News Makers

تازہ ترین

کورونا وائرس پاکستان میں مصدقہ کیسز
274289
  • اموات 5842
  • سندھ 118311
  • پنجاب 92073
  • بلوچستان 11601
  • خیبرپختونخوا 33397
  • اسلام آباد 14884
  • گلگت بلتستان 1989
  • آزاد کشمیر 2034

 

تفصیلی فیصلےکےپیرا66نےسیاسی، عسکری اورصحافتی حلقوں میں تھرتھلی مچادی

تفصیلی فیصلےکےپیرا66نےسیاسی، عسکری اورصحافتی حلقوں میں تھرتھلی مچادی
اپ لوڈ :- اِتوار 19 جنوری 2019 اپ ڈیٹ :- اِتوار 05 جنوری 2020
ٹوٹل ریڈز :- 181

مانیٹرنگ ڈیسک ۔۔
 
سابق آمرجنرل ریٹائرڈ پرویزمشرف کےخلاف سنگین غداری کیس کاتفصیلی فیصلہ جاری کردیاگیاہے۔ فیصلےمیں دوججزجسٹس وقارسیٹھ اورجسٹس شاہدکریم نےلکھاہےکہ آئین توڑنے، وکلاء کو نظربند کرنے اور ایمرجنسی لگانے کا جرم ثابت ہونے پر پرویز مشرف کو سزائے موت دی جائے۔ کیس کامختصرفیصلہ خصوصی عدالت نے17دسمبر2019کوسنایاتھا۔
 
تین رکنی بینچ کےممبرجسٹس نذر اکبر نے فیصلے میں 44صفحات پرمشتمل اختلافی نوٹ لکھا۔ جس میں لکھا ہےکہ استغاثہ اپنا کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا لہذا انہیں رہا کیا جائے۔ انہوں نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ میں ادب کے ساتھ صدرعدالت اور اکثریت کی آبزرویشنز اور نتائج سے اختلاف کرتا ہوں۔
 
انہوں نے یہ بھی لکھا کہ پارلیمنٹ نے اکتوبر 99 کی ایمرجنسی کی توثیق نظریہ ضرورت کے تحت کی، اس وقت پارلیمنٹ نے 17ویں ترمیم کے ذریعے مجرم کو سہولت دی، پھر 18 ویں ترمیم میں آئین کے آرٹیکل 6 میں ترمیم کی گئی، 18 ویں ترمیم کے ذریعہ پارلیمنٹ نے 7 نومبر 2007 کی قومی اسمبلی کی قرارداد کی توثیق کی، 18 ویں ترمیم کے ذریعے پارلیمنٹ نے فیصلہ دیا کہ پرویز مشرف کا 3 نومبر کا اقدام سنگین غداری نہیں تھا۔ انہوں نے اپنے نوٹ میں یہ بھی لکھا کہ پاک فوج کا ہر سپاہی آئین پاکستان کی پاسداری کا پابند ہے، آئین توڑنے والے جنرل کا ساتھ دینے والی ہائی کمان آئین کے تحفظ میں ناکام رہی، جنرل مشرف فضاء میں تھے، ان کے ساتھیوں نے غیر آئینی اقدام اٹھا لیا۔
 
 تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس سیٹھ وقار نے فیصلے کے پیرا گراف نمبر 66 میں لکھا ہے کہ اگرسزاپرعملدرآمدسےپہلے پرویز مشرف انتقال کر جاتے ہیں تو ان کی لاش کو تین روز تک اسلام آباد کے ڈی چوک پر لٹکایا جائے۔
 یہ بھی پڑھیں۔۔
 
تفصیلی فیصلے کے پیرا نمبر 66 میں جسٹس سیٹھ وقار نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پرویز مشرف کو گرفتار کرکے سزا پر عمل درآمد کی ہدایت کی اور لکھا کہ اگر وہ  انتقال کر جاتے ہیں تو ان کی لاش اسلام آباد کے ڈی چوک پر تین روز تک لٹکائی جائے۔ سزائے موت کی تائید کرنے والے جسٹس شاہد ملک نے جسٹس سیٹھ وقار کے تحریر کردہ اس پیراگراف یعنی پیرا نمبر 66 سے اختلاف کیا۔
 
 
 

Copyright © 2018 News Makers. All rights reserved.