News Makers

تازہ ترین

کورونا وائرس پاکستان میں مصدقہ کیسز
274289
  • اموات 5842
  • سندھ 118311
  • پنجاب 92073
  • بلوچستان 11601
  • خیبرپختونخوا 33397
  • اسلام آباد 14884
  • گلگت بلتستان 1989
  • آزاد کشمیر 2034

 

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کےخلاف صدارتی ریفرنس اتفاق رائےسےخارج

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کےخلاف صدارتی ریفرنس اتفاق رائےسےخارج
اپ لوڈ :- جمعہ 19 جون 2020
ٹوٹل ریڈز :- 166

ویب ڈیسک ، مانیٹرنگ ڈیسک
 
سپریم کورٹ کےدس رکنی فل بنچ نےآج اپنے مختصرلیکن تاریخی فیصلےفیصلے میں ساتھی جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس اتفاق رائےسےخارج کر دیا ہے۔
 
عدالت عظمیٰ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی فل کورٹ صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائر عیسیٰ کی درخواست پر سماعت کی، جہاں جسٹس عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نےحکومتی وکیل فروغ نسیم کے دلائل پرجواب الجواب دیے۔
 
جس کے بعد عدالت نے کیس کا فیصلہ محفوظ کیا اور 4 بجے کے بعد مختصر فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی صدارتی ریفرنس کے خلاف درخواست کو منظور کرلیا۔ عدالت عظمیٰ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف جاری کیے گئے شوکاز نوٹس بھی واپس لے لیے۔
 
سپریم کورٹ کے 10 رکنی فل کورٹ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے مختصر فیصلہ سنایا، جس میں تین ججز نے اضافی نوٹ لکھا جبکہ جسٹس یحییٰ آفریدی نے فیصلے سے اختلاف کیا، اس کیس کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔
 
عدالت کی جانب سے یہ فیڈرل بورڈ آف (ایف بی آر) 7 روز میں جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ کو نوٹس جاری کرے، نوٹس ہر پراپرٹی کا الگ الگ بھجوایا جائے، ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ نوٹس جسٹس عیسیٰ کی سرکاری رہائش گاہ کے پتے پر بھجوایا جائے اور ایف بی آر معاملے کو التوا میں نہ ڈالے۔
 
فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کی کارروائی بنتی ہو تو سپریم جوڈیشل کونسل ازخودنوٹس لینےکی مجاز ہوگی، چیئرمیں ایف بی آر اپنے دستخط سے رپوٹ رجسٹرار سپریم کورٹ کو جمع کرائیں۔
 
یاد رہے کہ گزشتہ برس مئی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر کیے گئے ریفرنس میں الزام لگایا تھا کہ انہوں نے 2011 سے 2015 کے دوران لندن میں لیز پر اپنی اہلیہ اور بچوں کے نام پر جائیدادیں حاصل کیں تھیں لیکن انہیں ٹیکس گوشواروں میں ظاہر نہیں کیا تھا۔ بعدازاں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے الزامات کا مقابلہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ براہ راست یا بالواسطہ فلیٹس کے بینیفشل اونر نہیں ہیں۔
 
اس درخواست کے ذریعے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ میں استدعا کی تھی کہ کچھ طاقتیں انہی کسی نہ کسی طریقے سے آئینی عہدے سے ہٹانا چاہتی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ صدر مملکت عارف علوی نے ان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے سے قبل اپنی آزادانہ رائے قائم نہیں کی تھی۔
 
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا تھا کہ وزیراعظم، وزیر قانون اور اٹارنی جنرل نے انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کے سیکشن 116 (بی) کو توڑ مروڑ کر پیش کیا تھا اور غلطی سے اسے ان کی اہلیہ اور بچوں پر لاگو کردیا جبکہ اس قانون کا اطلاق صرف منحصر اہلیہ اور ان بچوں پر اطلاق ہوتا ہے جو چھوٹے ہوں اور والد پر انحصار کرتے ہوں۔
 
درخواست میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سرکاری ایجنسیوں بشمول ایف آئی اے نے خفیہ طور پر درخواست گزار اور ان کے خاندان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 4 اور 14 کی واضح خلاف ورزی کرتے ہوئے معلومات حاصل کیں اور انہیں تحقیقات سے متعلق اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا نہ ہی انہیں جواب دینا کا کوئی موقع فراہم کیا گیا۔
 
جسٹس قاضیٰ نے عدالت سے درِخواست کی تھی کہ حکومت کی جانب سے ان کے خاندان کی جائیدادوں کی تحقیقات کے لیے تشکیل کردہ اثاثہ جات ریکوری یونٹ کو غیرقانونی قرار دیا جائے، ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ درخواست گزار جج اور ان کے اہل خانہ کے خلاف تحقیقات غیر قانونی تھیں۔
 
 گزشتہ سال مئی سے رواں سال جون تک تقریباً 13 ماہ چلنے والے اس کیس کی 40 سے زیادہ سماعتیں ہوئیں جس کے دوران ایک اٹارنی جنرل نے ججز سے متعلق بیان پر نہ صرف استعفیٰ دیا بلکہ فروغ نسیم بھی کیس میں حکومت کی نمائندگی کرنے کے لیے وزیرقانون کے عہدے سے مستعفی ہوئے، یہی نہیں بلکہ یہ کیس تاریخی لحاظ سے اس لیے بھی اہم رہا کیونکہ اس میں تاریخ میں پہلی مرتبہ حاضر سروس جج جسٹس عیسیٰ عدالت میں پیش ہوئے۔
 
گزشتہ روز حکومتی وکیل فروغ نسیم نے اپنے دلائل مکمل کیے تھے جس پر عدالت نے ان سے تحریری معروضات جمع کروانے کا کہا تھا جبکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا۔

Copyright © 2018 News Makers. All rights reserved.