News Makers

تازہ ترین

پراجیکٹ عمران خان کی ناکامی ۔۔ وہ بھی اتنی جلدی

پراجیکٹ عمران خان کی ناکامی ۔۔ وہ بھی اتنی جلدی
اپ لوڈ :- جمعہ 14 فروری 2020
ٹوٹل ریڈز :- 40

 
حدسےزیادہ غروراورنااہلی کےملاپ سےبنی ہےپی ٹی آئی حکومت ۔ یہ بغیرچپوکی وہ کشتی ہےجوکسی بھی وقت چٹان سےٹکراسکتی ہے لیکن کپتان صاحب کےاندھےاعتمادکودیکھنےکےبعدتوخوف آنےلگتاہے۔
 
پراجیکٹ عمران خان کےبارےمیں کبھی بھی بہت زیادہ امیدنہیں رہی لیکن یہ اس قدرجلدایکسپوزہوجائےگا،اس کااندازہ بالکل نہیں تھا۔ اب توانہیں لانےوالےبھی سرپکڑکربیٹھےہیں کہ اب کریں توکیاکریں ؟ اب کیاہوگا؟
 
یہ بات توظاہرہےکہ تحریک انصاف حکومت میں ملک کودرپیش چیلنجزسےنمٹنےکی صلاحیت نہیں ۔ کسی بھی کام کےتجربےسےعاری ایک سابق کرکٹ ہیروکی خامیاں خوفناک ہیں ۔ عمران خان کاسب سےبڑامسئلہ ان کی کوتاہ نظری ہےجوحکومتی معاملات کوسمجھنےکیلئےان کی راہ میں سب سےبڑی رکاوٹ ہے۔
 
وہ زیادہ ترماضی میں رہتےہیں جبکہ فی زمانہ درپیش چیلجنزکوسمجھنےکی ان کی انڈرسٹینڈنگ کافی کم ہے۔ خودکونیک وپارسااوردوسروں کوبراسمجھنےکی ان کی سوچ نےبھی ان کی درست فیصلہ سازی کی صلاحیت کومتاثرکیاہے۔ اوسط درجہ صلاحیت کاحامل انسان ضرورت سےزیادہ ضدی بھی ہوتونتیجےتباہ کن ہوتےہیں ۔
 
حکومت میں آنےکےبعدتحریک انصاف حکومت ایک کےبعدایک بحران میں گھرتی چلی جارہی ہے۔ اب یہ حال ہےکہ یہ اپنےکمزوراتحادیوں کےسہارےٹھاٹھیں مارتےدریامیں تیرنےکی کوشش کررہی ہے۔ اس میں شک میں نہیں کہ پی ٹی آئی کبھی بھی ایک منظم سیاسی جماعت نہیں رہی بلکہ یہ عمران خان کےمختلف الخیال دیوانوں اورسیاسی فصلی بٹیروں کامجموعہ ہے۔
 
پارٹی کےاندرونی اختلافات کےباعث بھی گورننس کےسنگین مسائل پیداہوئےہیں ۔ پنجاب اورکےپی کےمیں ہونےوالی بغاوتیں پارٹی کےاندرکی کہانی بیان کررہی ہیں اوربظاہروزیراعظم ان اختلافات پرقابوپانےمیں ناکام دکھائی دیتےہیں ۔
 
یہ بھی پڑھیں۔۔
 
 معیشت شروع سےہی اس حکومت کےکنٹرول میں نہیں آرہی ۔ رہی سہی کسرجان لیوامہنگائی اوربڑھتی ہوئی بےروزگاری نےپوری کردی ہے۔ حالت یہ ہےکہ عام لوگوں کیلئےدووقت کی روٹی پوری کرنامحال ہوگیاہے۔ ایسانہیں کہ تمام معاشی مسائل پی ٹی آئی نےپیداکئے،بہت سےمسائل اس حکومت کوورثےمیں بھی ملےلیکن ان کی ناقص پالیسیوں سےمسائل کم ہونےکی بجائےان میں اضافہ ہوا۔
 
شیلٹرہومزبنانےاورچندلنگرخانےقائم کرنےسےمسائل حل نہیں ہوںگے۔ جب تک گروتھ ریٹ میں اضافہ اورروزگارکےمواقع نہیں بڑھائےنہیں جاتے،پاکستان کےمسائل حل ہونےوالےنہیں ۔ حکومت کااصل فوکس اقتصادی ترقی اورروزگارکےمواقع پیداکرنےپرہوناچاہیےلیکن ایسانہیں ہے۔ محض کرنٹ اکاونٹ خسارےکوکم کرنےسےہی کام نہیں چلےگا،اقتصادی گورننس بھی انتہائی ضروری ہے۔ گزشتہ 18ماہ کےدوران ایف بی آرکےتین چیف بدلےجاچکےہیں  اوراب شبرزیدی کےجانےکی افواہیں بھی سرگرم ہیں ۔ سمجھ نہیں آتاکہ ایک واضح پالیسی ڈائریکشن کےبغیرمعاشی ٹٰیم میں اس قدرتیزی سےہونےوالی تبدیلیاں کیا رنگ لائیں گی ؟
 
یہ بھی پڑھیں۔۔
 
پنجاب اورخیبرپختونخوامیں انتظامیہ کادھڑن تختہ ہوچکاہےاورپارٹی کےاندراورباہرسےہونےوالی کڑی تنقیدکےباوجودوزیراعظم ان صوبوں میں اپنےلگائےگئےوزرائےاعلیٰ کو تبدیل کرنےپرتیارنہیں ۔ شنیدہےکہ پنجاب اسمبلی میں سب سےبڑی جماعت مسلم لیگ ن ان ہاوس تبدیلی کیلئےتیاریاں کررہی ہےاوریہ بھی سننےمیں آرہاہےکہ سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اپوزیشن کی راستےمیں نہیں آئےگی ۔ ویسےپاکستان میں پاورپالیٹکس کےکھیل میں کب کیاہوجائے،کچھ نہیں کہاجاسکتا۔ پنجاب میں اگرتبدیلی آتی ہےتویہ مرکزمیں تحریک انصاف حکومت کیلئےبہت بڑاجھٹکاہوگااوروزیراعظم عمران خان کیلئےنوشتہ دیواربھی، اگروہ اسےپڑھ سکیں ۔ وقت تیزی سےتحریک انصاف کی مٹھی سےپھسل رہاہے۔
 
 
عمران خان کی ناکامی صرف عمران خان کی ناکامی نہیں ہوگی بلکہ اسےاسٹیبلشمنٹ کےسیاسی تجربےکی ناکامی بھی کہاجائےگا۔ بدقسمتی سےوزیراعظم عمران خان اپناذہن بدلنےپرتیارنہیں ۔ ان کالہجہ اپوزیشن کےحوالےسےمزیدسخت ہوتاجارہاہےلیکن انہیں احساس نہیں ہورہاکہ وقت ان کےہاتھ سےمسلسل پھسلتاجارہاہے۔ سیاسی عدم استحکام کےماحول میں حکومت اقتصادی چیلنجزسےاکیلےنہیں نبٹ سکتی ۔ یادرکھیں کہ اسٹیبلشمنٹ پرحدسےزیادہ انحصارکرنےسےمسائل حل نہیں ہونگے۔۔
 
نوٹ: معروف سینئرصحافی جناب زاہدحسین کایہ آرٹیکل  ڈان میں شائع ہوا۔ ہم نےپوری ایمانداری سےترجمہ کرکےاسےآپ کی خدمت میں پیش کیاتاکہ زیادہ سےزیادہ لوگ اس سےاستفادہ کرسکیں ۔۔ 
 
 

Copyright © 2018 News Makers. All rights reserved.