News Makers

تازہ ترین

کورونا وائرس پاکستان میں مصدقہ کیسز
274289
  • اموات 5842
  • سندھ 118311
  • پنجاب 92073
  • بلوچستان 11601
  • خیبرپختونخوا 33397
  • اسلام آباد 14884
  • گلگت بلتستان 1989
  • آزاد کشمیر 2034

 

وبائوں سےبچناہےتویہ سب کرناپڑےگا۔۔

وبائوں سےبچناہےتویہ سب کرناپڑےگا۔۔
اپ لوڈ :- جمعہ 24 جولائی 2020
ٹوٹل ریڈز :- 51

 (ترجمہ و تحقیق : محمدظہیر)
 
یہ کہنابےجانہ ہوگاکہ بےانتہاترقی کےباووجودانسان قدرتی آفات اوروباوں  کےآگےبےبس اورلاچاردکھائی دیتاہے۔ زلزلےکاایک جھٹکاپورےکےپورےہنستےبستےشہرکوملبےکاڈھیربناکررکھ دیتاہے۔ اسی طرح ایک وبادیکھتےہی دیکھتےلاکھوں انسانوں کونگل جاتی ہے۔ تازہ ترین مثال کوروناوائرس کی ہےجس نےگزشتہ کئی ماہ سےپوری دنیاکویرغمال بنایاہواہے۔ نظام زندگی کودرہم برہم کرکےرکھ دیاہے۔ اب تک ایک کروڑلوگ اس وائرس سےمتاثرہوچکےہیں،لاکھوں قیمتی جانیں اس مہلک وباکی نذرہوچکی ہیں۔ اسی پربس نہیں ایک انتہائی خطرناک اورہارنہ ماننےوالےدشمن کی طرح کوروناوائرس باربارانسانوں پرحملےکررہاہے۔ ۔ 
 
اب سائنسدان جہاں اس وائرس کےخاتمےکی ویکسین بنانےمیں لگےہوئےہیں وہیں ماہرین اس بات پربھی غورکررہےہیں کہ زلزلوں اوردیگرموسمی آفات کی طرح وبائوں کی پیشگی اطلاع دینےکاکوئی نظام بنالیاجائےتوان سےہونےوالےنقصانات کوکافی حدتک کم کیاجاسکتاہے۔ 
 
معروف امریکی جریدےفارن افئیرزنےایک رپورٹ شائع کی ہےجس کی تفصیلات حیران کن ہی نہیں پریشان کن بھی ہیں۔رپورٹ کےمطابق، وبائی امراض کیلئےارلی وارننگ سسٹم کی ضرورت اس لئےمحسوس کی جارہی ہےکیونکہ آنےوالےبرسوں میں وبائی امراض کےساتھ ساتھ دیگربیماریاں بھی عام ہوجائیں گی۔ اس لئےان وباوں اوربیماریوں کی پیشگی اطلاع دینےکاکوئی بندوبست ہوجائےتوہزاروں قیمتی جانوں کوبچایاجاسکتاہے۔ واضح رہےکہ امریکانے80 کی دہائی میں فےمائین ارلی وارننگ سسٹم نیٹ ورک بناکرغذائی بحرانوں کی بروقت اوردرست اطلاع دی اوراسی نظام کی بدولت گزشتہ ڈیڑھ سوسال میں قحط سےہونےوالی اموات میں واضح کمی آئی۔ ماہرین اب اس بات پرغورکررہےہیں کہ وبائی اورمعتدی امراض سےنمٹنےکیلئےبھی امریکاکواسی طرزپرپیشگی خبردارکرنےکاایک موثرنظام بناناچاہیے۔ یہ اس لئےبھی ناگزیرہےکیونکہ عالمی ادارہ صحت کاپیشگی انتباہی نظام ویسٹ افریقہ میں 2014میں ایبولااورموجودہ کووروناوائرس کےمتعلق اطلاع دینےمیں ناکام رہا۔
 
دوستو،کوروناوائرس صدی کاپہلاواقعہ نہیں۔آئندہ بڑی وباان ممالک میں پھیل جائےگی جن میں ہیلتھ کئیرکےمضبوط ڈھانچےاوربیماریوں کےموثرنگرانی کےنظام کی کمی ہے۔
 
ہارورڈیونیوسٹی کےسائنسدانوں نےایک زبردست تحقیق کی ہے۔ تحقیق کی تفصیلات کےمطابق اگست 2019میں سیٹلائیٹ نےچین کےشہرووہان میں ایک خاص بات نوٹ کی ۔ وہ خاص بات یہ تھی کہ ان دنوں ووہان میں ہسپتال کی طرف جانےوالی ٹریفک میں یکدم اضافہ ہوگیا۔ اسی دوران ووہان میں سرچ انجنزنےمخصوص اورانوکھی علامات سےمتعلق سرچ ریکارڈکی۔ ہارورڈیونیورسٹی کےماہرین کےمطابق یہ علامات ظاہرکررہی تھیں کہ کوروناکاپھیلاوووہان میں بہت پہلےسےشروع ہوچکاتھا۔        
 
فارن افئیرزنےاپنی رپورٹ میں ایک اوردلچسپ حقیقت کی نشاندہی کی ہےاوروہ یہ کہ کسی بھی سانحےیاآفت سےنمٹنےمیں شخصی نظام کی بجائےجمہوری ادوارنےاہم کرداراداکیاہے۔ کیونکہ جمہوری ادوارمیں وبائی امراض سےمتعلق حقائق کوچھپایانہیں جاتا۔ نوبل انعام یافتہ ماہرمعاشیات امرتیہ سین اسی لئےکہتےہیں کہ جمہوریت میں کبھی قحط نہیں پڑا ۔ 1932 اور 1933کایوکرینی قحط اور 1959 اور 1961 کاچینی قحط کادوربیرونی دنیاکوخبرہونےتک جاری رہا۔۔ انیس سو پچاسی میں امریکاکی یوایس ایڈنےاس کاحل نکالا اورغذائی بحرانوں کی پیشگی اطلاع دینےکانظام یعنی فےمائین ارلی وارننگ سسٹم نیٹ ورک بنایا،جس نےگزشتہ چالیس سالوں میں قحط کی شکل اختیارکرنےوالےزیادہ ترغذائی بحرانوں کی درست اطلاع دی ہے۔
 
 قحط سےڈیڑھ سوسال کی اموات کاتجزیہ کریں تو80 کی دہائی میں اس نظام کےبعدہلاکتوں میں واضح کمی آئی ۔ اسی بنیادپرماہرین زوردیتےہیں کہ وبائی اورمتعدی امراض کےحل کےلئےامریکاکوقحط کےظام کی طرزپرپیشگی انتباہی نظام بناناچاہیے۔بیماریوں کےکنٹرول اورروک تھام کےمراکزپہلےہی امریکامین ادویہ کی یومیہ فروخت کامشاہدہ کرکےموسمی انفلوئنزاپھیلنےپرنظررکھتےہیں ۔ 
 
جارج بش کےدورمیں امریکی محکمہ داخلہ نےنقل مکانی کےراستوں پرجنگلی پرندوں کی  باقیات کاانفلوئنزاوائرس کیلئےتجربہ کیاتھا۔ امریکی حکام اس نظام کووسعت دےسکتےہیں ۔ پالیسی بنانےوالےجانوروں میں متعدی بیماریوں کاپتہ لگاسکتےہیں اس سےپہلےکہ وہ انسانوں میں منتقل ہوں ۔
 
دوہزارنوسے2019تک یویس ایڈنےپیش گوئی پروگرام چلایاجوجانوروں کےخطرناک ترین وائرس کی شناخت کیلئےبنایاگیاتھاجن کاانسانوں میں منتقلی کاخدشہ تھا۔ گزشتہ پچاس برس میں سترفی صدنئی بیماریاں جانوروں سےپھیلیں۔ کیلیفورنیایونیورسٹی پریڈکٹ پروجیکٹ مینجرزنے994نوول وائرس اور217معلوم وائرس کےجینوم کی ترتیب دی ۔ پریڈکٹ پروگرام کی بحالی اوراس کوخاطرخواہ فنڈزفراہم کرنےسےامریکی حکومت اس بات کویقینی بناسکتی ہےکہ انتہائی خطرناک بیماریوں کےپھیلنےسےپہلےویکسین تیارکی لی جائے۔
.................
American Scientists Pandemics say bachnay ke lia Early Warning System (EWS) ki zarorat par zoor day rahay hain. In this video we have discussed the need for an EWS to help save humanity in future.
 

Muhammad Zaheer

The author is a journalist. He is currently working for a news channel.

Muhammad Zaheer مزید تحریریں

Muhammad Zaheer

Copyright © 2018 News Makers. All rights reserved.