Enjoy The Best News and Blogs
بہترین خبریں ، بلاگ اور تجزئیے

" - صحافت اور قوموں کا زوال ایک ساتھ ہوتا ہے"

Failure is word unknown to me ...

                        حکومتی مذاکراتی کمیٹی کارہبرکمیٹی کےکنوینراکرم درانی سےرابطہ                         حکومتی ٹیم نےوزیراعظم کی زیرصدارت ہونےوالےاجلاس میں ہونےوالےفیصلوں سےآگاہ کیا                         وزیراعظم کوجاناہوگا ، عمران خان کااستعفالےکرجائیں گے،کنوینررہبرکمیٹی اکرم درانی                         مولانافضل الرحمان کبھی بھی پرویزالہیٰ سےنہیں ملیں گے، اکرم درانی                         نوازشریف کی صحت بارےمیڈیامیں بےبنیادخبریں چلائی جارہی ہیں ، ترجمان ن لیگ مریم اورنگزیب                         میڈیاسےدرخواست ہےنوازشریف کی صحت بارےخبرچلانےسےپہلےتصدیق ضرورکرے، مریم اورنگزیب                         آصف زرداری کاپمزمیں علاج جاری ، ہسپتال کےکمرےکوسب جیل قراردےدیاگیا                         آصف زرداری کوطبیعت خراب ہونےپراڈیالہ جیل سےپمزہسپتال لایاگیاتھا

تازہ ترین

         

( تلاش کریں )

Shortcut( شارٹ کٹ )

خالصتان تحریک ۔۔ 47 کےبعد

16 Sep 2019 134

 
پچاس کے عشرے یعنی آزادی کے فوری بعد جب کانگرس کی طرف سے سکھوں کے ساتھ کئے گئے وعدے پورے ہوتے نظر نہ آئے تو پنجاب کی لسانی شناخت محفوظ بنانے کے لئے مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ بھارت کے سٹیٹ ری آرگنائزیشن کمشن نے شدید احتجاج کے بعد پنجابی زبان کو قومی زبانوں میں شامل کرنے کے حوالے سے سکھوں کے مطالبات تسلیم کر لئے مگر اس کے بعد مشرقی پنجاب کے وسیع علاقے کو ہما چل پردیش ‘ ہریانہ اور پنجاب کی تین ریاستوں میں بانٹ دیا۔ پنجاب کو زرعی مراعات ملیں۔ سبز انقلاب کے مقامی آبادی پر مثبت اثرات مرتب ہوئے۔ جدید زرعی ٹیکنالوجی آئی۔ مگر اس سے دولت کا ارتکاز چند ہاتھوں میں ہو گیا۔ بھارتی حکومت پنجاب کو پاکستان کی سرحد پر واقع ہونے اور سکھوں کو ناقابل اعتبار سمجھ کر یہاں بھاری صنعتوں کا قیام ایک خطرناک چیز سمجھتی ہے۔ جب بھی پنجاب میں بڑی سرمایہ کاری کا سوال اٹھا بھارتی حکام نے اس کے اثرات کو مشرقی اور مغربی پنجاب کے طور پر دیکھا۔ بھارتی حکمران پنجاب کو تقسیم کرنے کے بعد بھی اس خدشے کا شکار ہیں کہ ننکانہ صاحب‘ کرتار پور‘ پنجہ صاحب اور رنجیت سنگھ کی سمادھی کے متعلق قائد اعظم کے وعدے کو پاکستانی قوم آج تک نبھا رہی ہے۔ اس امر نے سکھوں کی سوچ تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ دوسری طرف مشرقی پنجاب کو صنعتی ترقی سے محروم اور اس کے کاشت کاروں کو پاکستان سے لین دین کے لئے پابندیوں کا سامنا رہتا ہے۔پنجاب کے سکھوں نے جدیداور اعلیٰ تعلیم حاصل کی مگر ان کے لئے ملازمتیں موجود نہ تھیں۔ احساس محرومی بڑھا تو انہوں نے مسلح گروپ بنانے شروع کر دیے۔ 
1972ءمیں اکالی دل نے پنجاب میں انتخابی میدان مار لیا۔ اکالی دل نے کامیاب ہو کر آنند احب قرار داد منظور کی۔1973ءمیں پیش کردہ اس قرار داد میں پنجاب کے لئے مزید خود مختاری کا مطالبہ کیا گیا۔ اس میں سکھوں کو درپیش سیاسی و مذہبی مسائل کا ذکر کیا گیا تھا۔ قرار داد میں کہا گیا کہ سکھ مت کو ہندو مت سے الگ مذہب تسلیم کیا جائے۔ مرکز سے اختیارات ریاستوں کو منتقل کرنے کا مطالبہ بھی اس قرار داد کا حصہ تھا۔ بھارتی حکومت نے اس قرار داد کو مسترد کر دیا۔بھارت کے بعض حلقوںنے قرار داد کی مخالفت کرتے ہوئے اسے درپردہ پاکستانی کارفرمائی قرار دےااور کہا کہ پاکستان سقوط مشرقی پاکستان کا بدلہ لینا چاہتا ہے۔ پنجاب کے سکھوں نے بھارتی حکومت کے اس فیصلے کو تحریک آزادی کے دوران اپنے ساتھ ہونے والے وعدوں کی خلاف ورزی قرار دیدیا۔1982ءمیں جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ نے بھارتی حکومت کے خلاف دھرم یدھ مورچہ شروع کرنے کے لئے اکالی دل میں شمولیت اختیار کر لی۔ جلد ہی ہزاروں لوگ اس تحریک کا حصہ بن گئے۔ ابتدائی طور پر اس مورچے کے مطالبات میں وسائل کا زیادہ حصہ اور چندی گڑھ کو پھر سے پنجاب میں شامل کرنا تھا۔ بھنڈرانوالہ نے آنند پور قرار داد مسترد ہونے کے بعد ہی سکھوں کے لئے خالصتان کے نام سے الگ وطن کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطالبے کو تیزی سے پذیرائی ملی۔ اکالی دل کی حریف جماعت کانگرس کی سربراہ اور بھارت کی وزیر اعظم اندراگاندھی کا خیال تھا کہ آنند صاحب قرار داد کو تسلیم کرنے کا مطلب بھارت کو تقسیم کرنا ہے۔
بھنڈرانوالہ قدامت پسند تھے ۔ ان کی تقریروں نے سکھوں میں جوش بھر دیا۔ بھنڈرانوالہ کے ساتھی فوجا سنگھ کی بیوہ بی بی امرجیت کور نے ببر خالصہ کے نام سے ایک گروپ قائم کیا جو ہر اس شخص کو قابل گردن زدنی سمجھتا تھا جو سکھوں کا دشمن تھا۔ فوجا سنگھ دل خالصہ گروپ کا سربراہ تھا اور اس نے الگ سکھ ریاست کا مطالبہ کر دیا تھا۔ فوجا سنگھ کی کوششوں سے ہی آل انڈیا سکھ سٹوڈنٹس فیڈریشن قائم ہوئی۔ پنجاب میں یکایک کانگرس کے حامیوں اور علیحدگی مخالف شخصیات کے قتل کے واقعات بڑھ گئے۔ ان واقعات کی ذمہ داری ببر خالصہ اور بھنڈرانوالہ گروپ پر عائد کی جانے لگی۔ ببر خالصہ کے کارکن گولڈن ٹیمپل میں رہائش کرنے لگے۔ کانگرس نواز نرانکاری سکھ فرقے کا سربراہ گوربچن قتل ہوا تو الزام جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ پر لگا۔ بھنڈرانوالہ گولڈن ٹیمپل میں روپوش ہو گیا۔ تین سال بعد اکھنڈ کرتانی جتھہ کے اجیت سنگھ نے اس قتل کی ذمہ داری قبول کر لی۔ بھارت کا خیال رہا ہے کہ مشرقی اور مغربی پنجاب کے گوردواروں میں علیحدگی پسند سکھ پناہ لیتے ہیں اور یہاں اسلحہ چھپایا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے وہ پاکستان آنے والے سکھوں کی خصوصی نگرانی کرتا ہے۔ سکھوں کے خلاف یہی سوچ اندراگاندھی کو آپریشن بلیو سٹار تک لے گئی جس میں سینکڑوں سکھ بھارتی فوج کے ہاتھوں مارے گئے۔ آخر کار اندراگاندھی خود بھی انتقام سے بھرے اپنے ایک محافظ سکھ کا نشانہ بن گئیں۔ شاید سکھوں نے کانگرس کی سربراہ اور ملک کی وزیر اعظم کو قتل کر کے نہرو اور پٹیل کی وعدہ خلافیوں کا بدلہ لے لیا۔
اس معاملے کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بھارتی پولیس اور فوج نے اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالا اور سوویت یونین نے پاکستانی ایجنسیوں کے ساتھ ساتھ امریکی سی آئی اے کو بھی خالصتان نواز قرار دیا۔ اندرا گاندھی کے قتل کے بعد سکھ کش فسادات شروع ہو گئے۔ 20ہزار سے زائد سکھ بھارت سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ ان ہنگاموں نے خالصتان کے لئے عوامی حمایت میں اضافہ کر دیا۔پنڈت نہر ونے سیکولر بھارت کا نعرہ اس لئے لگایا تاکہ مسلمانوں کی دیکھا دیکھی کوئی دوسری اقلیت الگ وطن کا مطالبہ نہ کر سکے۔ پنجاب کی تقسیم اسی لئے مسلم اور غیر مسلم کی بنیاد پر ہوئی۔ سکھ کانگرس کے اس دھوکے میں نہ آتے تو پنجاب سارے کا سارا پاکستان میں شامل ہوتا۔ لاکھوں افراد قتل نہ ہوتے اور سکھوں کو اپنے مقدس مقامات کی زیارت کے لئے بھارت کی اجازت کا محتاج نہ ہونا پڑتا۔

Author: Muhammad Ashraf Sharif

Mr. Ashraf Sharif is a journalist for the last 2 decades. He has worked on senior positions in Pakistan's esteemed national dailies. He is currently working as assistant editor Daily 92 news, Lahore. A journalist by profession, Mr. Sharif  takes gardening as his passion. It is his dream to make environment clean and green. He can be reached @ : ashrafsharif786@yahoo.com

Read More From: Muhammad Ashraf Sharif

تازہ ترین

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

یوٹرن تواچھےہوتےہیں

یوٹرن تواچھےہوتےہیں اسلام علیکم دوستو۔۔  قسمت کےکھیل بھی نرالےہیں،کب کیاہوجائے،پتاہی نہیں چلتا،یوٹ
By : Muhammad Zaheer
12 Jan 2019

عمران خان کاسب سےبڑامسئلہ کیاہے؟

مائی نیم ازریمبوریمبو،جان ریمبو،سلویسٹرسٹیلیون۔۔ دوستو،جس طرح یہ ڈائیلاگ بولنےسےمیں ریمبونہیں بن گیا،ا
By : Muhammad Zaheer
12 Jan 2019

سیاستدان اورگاوں کاچور

 پاکستان کےموجودہ سیاسی حالات پرغوروفکرکےگھوڑےدوڑاتےدوڑاتےمیں فی الحال اس نتیجےپرپہنچاہوں کہ کوئلوں کی
By : Muhammad Zaheer
19 Oct 2018

(پارلیمانی نظام کیخلاف سازش ؟ (دوسراحصہ

پارلیمانی نظام کیخلاف سازش تونہیں ہورہی ؟ (گزشتہ سےپیوستہ) کچھ لوگ ریس کےزبردست کھلاڑی ہوتےہیں لیکن شرط
By : Muhammad Zaheer
30 Apr 2019