News Makers

تازہ ترین

کورونا وائرس پاکستان میں مصدقہ کیسز
274289
  • اموات 5842
  • سندھ 118311
  • پنجاب 92073
  • بلوچستان 11601
  • خیبرپختونخوا 33397
  • اسلام آباد 14884
  • گلگت بلتستان 1989
  • آزاد کشمیر 2034

 

کوروناوائرس کیخلاف کپڑےکاماسک کس حدتک موثر؟

کوروناوائرس کیخلاف کپڑےکاماسک کس حدتک موثر؟
اپ لوڈ :- ہفتہ 02 مئی 2020
ٹوٹل ریڈز :- 115

ویب ڈیسک ۔۔
 
دنیابھرمیں کوروناوائرس کی وباشروع ہوتےہی جن اشیاکی قلت پیداہوئی ان میں ایک فیس ماسک بھی ہے ۔ لیکن وہ کہتےہیں ناں کہ ضرورت ایجادکی ماں ہے ۔ لوگوں نےسرجیکل اوراین نائنٹی فائیوماسک کی قلت یاپھران کےانتہائی مہنگاہونےکاحل یہ نکالاکہ گھروں میں خودکپڑےکےماسک
بنانےشروع کردئیے۔ اس وقت کوروناسےمتاثرہ تمام ملکوں میں لاکھوں لوگ کپڑےسےبنےہوئےسستےماسک استعمال کررہےہیں ۔ لیکن یہاں ایک بہت ضروری سوال ہےجوضرور پوچھاجاناچاہیےکہ کیاکپڑےسےبنےہوئےیہ ماسک کوروناوائرس سےبچاومیں مددگارثابت ہوسکتےہیں یانہیں ؟ 
 
یہ شواہدسامنےآنےکےبعدکہ کوروناوائرس بات کرنے،سانس لینےاورسب سےزیادہ کھانسنےاورچھینکنےسےپھیل سکتاہے،امریکامیں طبی ماہرین نےلوگوں کوگھروں سےباہرنکلتےوقت کپڑےکاماسک پہننےکامشورہ دیا۔ جہاں تک کپڑےکی بات ہےتویہ چھینکنےیاکھانسنےکےدوران کسی کےمنہ سےنکلنےوالےتھوک یابلغم کےبڑےچھینٹوں کوتوروکنےکی صلاحیت رکھتاہےلیکن ماہرین کےنزدیک یہ بات واضح نہیں کہ آیاکپڑےسےبناہواماسک بات کرنےیاسانس لینےکےدوران منہ سےنکلنےوالےچھوٹےڈراپ لیٹس جنہیں ایروسولزکہاجاتاہے،کوروکنےکی صلاحیت رکھتاہےیانہیں ؟
 
کپڑےکاماسک ہویاسرجیکل ماسک ۔۔ انہیں اس مقصدسےبنایاجاتاہےتاکہ انہیں پہننےوالامتاثرہ شخص اپنی بیماری دوسروں کوٹرانسمٹ نہ کرسکے۔ امریکی طبی ماہرین کےمطابق کوروناوائرس سےمتاثرہ شخص عین ممکن ہےاس بیماری کی علامات ظاہرہونےسےپہلےہی اسےدوسروں کومنتقل کردے۔ ان کےمطابق ماسک پہنناایک احتیاط ضرورہےلیکن یہ سماجی فاصلہ رکھنے،ہاتھ دھونےیاپھراس بیماری سےبچنےکی دوسری کوششوں کانعم البدل ہرگزنہیں ۔
 
امریکامیں اس بات پرایک نہیں کئی سٹڈیزہوچکی ہیں کہ آیاکپڑےکاماسک کوروناوائرس یااس جیسی دوسری سانس لینے،کھانسنےیاچھینکنےیاپھربات کرنےسےپھیلنےوالی بیماریوں کوروکنےمیں موثرثابت ہوسکتاہےیانہیں ؟ 
 
ماہرین کےمطابق کپڑےکاماسک سانس، کھانسنےیاچھینکنےسےخارج ہونےوالےبڑےڈراپ لیٹس کوروکنےکی صلاحیت رکھتاہے۔ اسی طرح مختلف اقسام کےکپڑوں سےبنےہوئےماسک کی اس حوالےسےصلاحیت بھی مختلف ہوتی ہےلیکن ان میں ایک بات طےہےکہ وہ وائرس کوفلٹرکرنےکی صلاحیت رکھتےہیں ۔
 
ایک سٹڈی کےمطابق ایک ماسک جس میں رومال کےکپڑےکی سولہ تہیں استعمال کی گئی تھیں ، 300نینومیٹرسائزکےٹکٹروں کو63فیصدتک فلٹرکرنےمیں کامیاب رہا ۔ واضح رہےکہ کوروناوائرس کاڈایامیٹر50سے200نینومیٹرکےدرمیان ہوتاہے۔ یعنی کپڑےکےاس سولہ تہوں والےماسک سےکوروناوائرس کاگزرناناممکن ہے۔ لیکن اس قسم کےماسک میں ایک خرابی یہ ہوتی ہےکہ انہیں پہننےسےسانس لینےمیں دشواری کاسامناکرناپڑتاہے۔ 
 
جہاں تک سرجیکل ماسک کاتعلق ہےتویہ انفلوئنزااورموسمی کوروناوائرس کی منتقلی کوروکنےمیں مددگارثابت ہوسکتےہیں ۔ اس بات سےقطع نظرکہ کپڑےکےماسک اورسرجیکل ماسک میں سےکون زیادہ بہترہے،ماہرین کہتےہیں کہ ماسک کون ساہےاس سےزیادہ اہم یہ ہےکہ آپ ماسک پہنتےکیسےہیں ؟ یعنی اگرتوآپ نےاچھاماسک بھی غلط طریقےسےپہناہےتواس کی افادیت کم ہوسکتی ہے۔ ماسک کےبارےمیں اس بات کاخیال رکھاجاناضروری ہےکہ اسےآپ کیسےرکھتےہیں اوریہ کہ کیاآپ گیلاماسک تواستعمال نہیں کررہے؟ ماہرین کےمطابق سانس لینے،کھانسنےیاپھرچھینکنےسےگیلاہونےوالےماسک میں وائرس آسانی سےسماجاتاہےاورجب پہننےوالااس ماسک کواتارتاہےتوبہت خطرہ ہےکہ وہ وائرس کسی نہ کسی ذریعےسےدوسرےشخص کومنتقل ہوجائے۔
 
اگرچہ کپڑےکےماسک کےبارےمیں ماہرین کی آرامختلف ہےلیکن طبی حکام کےمطابق بہرحال ماسک جیسابھی ہوپہنناضرورچاہیےتاکہ کوروناجیسی وباکوجہاں تک ہوسکےپھیلنےسےروکاجاسکے۔ 
(بشکریہ : (سائنس نیوز

 

Copyright © 2018 News Makers. All rights reserved.