمدن اور ٹیکسوں کی تفصیلات کا ذکر نہیں کیا ۔
 
بابر اعوان نے اپنے اثاثہ جات میں بیٹے کے نام اسلام آباد کے سیکٹر آئی الیون میں دو پلاٹوں کی قیمت بالترتیب 31 لاکھ اور 29 لاکھ درج کی ہے تاہم پلاٹوں کا سائز نہیں لکھا، یاد رہے کہ اس سیکٹر میں پانچ مرلے کے پلاٹ کی قمیت کم و بیش 90 لاکھ روپے ہے۔ بابر اعوان نے اپنے ٹیکسوں اور آمدن کی تفصیلات کا ذکر بھی نہیں کیا۔
 
ثانیہ نشتر کے پاس صرف 5 لاکھ روپے کی جیولری ہے، ان کے شوہر کے چار مختلف اکاؤنٹس میں کم و بیش ایک کروڑ 81 لاکھ روپے ہیں جب کہ ان پر30 لاکھ روپےکا قرض بھی واجب الادا ہے۔
 
تانیہ شاہد ایدرس کے پاکستان میں کوئی غیرمنقولہ اثاثہ جات سرے سے موجود ہی نہیں تاہم ان کے پاس 82 لاکھ روپے کی پاکستان میں ایک ٹیوٹا گاڑی ہے جس کا ماڈل اور دیگر تفصیلات لکھنا انہوں نےضروری نہیں سمجھا۔
 
ان کے پاس 50 تولے سونا، امریکا اور برطانیہ میں پراپرٹی اور بینک اکاونٹس الگ سے ہیں ۔ انہوں نے اپنے شوہر کے اثاثہ جات کی تفصیل بھی لکھی ہے۔
 
زلفی بخاری برطانیہ میں ایک فلیٹ کے مالک ہیں جوکہ بینک کے ساتھ مارگیج کی گئی ہے، زلفی بخاری سیک ویلے لمیٹڈ نامی ایک کمپنی کے بھی مالک ہیں جس کی ملکیت برطانیہ میں دو اپارٹمنٹ بھی ہیں۔ زلفی برطانیہ میں چار قیمتی گاڑیوں اور پاکستان میں ایک لینڈ کروزر کے بھی مالک ہیں۔

Copyright © 2018 News Makers. All rights reserved.