Enjoy The Best News and Blogs
بہترین خبریں ، بلاگ اور تجزئیے

" - صحافت اور قوموں کا زوال ایک ساتھ ہوتا ہے"

Failure is word unknown to me ...

                        حکومتی مذاکراتی کمیٹی کارہبرکمیٹی کےکنوینراکرم درانی سےرابطہ                         حکومتی ٹیم نےوزیراعظم کی زیرصدارت ہونےوالےاجلاس میں ہونےوالےفیصلوں سےآگاہ کیا                         وزیراعظم کوجاناہوگا ، عمران خان کااستعفالےکرجائیں گے،کنوینررہبرکمیٹی اکرم درانی                         مولانافضل الرحمان کبھی بھی پرویزالہیٰ سےنہیں ملیں گے، اکرم درانی                         نوازشریف کی صحت بارےمیڈیامیں بےبنیادخبریں چلائی جارہی ہیں ، ترجمان ن لیگ مریم اورنگزیب                         میڈیاسےدرخواست ہےنوازشریف کی صحت بارےخبرچلانےسےپہلےتصدیق ضرورکرے، مریم اورنگزیب                         آصف زرداری کاپمزمیں علاج جاری ، ہسپتال کےکمرےکوسب جیل قراردےدیاگیا                         آصف زرداری کوطبیعت خراب ہونےپراڈیالہ جیل سےپمزہسپتال لایاگیاتھا

تازہ ترین

         

( تلاش کریں )

Shortcut( شارٹ کٹ )

دنیا کا امن سرمایہ دارانہ نظام کے شکنجے میں

17 Sep 2019 37

عالمی حالات عدم استحکام  کی طرف گامزن ہیں، معاشی ترقی اقوام عالم   کی اولین ترجیح بن چکی ہے جبکہ  پاکستان اپنے خطے میں حالیہ جنگوں سمیت  نامساعد حالات کے باعث  معاشی بحران سے دوچار ہے،پاکستان آج تک جن ممالک کو اپنا دوست تصور کرتا رہا، وہ بھی بہتر معیشت کا سہارا ڈھونڈنے کیلئے  نظریں پھیر رہے ہیں۔ان   دوستوں کی نظر یں اب  ہمارے دشمن بھارت  پر مرکوز  ہیں۔

ایک طرف جنوبی ایشیاء میں  پاکستان،چین اور ترکی میں روابط بڑھے ہیں۔دوسری طرف بھارت،امریکا اور اسرائیل اس خطے میں گھناونے عزائم کے لئے ایک پیج پر ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی اہمیت  ختم کرنے کا بھارتی اقدام اور افغان طالبان سے امن مذاکرات ختم کرنے کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان محض اتفاق نہیں  بلکہ  نئے کھیل کے اہم پہلو ہیں ۔دونوں اقدامات کا مقصد پاکستان کی مشرقی اور مغربی سرحدوں پر بیک وقت خطرات میں اضافہ  کرنا ہے ۔

چین ابھرتی ہوئی نئی عالمی طاقت ہے ۔ گوادر بندرگاہ تک رسائی چین کی معیشت کو عروج پر پہنچانے کا بڑا ذریعہ   ہوگی ۔چین اور پاکستان سمیت جنوبی ایشیاء کے کئی ممالک  کیلئے سی پیک منصوبہ   گیم چینجرہے ۔لیکن امریکا اپنی معاشی بالادستی برقرار رکھنے سمیت جنوبی ایشیاء میں چین کی بجائے بھارت کی برتری چاہتا ہے تاکہ بھارت مستقبل میں امریکی مفادات کا بہتر انداز میں تحفظ کرسکے ۔امریکی ارادوں کی تکمیل اور چین کی ترقی روکنے کیلئے پاکستان کے ساتھ سی پیک  کو نشانہ بنانے کی سازش ہورہی ہے ،جس  سے خطے کے امن کیلئے خطرات بڑھ گئے ۔

افغانستان سمیت اس پورے خطے میں آئندہ  جلد  بہت کچھ ہونے والا ہے۔ایک بات تو واضح ہے کہ   امریکہ نہ تو افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے اور نہ ہی وہ افغانستان کا مسئلہ حل کرنا چاہتا ہے۔وہ افغانستان میں نہ صرف اپنی فوجی موجودگی مزید بڑھائے گا  بلکہ اس خطے کو نئی جنگ میں جھونکنا اور جنگ کا دائرہ ایک طرف مشرق وسطیٰ اور دوسری طرف جنوب مشرقی ایشیا تک بڑھانا چاہتا ہے۔ یہ سب کچھ کیوں ہونے جارہا ہے؟ اس سوال کا جواب حاصل کرنے کیلئے موجودہ حالات کو عالمی سامراجی اور سرمایہ دارانہ نظام کے تاریخی تسلسل کے تناظر میں بھی سمجھنا ہوگا۔ یہ نظام نت  نئے  ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے۔

دنیا میں وہ توازن ختم ہوگیا ہے  جو سرد جنگ میں تھا۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ سرمایہ دارانہ نظام کی قہر سامانیوں کو لگام ڈالنے کیلئے اشتراکی بلاک کی جو عارضی بندش تھی، وہ ختم ہوگئی۔ اشتراکی بلاک کے مفادات غیر سامراجی تھے۔ اب دنیا میں خانہ جنگی اور خونریزی ہوگی اور معاشی ترقی نہیں ہوگی۔ امریکہ نے  واحد سپر پاور بن  کر  دنیا میں یونی پولر یعنی یک قطبی نظام رائج  کیا۔ اور اب  یک قطبی نظام والا عہد  ختم ہورہا ہے۔ چین اور مشرق کے کئی ممالک اقتصادی طاقتیں بن کر ابھرے ہیں۔ دنیا میں نئی صف بندی ہورہی ہے۔ مشرق بعید اور لاطینی امریکہ کے  جو ممالک یک قطبی عہد کے عذابوں سے بچے رہے  وہ آج  اقتصادی طاقت بن چکے ہیں۔

بھارت، ایران، بنگلہ دیش، سری لنکا اور کئی دوسرے  جنوبی ایشیائی ممالک نے بھی خود کو امریکہ اور اس کے حواریوں کی سیاست سے بچا کر رکھا۔ چین خود ایک عالمی معاشی طاقت کے طور پر اپنے سرمایہ دارانہ ایجنڈے پر چل پڑا ہے اور وہ تصادم کی سیاست سے گریز کرتے ہوئے امریکی اور مغربی سامراجی طاقتوں کے سامنے ایک بلاک بن کر کھڑا  ہے۔چین  ان سامراجی  ممالک  کی منڈیوں میں گھس گیا ہے۔ روس، ایران اور معاشی طور پر ابھرتے ہوئے دیگر ممالک  چین کی طرف داری پر مجبور ہیں۔ صرف بھارت اس خطے میں امریکہ، اسرائیل اور ان کے حواریوں کا کھل کا ساتھ دے رہا ہے کیونکہ بھارت  کے اپنے سامراجی عزائم  بھی ہیں۔یہ بھارت ہی ہے  جو مشرق کی مغرب پر  تاریخ میں پہلی بالادستی قائم ہونے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ بھارت کا امریکہ، اسرائیل اور دیگر مغربی سامراجی طاقتوں سے گٹھ جوڑ اس لئے  بھی ہے کہ مشرق کی بالادستی کا سرخیل چین نہ بن جائے۔

جسے ہم سردجنگ کا عہد کہتے تھے، اس میں خونی طاقت کا ٹکراو غالب تھا۔ پاکستان امریکی بلاک میں ایک فوجی طاقت کی حیثیت سے بہت اہم تھا۔ سرد جنگ کا عہد ختم ہونے کے بعد یہ اہمیت کم ہوئی۔ یک قطبی نظام کے خاتمے کے بعد  پاکستان کی یہ اہمیت مزید کم ہورہی ہے۔پاکستان جنگوں اور  دہشت گردی  میں الجھا رہا اور معاشی ترقی کی صلاحیت کو بروئے کار نہ لاسکا۔ یہ آج کے حالات میں بہت تشویشناک بات ہے۔ پاکستان خطے کے جن اسلامی اور غیر اسلامی ممالک کو اپنا دوست سمجھ کر ان پر انحصار کررہا تھا، وہ بدلتی ہوئی دنیا میں اپنے معاشی  مفادات میں الجھ چکے ہیں۔ ان ممالک میں بعض تو ایسے ہیں جن کے حکمران یا تو امریکہ کے حاشیہ بردار ہیں یا ان کے دست نگر ہیں۔اور یوں  پاکستان بھی سیاسی اور معاشی طور پر عالمی سامراجی نظام کے خوفناک شکنجے میں آچکا ہے۔پاکستان کو   نہ صرف افغانستان میں ممکنہ نئی مہم سے مزید مشکلات درپیش آسکتی ہیں بلکہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بھی اس کے لئے چیلنج ہے۔

mughal_khalil@ymail.com

تازہ ترین

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

یوٹرن تواچھےہوتےہیں

یوٹرن تواچھےہوتےہیں اسلام علیکم دوستو۔۔  قسمت کےکھیل بھی نرالےہیں،کب کیاہوجائے،پتاہی نہیں چلتا،یوٹ
By : Muhammad Zaheer
12 Jan 2019

عمران خان کاسب سےبڑامسئلہ کیاہے؟

مائی نیم ازریمبوریمبو،جان ریمبو،سلویسٹرسٹیلیون۔۔ دوستو،جس طرح یہ ڈائیلاگ بولنےسےمیں ریمبونہیں بن گیا،ا
By : Muhammad Zaheer
12 Jan 2019

سیاستدان اورگاوں کاچور

 پاکستان کےموجودہ سیاسی حالات پرغوروفکرکےگھوڑےدوڑاتےدوڑاتےمیں فی الحال اس نتیجےپرپہنچاہوں کہ کوئلوں کی
By : Muhammad Zaheer
19 Oct 2018

(پارلیمانی نظام کیخلاف سازش ؟ (دوسراحصہ

پارلیمانی نظام کیخلاف سازش تونہیں ہورہی ؟ (گزشتہ سےپیوستہ) کچھ لوگ ریس کےزبردست کھلاڑی ہوتےہیں لیکن شرط
By : Muhammad Zaheer
30 Apr 2019