Enjoy The Best News and Blogs
بہترین خبریں ، بلاگ اور تجزئیے

" - صحافت اور قوموں کا زوال ایک ساتھ ہوتا ہے"

Failure is word unknown to me ...

                        حکومتی مذاکراتی کمیٹی کارہبرکمیٹی کےکنوینراکرم درانی سےرابطہ                         حکومتی ٹیم نےوزیراعظم کی زیرصدارت ہونےوالےاجلاس میں ہونےوالےفیصلوں سےآگاہ کیا                         وزیراعظم کوجاناہوگا ، عمران خان کااستعفالےکرجائیں گے،کنوینررہبرکمیٹی اکرم درانی                         مولانافضل الرحمان کبھی بھی پرویزالہیٰ سےنہیں ملیں گے، اکرم درانی                         نوازشریف کی صحت بارےمیڈیامیں بےبنیادخبریں چلائی جارہی ہیں ، ترجمان ن لیگ مریم اورنگزیب                         میڈیاسےدرخواست ہےنوازشریف کی صحت بارےخبرچلانےسےپہلےتصدیق ضرورکرے، مریم اورنگزیب                         آصف زرداری کاپمزمیں علاج جاری ، ہسپتال کےکمرےکوسب جیل قراردےدیاگیا                         آصف زرداری کوطبیعت خراب ہونےپراڈیالہ جیل سےپمزہسپتال لایاگیاتھا

تازہ ترین

         

( تلاش کریں )

Shortcut( شارٹ کٹ )

مسئلہ کشمیر پر عالمی میڈیا کی لب کشائی

08 Oct 2019 13

 

مودی امریکی چنگل میں پھنس گیا،جہاں  اسرائیل اسے لے پہنچا ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو نشانہ بنانے کیلئے خطے میں عدم استحکام  کی سازشیں شروع بعد میں ہوئیں  مگر  ناکام پہلے ہوگئیں۔اسی پریشانی نےبھارت،امریکہ اور اسرائیل گٹھ جوڑ  کے مقاصد ساری دنیا پر  عیاں کردیئے  ۔جس میں وزیراعظم عمران خان کی دورہ امریکا کے دوران عالمی رہنماوں سے ملاقاتوں اور جنرل اسمبلی میں تاریخی  خطاب کے دوران   مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم  اور پاکستان سمیت جنوبی ایشیاء کی موجودہ صورتحال کے متعلق  حقائق پیش کرنے کی موثر کوششوں کا بڑا کردار  ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے جہاں پاک بھارت کشیدگی پر دنیا کی توجہ مرکوز کرائی   وہاں نفرت انگیز بیانات کے خلاف   دلیل کے ساتھ  اپنا موقف پیش کرتے ہوئے مسلمانوں   کے متعلق دہشت گردی سمیت دیگر  منفی نظریات بھی مسترد  کردیئے ۔

اس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ مسلم امہ کو درپیش مسائل  کے خاتمے کیلئے جدوجہد سے  ترک صدر طیب اردگان اور وزیراعظم پاکستان عمران خان  دنیا بھرمیں مسلمانوں کے رہنماء کےطور پر سامنے آئے ہیں،جس کااعتراف عالمی میڈیا بھی کرنے پرمجبور ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا جنرل اسمبلی میں خطاب  نہ صرف سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بنا بلکہ   مین سٹریم میڈیا میں بھی اس کی بازگشت شدت سے سنائی دی ۔برطانوی اخبار دی انڈی پینڈنٹ  کہتا ہے  کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان دنیا میں ایک ذمہ دار کھلاڑی کے طور پر ابھر رہا ہے،ماضی کی طرح پاکستان عالمی برادری میں محض ایک پیادے کی بجائے   امن کے داعی کے طور پرموثر آواز بن گیا ہے، ایک سال کے کٹھن اور مشکل  فیصلوں اور بدترین معاشی صورتحال کے بعد  پاکستان   وزیراعظم عمران خان  کی قیادت میں مسائل کی دلدل سے نکالنا شروع  ہوگیا ہے جبکہ عالمی امور کو سرانجام دینے کے حوالے سے وزیراعظم  عمران خان کا لیڈر شپ سٹائل  ماضی کے حکمران سے مختلف ہے ۔برطانوی اخبار کہتا ہے  کہ مقبوضہ کشمیر میں پلوامہ حملے اور اس کے بعد مقبوضہ وادی کے بگڑتے حالات نے عمران خان کو بڑے امتحان میں ڈال دیا تھا تاہم وزیراعظم عمران خان نے سفارتی قابلیت کا بہترین مظاہرہ کیا اور اس محاذ پربھی اپنا لوہا منوایا ،افغان جنگ کے خاتمے اور امریکہ ایران تنازع کو حل کرنے میں وزیراعظم  عمران خان سے مدد مانگنا اس بات کا ثبوت تھا کہ  پاکستان دنیا میں ایک ذمہ دار ملک  اور امن کے داعی کے طور  پر تسلیم کیا جانے لگا ہے اور عمران خان کی قیادت نے ثابت کردیا ہے کہ عالمی امور میں پاکستان  ایک متحرک اور ذمہ دار طاقت بن گیا ہے۔اخبار دی انڈی پینڈنٹ آخر میں لکھتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو ورثے میں انتہائی  خراب معاشی حالات ملے تھے لیکن  موثر ریفارمز کےباعث معاشی حالت بھی بہترہونے لگی ہے۔

اسی طرح امریکی  اخبار نیویارک ٹائمز بھی  مظلوم کشمیریوں کی آواز بنا ہے۔اخبار کے ایڈیٹوریل بورڈ نے مسئلہ کشمیر پر اداریہ شائع کرکے دنیا کی توجہ  اس سنگین تنازع پر دلائی ہے۔اخبارلکھتا ہے   کہ اقوام متحدہ اب مزید مسئلہ کشمیر کو نظر انداز نہیں کر سکتا، مقبوضہ کشمیر پر بھارتی حکومت کے اقدام نے دو جوہری طاقتوں کو آمنے سامنے لاکھڑا کیاہے،ہندو انتہا پسند بھارتی وزیر اعظم نے مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم کی،چار ہزار سے  زائد سیاسی رہنماوں،  وکلاء اور صحافیوں  کو گرفتار کیا ، ذرائع مواصلات پر مکمل پابندی لگائی اور مسلسل کرفیو سمیت کشمیریوں پر تشدد کی راہ اختیار کی ہے۔نیویارک ٹائمز کےمطابق   نریندر مودی  نے اقوام متحدہ میں تقریر کے دوران مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدام  کو مقبوضہ وادی  کی ترقی  قرار دیا  جو مضحکہ خیز بات ہے،درحقیقت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویداروں نے اپنے ہی ملک میں مارشل لاء لگا رکھا ہے۔امریکی اخبار کے مطابق عمران خان کو اقوام متحدہ سے کوئی امید نہیں لگانی چاہیے کیونکہ حالیہ دہائیوں میں اقوام متحدہ نے مسئلہ کشمیر پر  کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی ،سلامتی کونسل  کے ممبران کے بند کمرہ اجلا س کا بھی کوئی فائدہ نہیں حاصل ہوا  اور نہ ہی امریکی صدر  ثالثی کی پیشکش میں ایماندارہیں جبکہ دیگر ممالک بھارت جیسی بڑی مارکیٹ کو کھونا نہیں چاہتے،اس لئے وہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا ساتھ نہیں دے رہے۔امریکی اخبار آخر میں لکھتا ہے  کہ اگر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ایسا سوچ رہے ہیں کہ انہوں نے مسئلہ کشمیر حل کرلیا ہے تو وہ غلط سوچ رہے ہیں۔

یہ وہ حقائق ہیں جو وزیراعظم عمران خان کے جنرل اسمبلی میں انتہائی موثر خطاب کے بعد   بدلے ہیں۔ پہلے نہ صرف عالمی قوتیں بلکہ   ذرائع ابلاغ بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و بربریت پر لب کشائی کیلئے آمادہ نہیں تھے۔ یہاں ایک اور حقیقت  کا تذکرہ ضروری ہے کہ   امریکہ جس کا دوست ہوا   اسے پھر دشمن کی ضرورت نہ رہی،یہی حال بھارت کا ہونے جارہا ہے۔ جنگی جنون میں مبتلا بھارت  معاشی مشکلات سے دوچار ہورہا ہے اور امریکہ  اپنے مہنگے ہتھیاروں کی فروخت  کیلئے بھارت کو راغب  کررہا ہے۔ بھارت سے تعلقات کیلئے امریکہ  کے اور بھی  کئی  مقاصد ہیں ،ان میں چین کے خلاف بھارت کی بالادستی،خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ اور پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو نشانہ بنانا شامل ہیں۔امریکہ کے ان مقاصد کے حصول میں اگر بھارت کسی مشکل میں الجھ جاتا ہے تو  سپرپاور کو اس سے کوئی غرض نہیں ہوگی۔اس وقت   بھارتی عوام اور میڈیا بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے دوغلاپن سے آگاہ ہیں۔امریکی صدر نےبھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ امریکی ریاست ٹیکساس کے ایک جلسے میں شرکت کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان ایسا مُلک ہے جس نے بھارت اور امریکا میں حملے کرنے والے دہشتگردوں کو پناہ دی ہوئی ہے۔ٹرمپ نے پاکستان مخالف بیان کے اگلے روز ہی پاکستان کو امریکا کا بہترین  دوست بھی  قرار دے دیا تھا۔ جس کے بعد بھارتیوں نے سوشل میڈیا پر ٹرمپ کے خلاف بولنا شروع کردیا ۔امریکی صدر نے اپنے بیان میں وزیراعظم عمران خان کو ایک ’عظیم لیڈر ‘ قرار دیا اور یہ بھی کہا کہ اُن کے بہت سے دوست پاکستانی ہیں۔ ٹرمپ کے اس بیان نے بھارتیوں کو کشمکش میں ڈال دیا۔جو بھارتی سوشل میڈیا پر ٹرمپ اور مودی کی مشترکہ ریلی کو پاکستان کے خلاف بڑی  فتح کے طور پر پیش کر رہے تھے اور وزیراعظم عمران خان کے خلاف مزاحیہ میمز بنا رہے تھے اب وہ   سوشل میڈیا پر ٹرمپ کے خلاف بولنے لگے ہیں۔

mughal_khalil@ymail.com

 

Author: Khalil Mughal

Mr. Khalil Mughal is a senior journalist with a long career. He has served in the leading media organizations in Pakistan. Currently, he is associated with Express News.

Read More From: Khalil Mughal

تازہ ترین

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

یوٹرن تواچھےہوتےہیں

یوٹرن تواچھےہوتےہیں اسلام علیکم دوستو۔۔  قسمت کےکھیل بھی نرالےہیں،کب کیاہوجائے،پتاہی نہیں چلتا،یوٹ
By : Muhammad Zaheer
12 Jan 2019

عمران خان کاسب سےبڑامسئلہ کیاہے؟

مائی نیم ازریمبوریمبو،جان ریمبو،سلویسٹرسٹیلیون۔۔ دوستو،جس طرح یہ ڈائیلاگ بولنےسےمیں ریمبونہیں بن گیا،ا
By : Muhammad Zaheer
12 Jan 2019

سیاستدان اورگاوں کاچور

 پاکستان کےموجودہ سیاسی حالات پرغوروفکرکےگھوڑےدوڑاتےدوڑاتےمیں فی الحال اس نتیجےپرپہنچاہوں کہ کوئلوں کی
By : Muhammad Zaheer
19 Oct 2018

(پارلیمانی نظام کیخلاف سازش ؟ (دوسراحصہ

پارلیمانی نظام کیخلاف سازش تونہیں ہورہی ؟ (گزشتہ سےپیوستہ) کچھ لوگ ریس کےزبردست کھلاڑی ہوتےہیں لیکن شرط
By : Muhammad Zaheer
30 Apr 2019