News Makers

پی آئی اے :-یورپ کےبعدامریکانےبھی پی آئی اےکی پروازوں پرپابندی لگادی
پی آئی اے :-جعلی لائسنس کامعاملہ سامنےآنےکےبعدامریکی ٹرانسپورٹ اتھارٹی کاایکشن
پی آئی اے :-وزیرہوابازی غلام سرورخان نےپائلٹس کےجعلی لائسنس کامعاملہ اٹھایاتھا

تازہ ترین

کورونا وائرس پاکستان میں مصدقہ کیسز
246351
  • اموات 5123
  • سندھ 102368
  • پنجاب 85991
  • بلوچستان 11128
  • خیبرپختونخوا 29775
  • اسلام آباد 13927
  • گلگت بلتستان 1630
  • آزاد کشمیر 1532

 

ایک سےبڑھ کرایک ۔۔

ایک سےبڑھ کرایک ۔۔
اپ لوڈ :- بدھ 23 فروری 2020 اپ ڈیٹ :- بدھ 05 فروری 2020
ٹوٹل ریڈز :- 139

جہاں اپنی کارکردگی سےزیادہ سیاسی مخالفین کوبرابھلاکہنےاوران کامذاق اڑانےمیں شاباش ملتی ہووہاں لائیوٹاک شومیں فیصل واوڈاکی جانب سےمیزپرجوتارکھ دیناکوئی بڑی بات نہیں لیکن اس سارےعمل میں محترم وفاقی وزیروہ نادان دوست ثابت ہوئےجودشمن کونقصان پہنچانےکےچکرمیں الٹااپناہی نقصان کروابیٹھتاہے۔ ذرائع کےمطابق مقتدرحلقےفیصل واوڈاکی اس حرکت پرسخت نالاں ہیں ۔ یقیناً نالاں ہونابھی چاہیےکیونکہ ریاستی اداروں کومتنازع بنانےوالی کسی بھی حرکت کی سختی سےمذمت ہونی چاہیے۔ انتہائی شرمناک اورقابل مذمت حرکت کرنےکےباوجودووزیراعظم عمران خان نےکمال شفقت کامظاہرہ کرتےہوئے فیصل واوڈاکوصرف دوہفتےکیلئےکسی بھی ٹاک شومیں شرکت سےروکنےکی سزاسنائی ہے۔ 
 
اگرتوہم میں سےکچھ لوگ یہ سوچ رہےہوں کہ فیصل واوڈااپنےکئےپرشرمندہ ہونگےاورٹی وی سکرین پرواپس آتےہی سب سےپہلےقوم سےاپنی حرکت پرمعافی مانگیں گےتوشایدہم غلطی پرہیں ۔ ڈھٹائی کاعالم تودیکھئےکہ معروف صحافی اوراینکرحامدمیراپنےپروگرام کیپیٹل ٹاک میں باربارفیصل واوڈاسےمعذرت کرنےکی درخواست کرتےرہےلیکن واوڈاصاحب نےمعذرت تودرکنارشرمسارہوناتک گوارانہ کیا ۔ آپ دیکھ لیجئےگاکہ منظرعام پرواپس آتےہی فیصل واوڈادوبارہ پوری شدت سےاپوزیشن پرحملہ آورہونگےکیونکہ جہاں کارکردگی کامعیارہی اپوزیشن کوگالیاں دیناہووہاں کسی اوربات کی توقع کوئی احمق ہی لگاسکتاہے۔ 
 
 یہ فیصل واوڈاہی تھےجنہوں نےحامدمیرصاحب کےپروگرام میں یہ حیران کن دعویٰ کیاتھاکہ چندہفتوں کےاندرپاکستان میں نوکریوں کی برسات ہوگی ، لوگ باہرسےپاکستان میں کام ڈھونڈنےآئیں گے۔ اورتواورریڑھی والےبھی آوازیں لگاتےپھریں گےکہ بھیاٹیکس لےلوٹیکس ۔۔ ان کےاس خیالی دعوےپروزیراعظم نےان سےکوئی بازپرس نہیں کی کیونکہ اگرایساکیاہوتاتوبات بوٹ تک نہ پہنچتی ۔ لیکن کیاکیاجائےکہ جہاں کارکردگی کامعیارمحض زبانی کلامی بیانات اوردعوےبن جائیں وہاں توہم یہی کہہ سکتےہیں کہ خاک ہوجائیں گےہم تم کوخبرہونےتک ۔
یہ بھی پڑھیں ۔۔
 ہم بھی کتنےبھولےہیں کہ ایک فیصل واوڈاکاڈھول ہی پیٹےجارہےہیں حالانکہ وزیراعظم عمران خان کی پوٹلی میں توایک سےبڑھ کرایک شاہکاربھرےہوئےہیں۔ زیادہ دن پرانی بات نہیں جب وفاقی وزیرامورکشمیرعلی امین گنڈاپوراپنی بےمثال وزڈم کےپھول بکھیرتےہوئےفرمارہےتھےکہ ٹماٹروں کےمہنگاہونےکاسب سےزیادہ فائدہ کسانوں کوہورہاہے ۔ حیران نہ ہوں،موصوف شایدچھوٹےموٹےپیربھی ہیں اوران کےلئےانسانی سمجھ سےبالاترقسم کےبیانات دیناعام سی بات ہے ۔ کیاآپ بھول گئےجب اسلام آبادلاک ڈاون کےدنوں میں علی امین نےکھڑےکھڑےبلیک لیبل کی بوتل میں بھرےمشروب کوشہدبناڈالاتھا ۔
یہ بھی پڑھیں ۔۔
اسی پربس نہیں ۔ وفاقی کابینہ میں جڑےایک اورنگینےکانام ہےشہریارآفریدی ۔ انسدادمنشیات محکمےکےوزیرمملکت ہیں جنہیں باربارلوگوں کویہ بتاناپڑتاہےکہ جان اللہ کودینی ہے ۔ شہریارآفریدی راناثنااللہ کےخلاف منشیات کےکیس میں باربارقسمیں اٹھاتےرہےلیکن کیس سےجڑی کوئی ابھی شہادت عدالت میں پیش کرنےمیں ناکام رہے۔ کابینہ نےجب اس حوالےسےان سےپوچھ گچھ کی توکہنےلگےکہ ڈی جی اینٹی نارکوٹکس فورس نےقسم اٹھائی توانہوں نےبھی اٹھالی اوریہ کہ راناثنااللہ کےخلاف سازش نہ انہوں نےکی نہ وزیراعظم نے ۔ پریشان نہ ہوں ، جہاں کارکردگی سےزیادہ اپوزیشن رہنماوں پرچیخنےچلانےاوران پرجھوٹےمقدمات بنانےمیں ہی عافیت ہووہاں شہریارآفریدی جیسےلوگوں کاوزیربننامعمولی بات ہے۔
 
 اورآخرمیں کچھ ذکرہوجائےعلی زیدی کا۔ کراچی سےتعلق رکھنےوالےوفاقی وزیربحری امورکوچندماہ پہلےکراچی کوصاف کرنےکاخیال آیاتومیڈیاپرجیسےایک بھونچال آگیا۔ یوں لگتاتھاکہ جیسےپورےملک میں ایک ہی مسئلہ ہےاوروہ ہےکراچی میں پھیلی گندگی ۔ چندروزتک اس حوالےسےاچھی خاصی میڈیاکوریج لی گئی مگرعملی طورپرکچھ نہیں ہواکیونکہ یہ ایک صوبائی مسئلہ تھاجس سےعلی زیدی صاحب کاکوئی لینادینانہیں تھا ۔ 
یہ بھی پڑھیں 
 زیادہ سوچنےاورفکرمندہونےکی ضرورت نہیں کیونکہ جہاں پروپیگنڈہ ، میڈیاکوریج ، سوشل میڈیاپرواہ واہ اورپریس کانفرنس ہی اصل کارکردگی ہووہاں علی زیدی جیسےوزراکی اچھل کودبالکل منطقی دکھائی دیتی ہے ۔ 
 

Muhammad Zaheer

The author is a journalist. He is currently working for a news channel.

Muhammad Zaheer مزید تحریریں

Muhammad Zaheer

Copyright © 2018 News Makers. All rights reserved.