News Makers

تازہ ترین

کورونا وائرس پاکستان میں مصدقہ کیسز
274289
  • اموات 5842
  • سندھ 118311
  • پنجاب 92073
  • بلوچستان 11601
  • خیبرپختونخوا 33397
  • اسلام آباد 14884
  • گلگت بلتستان 1989
  • آزاد کشمیر 2034

 

ٹی سیل : انسانی دفاعی نظام کےخاموش محافظ

ٹی سیل : انسانی دفاعی نظام کےخاموش محافظ
اپ لوڈ :- جمعرات 16 جولائی 2020
ٹوٹل ریڈز :- 77

ویب ڈیسک ۔۔
 
اس سوال سےہٹ کرکہ آیاانسانی جسم میں اینٹی باڈیزکی موجودگی یاغیرموجودگی کوروناوائرس کےمقابل قوت مدافعت کاتعین کرتی ہےیانہیں، امریکی سائنسدان ان دنوں انسان کےدفاعی نظام کےایک اوراہم جزویعنی ٹی سیلزکےبارےمیں یہ کھوج میں لگےہوئےہیں کہ  وہ کسی وباکےمقابلےمیں انسانی جان بچانےمیں کیاکرداراداکرتےہیں ؟
 
حال ہی میں ہونےوالی کچھ سٹڈیزسےپتاچلاہےکہ چندصحت یاب ہونےوالےمریض جن کاکوروناوائرس اینٹی باڈیزٹیسٹ منفی آیا۔۔ ان کےاندرپیداہونےوالےٹی سیلزنےکووڈنائنٹین انفیکشن کوروکنےمیں مدددی ۔ اس کےباوجود کہ یہ سٹڈیزابھی چھوٹےپیمانےپرہوئی ہیں اورتاحال انہیں غیرملکی ماہرین نےپرکھانہیں، کچھ سائنسدانوں کامانناہےکہ وہ لوگ جن کےاندرکوروناوائرس کی معمولی علامات ہوتی ہیں ، یاپھران کےاندرسرےسےکوروناکی علامات ہوتی ہی نہیں دراصل ٹی سیل کےذریعےاس وائرس کوشکست دےرہےہوتےہیں ۔  ۔، 
 
ان حالیہ سٹڈیزمیں سامنےآنےوالےحقائق دراصل پہلےسےموجودان شہادتوں کی تصدیق کرتےہیں کہ ایک موثرکوروناویکسین انسانی جسم میں اینٹی باڈیزکوپیداکرنےکےساتھ ساتھ ٹی سیلزکوبھی انسانی دفاعی نظام کومضبوط بنانےپرآمادہ یاتیارکرتی ہے۔ ٹی سیلزکی سٹڈی سےہمیں یہ بھی پتاچلتاہےکہ انسان کامدافعتی نظام کسی نئی انفیکشن کےمقابلےمیں کیسےکام کرتاہے۔
 
لاجولاانسٹی ٹیوٹس انفیکشس ڈیزیزاینڈویکسین سینٹرکیلی فورنیاکےرکن پروفیسرڈاکٹر ال سینڈروسیٹ کہتےہیں کہ اس بات کےڈھیروں شواہدموجودہیں کہ وہ لوگ جن کےوائرس سےمتاثرہونےکاخطرہ موجودہوتاہےکےجسم میں اینٹی باڈیزکی غیرموجودگی کےباوجودٹی سیلزکی جانب سےوائرس کےخلاف ریسپانس کااظہارہوتاہے۔ 
 
جب ایک وائرس خون میں موجود سفیدخلیوں کومتاثرکرتےہوئےانسانی جسم کےدفاعی نظام کی ابتدائی رکاوٹوں کوگرانےمیں کامیاب ہوجاتاہےتوہمارےدفاعی نظام کےتحت خون میں خودبخودکچھ ایسی خاص قسم کی اینٹی باڈیزپیداہوناشروع ہوجاتی ہیں جوحملہ آوروائرس کوہدف بناناشروع کردیتی ہیں ۔ اس کےساتھ ساتھ ٹی سیلزبھی اپناکام شروع کردیتےہیں جس میں گھس بیٹھئیےوائرس اوراس کی وجہ سےانفیکٹ ہونےوالےسیلزکاخاتمہ شامل ہے۔ 
 
اب جبکہ کوروناوائرس کی وباکوآئےچھ ماہ ہوچکےہیں اوراس نےپوری دنیامیں ایک کروڑلوگوں کومتاثرکیاہے، یہ سوال اپنی جگہ موجود ہےکہ آیااس وائرس کےمقابلےمیں اینٹی باڈی ریسپانس کیاواقعی موثرہےیانہیں ؟ سائنسدانوں کےخیال میں اینٹی باڈیزکےکردارپرشکوک کےاظہارکامطلب ہےکہ اس بیماری کےخلاف لڑنےکیلئےٹی سیلزکاکردارزیادہ اہمیت کاحامل ہے۔ 
 
یونیورسٹی آف پنسلوینیاکےانسٹی ٹیوٹ فارامیونالوجی کےڈائریکٹرجون ویری کہتے ہیں کہ وائرل انفیکشنزکنٹرول کرنےکیلئےٹی سیلزبہت اہم ہیں  اورہم یہ ہوتاہوادیکھ بھی رہےہیں ۔ 
 
حال ہی میں فرانس میں چھوٹےپیمانےپرہونےوالی ایک سٹڈی سےپتاچلاہےکہ ایک ہی خاندان سےتعلق رکھنےوالےان آٹھ میں سےچھ افرادکےجسم میں ٹی سیل رسپانس پیداہواجواپنےکوروناوائرس سےمتاثرہ رشتےداروں سےقریبی ٹچ میں تھے۔ ان چھ افرادکاجب اینٹی باڈیزٹیسٹ کیاگیاتووہ منفی تھا۔ یہاں واضح کرتاچلوں کہ اس سٹڈی کوتاحال ماہرین نےتصدیق کےمراحل سےنہیں گزارا۔  
اسی طرح سویڈن میں کوروناوائرس سےمتاثرہ 200افرادپرہونےوالی ایک سٹڈی کےمطابق ان میں سےزیادہ ترجن کےاندرکوروناوائرس کی علامات یاتوکم تھیں یاسرےسےنہیں تھیں ان کےاندراینٹی باڈیزکےبرعکدس سٹرانگ ٹی سیل ریسپانس کاپتاچلا۔ 
ان سب حقائق کوسامنےرکھتےہوئےسائنسدانوں کامانناہےکہ ٹی سیلزپرفوکس کرکےہم انسان کےدفاعی نظام کوآنےوالےطویل عرصےتک وبائی امراض سےمحفوظ بناسکتےہیں ۔۔ 
-----------------
 

Copyright © 2018 News Makers. All rights reserved.