Enjoy The Best News and Blogs
بہترین خبریں ، بلاگ اور تجزئیے

" - صحافت اور قوموں کا زوال ایک ساتھ ہوتا ہے"

Failure is word unknown to me ...

                        حکومتی مذاکراتی کمیٹی کارہبرکمیٹی کےکنوینراکرم درانی سےرابطہ                         حکومتی ٹیم نےوزیراعظم کی زیرصدارت ہونےوالےاجلاس میں ہونےوالےفیصلوں سےآگاہ کیا                         وزیراعظم کوجاناہوگا ، عمران خان کااستعفالےکرجائیں گے،کنوینررہبرکمیٹی اکرم درانی                         مولانافضل الرحمان کبھی بھی پرویزالہیٰ سےنہیں ملیں گے، اکرم درانی                         نوازشریف کی صحت بارےمیڈیامیں بےبنیادخبریں چلائی جارہی ہیں ، ترجمان ن لیگ مریم اورنگزیب                         میڈیاسےدرخواست ہےنوازشریف کی صحت بارےخبرچلانےسےپہلےتصدیق ضرورکرے، مریم اورنگزیب                         آصف زرداری کاپمزمیں علاج جاری ، ہسپتال کےکمرےکوسب جیل قراردےدیاگیا                         آصف زرداری کوطبیعت خراب ہونےپراڈیالہ جیل سےپمزہسپتال لایاگیاتھا

تازہ ترین

         

( تلاش کریں )

Shortcut( شارٹ کٹ )

اہل سیاست کے ہاتھوں اہل ثقافت کی موت

08 Oct 2019 37

پنجاب یونیورسٹی میں ایم ایس سی فلم اینڈ ٹی وی کے طلباء کو گزشتہ چند برسوں سے میں ’’قومی و بین الاقوامی امور‘‘ پڑھا رہا ہوں۔ صرف ایک لیکچر رہ گیا ہے۔ سمسٹر مکمل۔ ’’ڈپلومیسی، اس کا ڈھانچہ اور اس کے مقاصد‘‘ ان فنکار طالب علموں کے لئے شاید ایسا ہی خشک موضوع ہے جیسا ہمیں ریاضی معلوم ہوا کرتا تھا۔ لیکچر مکمل ہونے پر میں نے کچھ فنی گفتگو کا فیصلہ کیا۔ میں نے پوچھا آپ میں سے کتنے لوگ اندر سبھا ڈرامہ اور اس کے مصنف امانت لکھنوی سے واقف ہیں۔ جواب سکوت۔ پھر پوچھا کیا کوئی رستم و سہراب کے قصے سے واقف موجود ہے۔ ایک بار پھر خاموشی بولنے لگی۔ کلاس میں کچھ طالب علم تھیٹر آرٹ سے منسلک ہیں۔ تھوڑی دیر پہلے جو سرکھجا رہے تھے۔ موبائل کھول رہے تھے۔ ساتھ بیٹھے کو کہنیاں مار رہے تھے وہ یکسو ہو چکے تھے۔ میں نے ان سے مزیدباتیں کرنے کا فیصلہ کیا۔ کہا، کیا آپ جانتے ہیں گائیکی کو ہوا کی گرہیں باندھنے کا کام کہا جاتا ہے۔ کوئی کپڑا‘ رسی‘ دھاگہ ہو تو اس کی گرہ لگائی جا سکتی ہے۔ استاد گائیک کا گلا اور پھیپھڑے مختلف مشقیں اور ریاض کرانے کے بعد اس قدر تیار کر سکتے ہیں کہ گانے والا گائیکی کے دوران سانس کو سر میں ڈھال لیتا ہے۔ہوا کو مرضی کی آواز کے لیے استعمال کرتا ہے، مرضی کی آواز‘ لے اور سر کا راستہ بنا لیتا ہے۔ یہ دنیا کے مشکل ترین کاموں میں سے ایک ہے اور جو لوگ یہ گرہ باندھنا سیکھ لیتے ہیں وہ تخلیقی سطح پر اعلیٰ ترین درجہ پر ہوتے ہیں۔ آج فریدہ خانم‘ غلام علی‘ غلام عباس،حامد علی خان اور نیرہ نور حیات ہیں۔ کوئی ان سے پوچھ لے۔ استاد مکرم اطہر ندیم مرحوم انگریزی‘ عربی‘ فارسی‘ روسی اور فرانسیسی ادب کے سکالر تھے۔ ایک روز قوالی کے فن پر بات شروع کی۔ ڈیڑھ دو گھنٹے میں قدیم قوال خاندانوں‘ ان کے انداز گائیکی، قوالی کے لوازمات‘ موضوعات اور محافل سماع کے متعلق ذاتی مشاہدہ و تجربہ بیان کرتے رہے۔ افسوس یہ گفتگو ریکارڈنہ کر سکا۔ اطہر صاحب لوک فنکار طفیل نیازی کو میلوں ٹھیلوں میں سنتے رہے تھے بلکہ شاید طفیل نیازی اس وقت قومی سطح پر معروف بھی نہیں تھے۔ اطہر صاحب ’’پھنے خاں‘‘ کے کئی ڈائیلاگ سنایا کرتے۔ علائوالدین نے لاہور کے ایک رنگ باز کا کردار کیا عمدگی سے ادا کیا۔ علائو الدین اور آغا طالش فلمی ناقدین کی ستائش سے جانے کیوں محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ سادہ سے شلوار قمیض میں ایک بوڑھا سامنے بیٹھا تھا۔ فلموں میں طاقتور‘ فسادی اور بدمعاش دکھائے جاتے تھے، ادیب ایسے نہیں لگے۔کوئی پندرہ سال ہوئے دنیا کے سٹیج پر اداکاری کے جوہر دکھا کر رخصت ہوئے۔ آخر عمر فلم نگر اجڑ رہا تھا۔ ہنر مند اور فنکار بے روزگار ہو رہے تھے اوپر تلے بہت سی فلمیں فلاپ ہوئیں تو 1952ء کے لگ بھگ بمبئی یونیورسٹی سے ایم اے اردو کرنے والے اداکار ادیب بھی تنگدستی کا شکار ہو گئے۔ وہ ہمارے دفتر میں ملازمت کی تلاش میں آئے تھے۔ استقبالیہ کلرک نے انتظامی سربراہ کو اطلاع دی کہ پاکستان فلم انڈسٹری کے مشہور ولن ادیب ان سے ملنا چاہتے ہیں۔ فوراً بلا لیا گیا۔ ادیب صاحب بہت سادہ، منکسر المزاج اور صاف گو معلوم ہوئے۔ میں نے پوچھا کتنی فلموں میں کام کر چکے ہیں۔ بتایا 900سے زائد۔ زیادہ تر پنجابی فلموں میں چھاتی پھلا کر اور رنگ رنگ کے ریشمی ملبوسات پہن کر اردو کے لہجے میں پنجابی بولتے۔ میں نے پوچھا اتنی فلموں میں کام کرنے کے باوجود اس قدر محتاجی کیوں۔: بھائی بات یہ ہے کہ فلم والوں کو جو بد عادات ہوتی ہیں وہ مجھ میں بھی رہی ہیں۔ بہت پیسہ کمایا کچھ فلم سٹوڈیوز میں قائم جوا خانوں میں اڑا دیا اور کچھ عورتوں پر۔ زیادہ خسارہ کہاں پر ہوا؟ تانی بیگم سے شادی سب سے بڑے گھاٹے کا سودا ثابت ہوئی۔ وہ میری ساری جمع پونجی لے گئی۔ میں نے روائتی ضروریات کو مدنظررکھ کر سوالات پوچھے اور انٹرویو شائع ہو گیا مگر ایک بزرگ فنکار کا یہ جملہ مجھے اندر سے کھا گیا’’میں تو چار ہزار کی نوکری کے لئے آیا تھا آپ نے میرا انٹرویو شروع کر دیا‘‘ اس وقت ہم لوگوں کی اپنی تنخواہیں بہت کم تھیں۔ میں مضطرب ہو گیا۔ اطہر صاحب سے کہا کہ سیاسی کالم کی جگہ اس بار میں ادیب صاحب پر لکھنا چاہتا ہوں۔ وہ ہمیشہ حوصلہ افزائی کرنے والے تھے‘ اجازت دیدی، کالم شائع ہوا۔ میں نے ادیب صاحب کی اجازت سے لکھ دیاکہ اتنا سینئر فنکار گھر میں آٹا نہ ہونے پر پریشان ہے۔ ان دنوں لاہور میں ایک نیا سیاستدان ابھرا تھا۔ ہمارے علاقے ٹائون شپ و گرین ٹائون میںآٹے کے ہزاروں تھیلے بانٹ رہا تھا۔ میں نے کالم میں اسے مخاطب کر کے ادیب صاحب کی مدد کا کہا۔ کسی واقف کار سے اسے پیغام بھجوایا جواب آیا :وہ ہمارے حلقے کے ووٹر نہیں۔ اب میں دوہرے عذاب میں پھنس گیا۔ ادیب کی بیگم فون کرتیں اور مدد کی یاد دہانی کراتیں۔ میں لکھ سکتا تھا۔ میرے پاس لفظوں کے سکے تھے اور یہ سکے بھوک کے بازار میں کھوٹے تھے۔ کچھ نہ کر سکا۔ پھر ادیب صاحب فوت ہو گئے۔ ان کی بیگم بھی بزرگ تھیں۔ جانے ان کا کیا ہوا۔ اولاد بھی شاید نہیںتھی۔ اللہ بھلا کرے سید نور کا۔ انہوں نے میرا کالم پڑھا اور وعدہ کیا کہ وہ اپنے ہر پراجیکٹ میں ادیب کے لئے کام نکالیں گے۔ سید نور نے یہ وعدہ پورا بھی کیا۔ بنیادی بات یہ ہے کہ ہم کسی فن اور ہنر سے لگائو رکھتے ہیں مگر روایت کی پوری لڑی اور سلسلے سے آگاہ نہیں ہوتے۔ نئی بات کہنے کے شوق نے ہمیں تاریخی شعور سے محروم کر دیا ہے۔ ڈاکٹر تاثیر نے کئی عشرے قبل کہا تھا:فنی سرگرمیاں پاکستان میں قریب قریب رک کر رہ گئی ہیں ۔سماج کے تضاد اور ان کی پیچیدگیوں نے نئے اور پرانے ادیبوں‘ شاعروں فنکاروں اور مصوروں کو الجھن میں مبتلا کر رکھا ہے۔ پرانے سوالوں کے نئے حل تلاش کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔بھٹو اس لئے بھٹو ہے کہ اس کے شعور میں سیاسی مفکرین کے ساتھ لوک فنکار تک موجود تھے جبکہ عمران خان نے ادبی اداروں‘ فنکاروں اور ثقافتی شخصیات سے خود کو دور رکھ کر معاشرے کو زندہ رکھنے والے ’’ادیب‘‘ کوابھی تک اپنے حلقے کا ووٹر تسلیم نہیں کیا۔

Author: Muhammad Ashraf Sharif

Mr. Ashraf Sharif is a journalist for the last 2 decades. He has worked on senior positions in Pakistan's esteemed national dailies. He is currently working as assistant editor Daily 92 news, Lahore. A journalist by profession, Mr. Sharif  takes gardening as his passion. It is his dream to make environment clean and green. He can be reached @ : ashrafsharif786@yahoo.com

Read More From: Muhammad Ashraf Sharif

تازہ ترین

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

یوٹرن تواچھےہوتےہیں

یوٹرن تواچھےہوتےہیں اسلام علیکم دوستو۔۔  قسمت کےکھیل بھی نرالےہیں،کب کیاہوجائے،پتاہی نہیں چلتا،یوٹ
By : Muhammad Zaheer
12 Jan 2019

عمران خان کاسب سےبڑامسئلہ کیاہے؟

مائی نیم ازریمبوریمبو،جان ریمبو،سلویسٹرسٹیلیون۔۔ دوستو،جس طرح یہ ڈائیلاگ بولنےسےمیں ریمبونہیں بن گیا،ا
By : Muhammad Zaheer
12 Jan 2019

سیاستدان اورگاوں کاچور

 پاکستان کےموجودہ سیاسی حالات پرغوروفکرکےگھوڑےدوڑاتےدوڑاتےمیں فی الحال اس نتیجےپرپہنچاہوں کہ کوئلوں کی
By : Muhammad Zaheer
19 Oct 2018

(پارلیمانی نظام کیخلاف سازش ؟ (دوسراحصہ

پارلیمانی نظام کیخلاف سازش تونہیں ہورہی ؟ (گزشتہ سےپیوستہ) کچھ لوگ ریس کےزبردست کھلاڑی ہوتےہیں لیکن شرط
By : Muhammad Zaheer
30 Apr 2019