Enjoy The Best News and Blogs
بہترین خبریں ، بلاگ اور تجزئیے

" - صحافت اور قوموں کا زوال ایک ساتھ ہوتا ہے"

Failure is word unknown to me ...

         

( تلاش کریں )

Shortcut( شارٹ کٹ )

جج دو نمبر ۔۔ فیصلہ ایک نمبر

27 Aug 2019 121

کہتے ہیں منہ سےنکلی بات اورکمان سےنکلا تیرواپس نہیں آتے۔ یہی بات اگرہم عدالتی فیصلوں بارےکہیں توشایدغلط نہیں ہوگا کیونکہ فیصلہ سنائےجانےکےبعدپبلک پراپرٹی بن جاتاہےجس پرہرکوئی اپنےاپنےاندازسےتبصرہ کرسکتاہے۔ سپریم کورٹ نےجج ویڈیوسکینڈل کافیصلہ سنایاتوسوچاکیوں نہ اس کا تجزیہ و تحلیل کرکےکسی نتیجےپرپہنچنےکی کوشش کی جائے۔
  چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کےتحریرکردہ پچیس صفحات پرمشتمل اس فیصلےپرطائرانہ نظرڈالنےاوراس پرقانونی ماہرین اورمعروف صحافیوں کی آراجاننےکےبعدمجھ ناچیزکےخیال میں محترم چیف جسٹس نےایک تیرسےدوشکارکرنےکی کوشش کی ہے ۔ آسان اورسادہ لفظوں میں بات کروں توفاضل چیف جسٹس نےجج ویڈیوسکینڈل کےکیس میں نہ توخودکوواضح حکم جاری کیاہےاورنہ ہی اسلام آبادہائیکورٹ کواس قابل چھوڑاہےکہ وہ اس حوالےسےکوئی ایساحکم جاری کرےجس سےنوازشریف کوکوئی ریلیف مل سکے۔ حالانکہ اپنےفیصلےمیں انہوں نےیہ تاثردینےکی بھرپورکوشش کی ہےکہ وہ قطعاً اس معاملےمیں مداخلت نہیں کررہےاورمعاملہ کلی طورپراسلام آبادہائیکورٹ پرچھوڑرہےہیں ۔
 اس فیصلےکےکچھ نکات انتہائی غورطلب ہیں جن کابغورمطالعہ کرنےکےبعدیہ بات بڑی حدتک واضح ہوجاتی ہےکہ انتہائی ہوشیاری سےعدالت عظمیٰ نےسارامعاملہ بظاہراسلام آبادہائیکورٹ کےکندھوں پرڈال دیاہےلیکن ساتھ ہی اپنےفیصلےمیں کچھ ایسےریمارکس بھی لکھ دئیےہیں کہ جن کوسامنےرکھتےہوئےکل کلاں اسلام آبادہائیکورٹ چاہےبھی تونوازشریف کوویڈیوسکینڈل کاسہارالیکرکوئی ریلیف نہ دےسکے۔ مثال کےطورپراس فیصلےمیں ایک جگہ لکھاگیاہےکہ ملزم پارٹی یعنی شریف فیملی نےاس ویڈیوکی بنیادپراحتساب عدالت کےجج ارشدملک کوبلیک میل کرنےکی کوشش کی ۔ لیکن اس کےساتھ اس بات پرسوال نہیں اٹھایاگیاکہ اگرجج صاحب بلیک میل ہورہےتھےتوانہوں نےنگران جج سپریم کورٹ کےجسٹس اعجازالاحسن کوشکایت کیوں نہیں لگائی ۔۔ دوسری بات اس فیصلےمیں ملزم پارٹی پرجج کوبلیک میل کرنےکاالزام لگایاگیاہےلیکن اس خفیہ پارٹی کی بلیک میلنگ کاذکرنہیں کیاگیاجس نےملتان والی قابل اعتراض ویڈیوبناکرجج ارشدملک کوبلیک میل کیا اورمبینہ طورپرنوازشریف کےخلاف فیصلہ کروایا۔ 
 سپریم کورٹ نےدوماہ تک جاری رہنےوالی اس کیس کی سماعت میں کسی ایک موقع پربھی ایف آئی اےکویہ حکم نہیں دیاکہ ویڈیوکی فرانزک کراکےعدالت میں پیش کیاجائے،آخری سماعت میں البتہ اس حوالےسےکچھ ریمارکس ضرور سامنےآئےلیکن ویڈیوکی فرانزک کامعاملہ بھی اسلام آبادہائیکورٹ پرچھوڑدیاگیااوریہ بات بھی کہ اسلام آبادہائیکورٹ اگرویڈیوکوبطورشواہدتسلیم کرتی ہےتواسےوہ اکیس شرائط بھی پوراکرناہونگی جنہیں پوراکرنابظاہرناممکن دکھائی دیتاہے ۔ اس نکتےپرقانون کےماہرخاصےمعترض ہیں کیونکہ ان کےخیال میں جب عدالت سارامعاملہ اسلام آبادہائیکورٹ پرچھوڑرہی ہےتوپھرشرائط عائدکرنےکی وجہ سمجھ میں نہیں آتی ۔ 
 ایک اوراہم بات ، عدالت عظمیٰ نےاس سارےمعاملےمیں اس ویڈیوکاذکرکرناضروری نہیں سمجھاجسےدکھاکرجج صاحب کوبلیک میل کیاگیااوران پردباوڈال کرنوازشریف کےخلاف فیصلہ لیاگیا ، یعنی وہ ویڈیوجوملتان میں کسی شادی کی تقریب میں بنائی گئی تھی جس میں ذرائع کےمطابق ارشدملک کچھ قابل اعتراض حرکات کرتےپائےگئےتھے۔ سپریم کورٹ نےکیوں وہ قابل اعتراض ویڈیوبنانےوالوں کےبارےمیں استفسارنہیں کیا؟ اس بات کاپتاچلانےکی بھی سنجیدگی سےکوشش نہیں کی گئی کہ کیاواقعی جج صاحب کسی دباو کےزیراثرتھےجب انہوں نےنوازشریف کےخلاف العزیزیہ ریفرنس میں فیصلہ سنایا؟ حیرت ہےکہ ملک کی سب سےبڑی عدالت نےاتنےبڑےاورحساس معاملےسےیہ کہہ کرجان چھڑالی کہ معاملہ اسلام آبادہائیکورٹ میں زیرسماعت ہےاورویڈیوکامعاملہ بھی ایف آئی اےدیکھ رہی ہے ۔ 
 انتہائی حیرت انگیزبات یہ بھی ہےکہ اس کیس میں دو ویڈیوزکاذکرآیا، ایک جج صاحب کی قابل اعتراض ویڈیوجسےکچھ لوگوں نےجج صاحب کودکھاکربقول انکے، نوازشریف کےخلاف فیصلہ لیا اوردوسری جج صاحب کی وہ ویڈیوجس میں وہ ناصربٹ کےساتھ بیٹھےنظرآرہےہیں ۔ سمجھ میں نہیں آتاکہ عدالت عظمیٰ میں دونوں میں سےایک بھی ویڈیوپیش نہیں کی گئی اورنہ ہی فاضل جج صاحبان نےانہیں عدالت میں پیش کرنےکاکوئی واضح حکم جاری کیا۔ عدالت نےایک بھی ویڈیونہیں دیکھی لیکن ان پراپنی فائینڈنگ اورریمارکس ضرور دےدئیے ۔ 
ایک اورانتہائی اہم بات ، سپریم کورٹ نےاپنےفیصلےمیں جج ارشد ملک کےالعزیزیہ ریفرنس میں سنائےگئےفیصلےاورانکےکردارکوالگ الگ کردیاہے، دوسرےلفظوں میں یہ کہ ارشد ملک کاکریکٹرضرورخراب ہےلیکن نوازشریف کےخلاف اس نےجوفیصلہ دیاوہ میرٹ پردیا ۔ اس نکتےپرقانونی ماہرین کاکہناہےکہ جب یہ بات اسٹیبلش ہوگئی کہ ایک مخصوص کیس کی سماعت کےدوران جج صاحب مشکوک سرگرمیوں کےمرتکب قرارپائےگئےتوضروری تھاکہ شک کافائدہ ملزم کودیاجاتالیکن اس قانونی پہلوکوبھی نظراندازکردیاگیا ۔ حالانکہ اس کیس کی سماعت کےدوران ایک موقع پرچیف جسٹس کاکہناتھاکہ کہ جج ارشدملک کےکنڈکٹ سےعدلیہ کےباقی ایماندارججوں کےسرشرم سےجھک گئے ۔ جج کومس کنڈکٹ کامرتکب پاتےہوئےاسےفارغ بھی کردیالیکن اس کافیصلہ برقراررکھاگیا ۔ 
  تفصیلی فیصلےمیں یہ بھی کہاگیاکہ یہ مرحلہ سپریم کورٹ کی مداخت کانہیں ۔ ایساہےتوپھرپہلی ہی سماعت پراسےاسلام آبادہائیکورٹ کیوں ریفررنہیں کردیاگیا،کیوں دوماہ تک اس کی سماعتیں ہوتی رہیں ۔ 
 اس فیصلےپرتبصرہ کرتےہوئےمعروف صحافی سلیم صافی کاکہناتھا :
      یہ فیصلہ نہیں بلکہ تجزیہ ہےاورتجزیہ بھی ارشادبھٹی صاحب کےتجزیےجیسا۔ یہ صرف نئےپاکستان میں ممکن ہےکہ جج دونمبر،فیصلہ ایک نمبر ۔ جج جعلی لیکن فیصلہ اصلی ، جج کاکردارعدلیہ کاسرشرم سےجھکانےوالالیکن اس جج کافیصلہ عدلیہ کےوقارکوبلندکرنےوالا۔ 
 معروف صحافی مطیع اللہ جان کےمطابق :
    اس فیصلےمیں سپریم کورٹ نےاحتساب عدالت کےاس وقت کےنگران جج جسٹس اعجازالاحسن کاذکرکرناضروری نہیں سمجھا۔ پانچ سوالات خودہی اٹھائےاورخودہی ان سوالات کاجواب بھی دےدیا۔ نوازشریف کوبھی اگرکوئی فائدہ اسلام آبادہائیکورٹ سےیاجوڈیشل کمیشن بننےسےمل سکتاتھا،وہ بھی اب نہیں ملےگا۔ یہ فیصلےسےزیادہ ایک پالیسی گائیڈلائن ہےجودی گئی ہے،اسلام آبادہائیکورٹ کواورایف آئی اےاوردیگرمتعلقہ اداروں کوجواس سکینڈل میں ملوث افرادکےخلاف تحقیقات کررہےتھے،بقول مطیع اللہ جان مستقبل میں اسلام ہائیکورٹ کیلئےان پالیسی گائیڈلائن سےباہرنکلناممکن نہیں ہوگا۔ تفصیلی فیصلےمیں چیف جسٹس نےیہ طےکردیاہےکہ ویڈیواگرلیبارٹری ٹیسٹ میں اصلی ثابت بھی ہوجائےتواسےعدالت میں بھی قانون شہادت  کےمطابق اصلی ثابت کرناہوگااوراگروہ ویڈیولیبارٹری کےبعدعدالت میں اصلی ثابت ہوجاتی ہےتوپھرملزم پارٹی کویہ بھی ثابت کرناہوگاکہ جج نےاس ویڈیوکی بنیادپراپنافیصلہ دباومیں دیا ۔۔۔۔ 
  تودوستومیں نےپوری ایمانداری سےاپنی اورملک کےدومایہ نازصحافیوں کی آراکوآپکےسامنےپیش کیاہے۔ آپ بھی اگراس فیصلےکوبغورپڑھیں تواسی نتیجےپرپہنچیں گےکہ سپریم کورٹ نےپوری کوشش کی ہےکہ چاہےقیامت ہی کیوں نہ آجائے،نوازشریف کواس ویڈیوسکینڈل کاکوئی فائدہ نہیں ملناچاہیے۔ بال اب اسلام آبادہائیکورٹ کےکورٹ میں ہے،دیکھیں وہاں سےکیافیصلہ آتاہے؟ 
آخرمیں برطانوی وزیراعظم چرچل کےاس قول کاذکرہوجائےکہ جس ملک کی عدالتیں بلاخوف وخطرانصاف کرتی ہوں اس ملک کوبڑی سےبڑی جنگ بھی ختم نہیں کرسکتی ۔ 
 

Author: Muhammad Zaheer

The author is a journalist. He is currently working for a news channel.

Read More From: Muhammad Zaheer

تازہ ترین

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

یوٹرن تواچھےہوتےہیں

یوٹرن تواچھےہوتےہیں اسلام علیکم دوستو۔۔  قسمت کےکھیل بھی نرالےہیں،کب کیاہوجائے،پتاہی نہیں چلتا،یوٹ
By : Muhammad Zaheer
12 Jan 2019

اگلی باری تحریک انصاف کی

دوستو،آج آپ سےایک بات شیئرکرنی ہے۔ کچھ عرصہ پہلےجب ملک میں ن لیگ کی حکومت تھی ،نیب کامولابخش پیپلزپارٹی
By : Muhammad Zaheer
30 Oct 2018

عمران خان کاسب سےبڑامسئلہ کیاہے؟

مائی نیم ازریمبوریمبو،جان ریمبو،سلویسٹرسٹیلیون۔۔ دوستو،جس طرح یہ ڈائیلاگ بولنےسےمیں ریمبونہیں بن گیا،ا
By : Muhammad Zaheer
12 Jan 2019

سیاستدان اورگاوں کاچور

 پاکستان کےموجودہ سیاسی حالات پرغوروفکرکےگھوڑےدوڑاتےدوڑاتےمیں فی الحال اس نتیجےپرپہنچاہوں کہ کوئلوں کی
By : Muhammad Zaheer
19 Oct 2018