Enjoy The Best News and Blogs
بہترین خبریں ، بلاگ اور تجزئیے

" - صحافت اور قوموں کا زوال ایک ساتھ ہوتا ہے"

Failure is word unknown to me ...

                        جنرل قمر باجوہ کو 3 سال کیلئے سپہ سالار برقرار رکھنے پر چین کا خیر مقدم                         جنرل قمر جاوید غیر معمولی صلاحیتیں رکھنے والے سپہ سالار ہیں، چینی وزارت خارجہ                         جنرل باجوہ نے پاک چین تعلقات کی مضبوطی میں انتہائی اہم کردار ادا کیا، چین                         جنرل قمر جاوید باجوہ چین کی حکومت اور فوج کے دیرینہ دوست ہیں، چین                         پاکستانی آرمی چیف نے پاک چین تعلقات کی مضبوطی میں انتہائی اہم کردار ادا کیا، چین                         امید ہےپاک آرمی علاقائی امن و سلامتی میں اپناکرداراداکرتی رہےگی ، چین

تازہ ترین

         

( تلاش کریں )

Shortcut( شارٹ کٹ )

بھارت کا انجام نوشتہ دیوار بن چکا

11 Aug 2019 26

 مشکل وقت کی بڑی خوبی یہ  ہے کہ وہ صلاحیتوں کا اظہار کرنے کا بہترین موقع بھی ہوتا ہے، جسے عقل مند اور بہادر لوگ ضائع نہیں کرتے ۔ایسا ہی کچھ معاملہ بحیثیت قوم آج ہمیں درپیش ہے ۔ بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر پر ڈاکہ مار دیا ۔  ہمارے لئے جہاں یہ مشکل وقت ہے وہاں تاریخ میں ایک مرتبہ پھراپنی عظمت رفتہ  رقم کرنے کا بہترین موقع بھی ہے۔ مودی سرکار نے جو کھیل شروع کردیا ہے وہ خود بھارت کی بربادی کا نوشتہ دیوار   ہے ۔ہمیں  غافل نہ ہونے کی ضرورت ہے ۔باقی شکار خود چل کر شکاری کے پاس آئے گا۔مودی حکومت کی پالیسیوں سے بھارت جس دلدل میں دھنسنے لگا ہے اس کا نتیجہ دور نہیں ،ظلم کی حکومت کا انجام عبرتناک ہوگا،اب کشمیرہی نہیں کئی اور بھارتی ریاستیں   آزاد ی مانگیں گی اور آزادی پائیں گی بھی،مودی نے جو چنگاڑی بھڑکائی  ہے جلد یہ سارے بھارت میں آگ پھلائے گی،مودی بھارت کیلئے گورباچوف بننے جارہا ہے۔

مودی سرکارنےبھارتی آئین کے جس آرٹیکل370 اور 35 اے کو ختم کرکے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی ہے۔ اس آرٹیکل کی تاریخ جہاں دلچسپ ہے وہاں اس میں کردار ادا کرنےوالےبھی آج عبرت کا نشان بن چکے ہیں اور اپنی غلطی کااعتراف کرنے پرمجبور ہیں۔1947ءمیں ہندوستان تقسیم ہوا، اصول یہ طے ہوا کہ مسلم اکثریتی علاقے پاکستان کے پاس جائیں گے جبکہ نواب اور مہاراجے اپنی ریاستوں کے الحاق کا معاملہ عوام کی خواہش کے مطابق خود طے کریں گے۔ تین ریاستیں ایسی تھیں جو آزاد رہنا چاہتی تھیں ، ان سے یہ فیصلہ بروقت نہ ہو سکا۔ یہ ریاستیں جونا گڑھ، حیدرآباد اور جموں وکشمیر تھیں ۔ جونا گڑھ اور حیدر آباد ہندو اکثریتی ریاستیں تھیں، جن کے حکمران مسلمان تھے جبکہ کشمیر میں مسلم اکثریت تھی ،جس کا حکمران  مہا راجہ ہری سنگھ تھا۔ جونا گڑھ اور حیدر آباد کو بھارت نے اس بنیاد پر اپنا حصہ بنا لیا کہ وہ ہندو اکثریتی علاقے ہیں مگر یہ اصول جموں و کشمیر پر لاگو نہیں کیا، کشمیر میں بغاوت پھوٹ پڑی اور اس دوران پاکستان سے قبائلی عوام نے کشمیر کو مہاراجہ کے چنگل سے آزاد کروانے کے لئے حملہ کر دیا، اس سے نمٹنے کے لئے ہری سنگھ نے کشمیری لیڈر شیخ عبداللہ کی حمایت سے بھارت کے ساتھ الحاق کا معاہدہ کر لیا ،جس کے بدلے میں یہ طے پایا کہ بھارتی فوج کشمیر میں امن و امان بحال کروائے گی اور الحاق کا معاملہ بعد میں  کشمیریوں کی مرضی کے مطابق حل کیا جائے گا۔ بھارت سلامتی کونسل میں پاکستان کے خلاف شکایت لے کر چلا گیا کہ پاکستان حملہ آواروں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔سلامتی کونسل نے کشمیر کو ’’حملہ آوروں‘‘ سے پاک کرنے کی سفارش کی اور پاکستان اور بھارت کو علاقے میں استصواب رائے کروانے کے لئے کہا تاکہ کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق الحاق کا معاملہ طے ہو سکے۔ دونوں ممالک نے یہ سفارشات قبول کر لیں۔ جواہر لعل نہرو اس وقت ہندوستان کے وزیراعظم تھے، کشمیر میں ایک آئین ساز اسمبلی وجود میں لائی گئی اور شیخ عبداللہ کشمیر کے وزیراعلیٰ بن گئے۔ ہندوستانی نقطہ نظر سے اس سارے معاملے کو آئینی اور قانونی بنانے کے لئے طے کیا گیا کہ ہندوستانی سرکار کو کشمیر میں صرف مواصلات، دفاع اور خارجہ امور سے متعلق محدود اختیارات حاصل ہوں گے، اس غرض سے بھارتی آئین میں شق370 اور35اے شامل کی گئیں،جس کے تحت کشمیر کو خصوصی حیثیت دی گئی تاکہ کشمیریوں کا تشخص بحال رہے اور اس مسلم اکثریتی علاقے کی آبادی  کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔ اس مقصد کے لئے یہ قانون وضع کیا گیا کہ کوئی بھی غیر کشمیری ریاست جموں و کشمیر میں جائیداد خرید سکے گا  نہ ملازمت حاصل کر سکے گا۔ یوں کشمیر کو ایک ایسی حیثیت دی گئی جو دیگر ہندوستانی صوبوں کو حاصل نہیں تھی۔ شق 370کے تحت یہ انتظام اُس وقت تک کے لئے تھا جب تک کشمیر کے الحاق کا معاملہ حتمی طور پر طے نہیں پا جاتا۔ یوں  آرٹیکل 370نے بھارت  اور کشمیر کے باہمی تعلق کی تشریح کردی۔اب  بھارتیہ جنتا پارٹی کا کہنا ہے  کہ پورے ہندوستان میں ایک سرکار اور ایک آئین ہونا چاہئے، سو اس مرتبہ جب اسے انتخابات میں  بھرپور اکثریت ملی تو اس نے  آرٹیکل 370کو اٹھا کر باہر پھینک دیا۔

اقتدارکی ہوس میں  جواہرلعل نہرو سے الحاق کا معاہدہ کرنے والے کشمیری رہنما شیخ عبداللہ کا بیٹا فاروق عبداللہ آج رو،رو کر کہہ رہا ہے"ہم سے غلطی ہوئی" ۔فاروق عبداللہ مقبوضہ کشمیر کا تین مرتبہ وزیراعلیٰ رہا، یہ وہی خاندان ہے جس کے جرم کی سزا سارا مقبوضہ کشمیر بھگت رہا ہے ۔ اب شیخ عبداللہ کا بیٹا فاروق عبداللہ اور  پوتا عمر عبداللہ کہتے  پِھر رہے ہیں کہ" کشمیریوں  کے ساتھ بڑا ظلم ہوگیا " ۔سچی بات تو یہ ہے کہ کشمیریوں کی اکثریت نے کبھی دفعہ 370کو تسلیم ہی نہیں کیا تھا کیونکہ اس کے ذریعہ فاروق عبداللہ کے باپ شیخ محمدعبداللہ نے مقبوضہ ریاست اور بھارت کے درمیان ایک ناجائز تعلق قائم کیا تھا۔ جس کا مقصد صرف اور صرف ریاست پر اپنے ذاتی اقتدار کو قائم رکھنا تھا۔ آرٹیکل  370دراصل بھارت کے سابق  وزیراعظم جواہر لعل نہرو اور کشمیری رہنما  شیخ عبداللہ کے درمیان ایک معاہدہ تھا۔اور یہ معاہدہ بھارت نے خود ختم کردیا ہے ،جس کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیر پر بھارت کے تسلط کا کوئی جواز باقی نہیں بچا ۔

نریندر مودی جس راہ پر چل نکلا ہے،اس کی مثال گورباچوف کے نام سے موجود ہے ،جس کی پالیسیوں  سے روس ٹوٹا تھا۔پھرماضی کو یاد کرتے ہوئے سابق سوویت رہنما میخائل گوربا چوف نے25سال بعد ماسکو میں بی بی سی کےسٹیو روز نبرگ کوانٹرویو میں  کہا تھا کہ مغرب نے روس کو اشتعال دلایا،جس کے سبب1991ءمیں سوویت یونین دھوکہ بازی کی وجہ سے ٹوٹ گیا تھا۔21دسمبر1991ءکو روسی ٹی وی پرایک ڈرامائی اعلان ہواتھا "سوویت یونین اب وجود نہیں رکھتا" ۔ اس سے کچھ دن قبل روس،بیلا روس اور یوکرائن کے رہنماوں نے سوویت یونین کو تحلیل کرکے آزاد ریاستوں کے کامن ویلتھ فورم کے قیام کیلئے ملاقات کی تھی۔اب مزید8سوویت ریاستوں نے اس میں شمولیت کا فیصلہ کرلیا تھا۔ان تمام ریاستوں  نے میخائل گوربا چوف کے خلاف مزاحمت کی،جس کے باعث سوویت رہنما ان تمام ریاستوں کو واحد ریاست کے طور پر یکجا رکھنے میں مشکلات کا سامنا کررہے تھے۔گورباچوف نےسوویت یونین ٹوٹنے پرمغرب کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا "ہمارے پیچھے دھوکہ بازی تھی،وہ ایک سگریٹ جلانے کیلئے سارا گھر جلارہے تھے،صرف طاقت کے حصول کے لئے،وہ جمہوری طریقے سے یہ حاصل نہیں کرسکتے تھے،اسی لئے انہوں نے جرم کیا،یہ بغاوت تھی" ۔گوربا چوف کے پچھتانے کا اب کیا فائدہ؟گرم پانیوں تک رسائی کیلئے جارحیت نے خود اس کی اپنی سلطنت کو خانہ جنگی کے قریب کردیا تھا۔ آج نریندر مودی بھی مقبوضہ جموں وکشمیر پر ڈاکہ ڈال کر  بھارت میں وہی آگ بھڑکا چکا ہےجو میخائل گوربا چوف نے سابق سوویت یونین میں اپنے ہاتھوں سےلگائی تھی۔

mughal_khalil@ymail.com

Author: Khalil Mughal

Mr. Khalil Mughal is a senior journalist with a long career. He has served in the leading media organizations in Pakistan. Currently, he is associated with Express News.

Read More From: Khalil Mughal

تازہ ترین

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

یوٹرن تواچھےہوتےہیں

یوٹرن تواچھےہوتےہیں اسلام علیکم دوستو۔۔  قسمت کےکھیل بھی نرالےہیں،کب کیاہوجائے،پتاہی نہیں چلتا،یوٹ
By : Muhammad Zaheer
12 Jan 2019

اگلی باری تحریک انصاف کی

دوستو،آج آپ سےایک بات شیئرکرنی ہے۔ کچھ عرصہ پہلےجب ملک میں ن لیگ کی حکومت تھی ،نیب کامولابخش پیپلزپارٹی
By : Muhammad Zaheer
30 Oct 2018

عمران خان کاسب سےبڑامسئلہ کیاہے؟

مائی نیم ازریمبوریمبو،جان ریمبو،سلویسٹرسٹیلیون۔۔ دوستو،جس طرح یہ ڈائیلاگ بولنےسےمیں ریمبونہیں بن گیا،ا
By : Muhammad Zaheer
12 Jan 2019

سیاستدان اورگاوں کاچور

 پاکستان کےموجودہ سیاسی حالات پرغوروفکرکےگھوڑےدوڑاتےدوڑاتےمیں فی الحال اس نتیجےپرپہنچاہوں کہ کوئلوں کی
By : Muhammad Zaheer
19 Oct 2018