Enjoy The Best News and Blogs
بہترین خبریں ، بلاگ اور تجزئیے

" - صحافت اور قوموں کا زوال ایک ساتھ ہوتا ہے"

Failure is word unknown to me ...

                        جنرل قمر باجوہ کو 3 سال کیلئے سپہ سالار برقرار رکھنے پر چین کا خیر مقدم                         جنرل قمر جاوید غیر معمولی صلاحیتیں رکھنے والے سپہ سالار ہیں، چینی وزارت خارجہ                         جنرل باجوہ نے پاک چین تعلقات کی مضبوطی میں انتہائی اہم کردار ادا کیا، چین                         جنرل قمر جاوید باجوہ چین کی حکومت اور فوج کے دیرینہ دوست ہیں، چین                         پاکستانی آرمی چیف نے پاک چین تعلقات کی مضبوطی میں انتہائی اہم کردار ادا کیا، چین                         امید ہےپاک آرمی علاقائی امن و سلامتی میں اپناکرداراداکرتی رہےگی ، چین

تازہ ترین

         

( تلاش کریں )

Shortcut( شارٹ کٹ )

سبق آموز داستان

04 Aug 2019 25

چوتھے مغل شہنشاہ نورالدین محمد جہانگیرکو اُن  کی سالگرہ پر  زر و جواہرسےتولا گیا ،پھرپلڑے میں آنےوالاتقریباً ڈھائی سو پاونڈ  وزنی سونا چاندی غرباء میں بانٹ دیا گیا۔آج سے تقریباً چارسوسال قبل  یہ منظردیکھ کر وہاں  موجود برطانوی نمائندے ٹامس رو حیران ہوگئے۔ٹامس رو اس وقت  شہنشاہ جہانگیرسےبرطانوی کمپنی کوہندوستان میں تجارتی حقوق دلانےکیلئےسفیر کی حیثیت سے معاہدہ  کرنے آئے تھے۔ٹامس رو کو بڑی مشکل یہ درپیش تھی کہ شہنشاہ جہانگیر نے چھوٹے سے  جزیرے انگلستان سےکسی معاہدہ کو اہمیت ہی  نہ  دی۔ٹامس رو نے اپنی کوششیں جاری رکھیں  اور ولی عہد شاہجہان سےاگست1618ءمیں معاہدہ کرنےمیں کامیاب ہوگئے۔یوں برطانوی کمپنی  جس کا نام ایسٹ انڈیا کمپنی تھا اس کوہندوستان میں تجارتی سرگرمیوں کی اجازت مل گئی ۔یہیں سےہندوستان پرقبضہ کی خطرناک سازش  کی شروعات ہوئیں۔ یہ کچھ ایسا ہی معاملہ تھا جیسے مشہور کہانی کہ اونٹ کو بدو نے اپنے خیمے میں سر داخل کرنے کی اجازت دے دی تھی۔

ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں قدم  جمانے  کیلئے پہلے ساحلی علاقوں میں تجارتی اڈے قائم کئے،جنہیں فیکٹریاں کہا جانے لگا،ان فیکٹریوں سےمصالحہ جات،ریشم اور دوسری مصنوعات کی تجارت  شروع کی گئی،جلد ہی معاملہ محض تجارت سے آگے بڑھ گیا  اور اِن فیکٹریوں میں بڑی تعداد میں مقامی سپاہی بھرتی کرنے شروع کردیئے گئے۔زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ یہ فیکٹریاں پھیل کر قلعوں اور چھاونیوں کی شکل اختیار کرگئیں۔ایسٹ انڈیا کمپنی نے اب  مقامی ریاستوں کے باہمی جھگڑوں میں ملوث ہونا شروع کردیا۔کسی نواب کو حریف  کے خلاف توپیں دے دیں تو کسی کو پیسہ  دے دیا۔یوں ساحلی علاقوں میں رکھے گئے قدم ہندوستان  کے دور دراز علاقوں کی طرف بڑھنے لگے ۔ 1818ءمیں انگریزوں نے مرہٹوں کی سلطنت ہتھیائی، اس کے بعداگلے چند عشروں میں سکھوں کو شکست دے کر تمام مغربی ہندوستان اور آج کے پاکستانی علاقوں  پر بھی قابض ہوگئے۔یوں اونٹ نے خیمے میں گھس کر بدو کو مکمل طور پر بےدخل کردیا تھا۔

ہندوستان پرقبضے سے قبل انگریزوں کو اورنگ زیب عالمگیر کےہاتھوں عبرتناک شکست  کاسامنا بھی کرنا پڑا،جسے تاریخ کے اوراق میں غائب کرنے کی کوششیں بھی ہوئی ہیں۔واقعہ کچھ یوں ہے کہ  ہندوستان کے مغربی ساحل پر سورت اور بمبئی جبکہ  مشرق  میں مدراس اور کلکتہ  شہر سے20 میل دور دریائے گنگا  پر بندرگاہیں ہگلی اور قاسم بازار اہم تھے۔انگریز یہاں سے ریشم،گڑ کا شیرہ،کپڑا  اور معدنیات لے جاتے تھے۔خاص طور پر ڈھاکہ کی ململ اور بہار کے قلمی شورے جو بارود بنانے میں استعمال ہوتے تھے ان کی انگلستان میں بڑی مانگ تھی۔اسی زما نے میں صرف انگریز نہیں بلکہ دنیا کے کئی دوسرے علاقوں کے تاجر بھی  تجارتی حقوق حاصل کرلینے کے بعد ہندوستان  سے سامان لے جانے لگے تھے۔ یہ بات ایسٹ انڈیا کمپنی کے سربراہ جوزایا چائلڈ کو سخت ناگوار گزری ۔اسے یہ برداشت نہ ہوسکا کہ ان کے منافع میں کوئی اور بھی حصہ دار بنے ۔جوزایا چائلڈ نے ہندوستان میں مقیم کمپنی کے حکام سے کہاکہ وہ بحیرہ عرب اور خلیج بنگال میں مغلوں کے بحری جہازوں کا راستہ روکیں اور جو جہاز ان کے ہتھے چڑھے اسے لوٹ لیں۔ جوزایا نےانگلستان  سے سپاہیوں کی بڑی تعداد ہندوستان  روانہ کی اور حکم دیا کہ   ہندوستان میں پہلے سے موجود انگریز فوجیوں کے ساتھ مل کر چٹاگانگ پر قبضہ کرلیں۔ جب لندن سے مغلوں کے خلاف طبل جنگ بجا تو  بمبئی میں تعینات کمپنی کے سپاہیوں نے مغلوں کے چند جہاز لوٹ لئے۔جس پر سیاہ فام مغل امیر البحر سیدی یاقوت نے بمبئی کا محاصرہ کرلیا۔انگریزوں نے قلعہ میں پناہ  لی ۔سیدی یاقوت نے مغلیہ جھنڈا گاڑ دیا اور جو سپاہی مقابلہ کے لئے آگےآئے انہیں ہلاک کردیا اور باقیوں کو گلے میں زنجیریں پہنا کر بمبئی کی گلیوں میں سے گزارا گیا۔آخر انگریزوں کی ہمت جواب دے گئی اور انہوں نےاپنے دو سفیر جارج ویلڈن اور ابرام نوار     اورنگ زیب کے دربارمیں بھجوادیئے تاکہ وہ شکست کی شرائط طے کرسکیں۔یہ دونوں سفیر ستمبر1690ءمیں اورنگ زیب عالمگیر کے دربار میں پہنچے۔دونوں اس حال میں پیش ہوئے کہ ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے،سر سینے پر جھکے ہوئے اور حلیہ ایسا تھا کہ  کسی ملک کے سفیر نہیں لگتے تھے۔دونوں سفیر مغل شہنشاہ کے تخت کے قریب پہنچے تو انہیں فرش پر لیٹنے کا حکم دیا گیا۔دونوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے جرائم کااعتراف کیا اور معافی کی درخواست کے ساتھ تجارتی لائسنس پھر سےبحال کرنے کی التجا کی۔ان کی عرضی ان شرائط پر قبول ہوئی کہ انگریز مغلوں سے جنگ لڑنے کا ہرجانہ ادا کریں،آئندہ فرماں برداری کا حلف دیں اور بمبئی میں ایسٹ انڈیا کمپنی کا سربراہ   ہندوستان چھوڑ دے اور دوبارہ کبھی یہاں کا رخ نہ کرے۔ یوں تجارت کے روپ میں ہندوستان پراپنا  تسلط  قائم کرنے کی کوشش کے دوران  رنگے ہاتھوں پکڑے گئے انگریزوں کو اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنےکاایک اور موقع ملا۔

ہندوستان پر ایسٹ انڈیا کمپنی  کے تسلط سے پہلے اورنگ زیب عالمگیر کے دور میں ہندوستان دنیا کا امیرترین ملک تھا اور دنیا کی مجموعی جی ڈی پی کا ایک چوتھائی حصہ پیدا کرتا تھا جبکہ اس دوران انگلستان کا حصہ صرف دو فیصد تھا۔ہندوستان کی زمین زرخیز اور ہر طرح کے وسائل سے مالا مال تھی ، لوگ محنتی اور ہنرمند تھے،یہاں بنائے جانے والے سوتی کپڑے اور  ململ کی مانگ دنیا بھر میں تھی جبکہ جہاز رانی اور سٹیل کی صنعت میں بھی ہندوستان کا دنیا میں کوئی ثانی نہیں تھا۔جب 1947ء میں انگریز یہاں سے گئے تو ان کی جھولی بھری ہوئی اور ہندوستان کا دامن خالی تھا۔اور یوں 20ویں  صدی کے آغاز پر  ہندوستان کا علاقہ فی کس آمدنی کے حساب سے دنیا کا غریب ترین خطہ بن گیا تھا۔انگریزوں کے دو سو سالہ استحصال نے ہندوستان کو  عروج سے زوال کی پستیوں میں دھکیل دیا۔ہندوستان پرایسٹ انڈیا کمپنی کا تسلط قائم ہونے کےبعد  بےرحمانہ استحصال،اجناس کی غیرمتوازن درآمد اور عین قحط  میں بھی طالمانہ طریقوں سے مہنگے ٹیکسوں کی وصولی نےخوفناک صورتحال پیدا کردی تھی،بھوک سے مرتے ہوئےکسان ٹیکس ادا نہیں کرسکتے تھے لیکن  انگریز ٹیکس وصول کرنے پر تلے رہتے تھے ۔اس قحط اور برطانوی حکومت کی بدترین سفاکی سے 66لاکھ ہندوستانی سسک سسک کر لقمہ اجل بنے ۔ یہ  ایسٹ انڈیا کمپنی کے مظالم کی داستانوں میں سےصرف ایک داستان ہے ۔جس سےسبق ملتا ہے کہ  آج بھی  عالمی مالیاتی اداروں،ملٹی نیشنل کمپنیوں اور  غیرملکی سرما یہ کاروں  کے ساتھ کسی معاہدہ  کیلئے  کس قدر احتیاط  کی ضرورت ہے ۔

mughal_khalil@ymail.com

Author: Khalil Mughal

Mr. Khalil Mughal is a senior journalist with a long career. He has served in the leading media organizations in Pakistan. Currently, he is associated with Express News.

Read More From: Khalil Mughal

تازہ ترین

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

یوٹرن تواچھےہوتےہیں

یوٹرن تواچھےہوتےہیں اسلام علیکم دوستو۔۔  قسمت کےکھیل بھی نرالےہیں،کب کیاہوجائے،پتاہی نہیں چلتا،یوٹ
By : Muhammad Zaheer
12 Jan 2019

اگلی باری تحریک انصاف کی

دوستو،آج آپ سےایک بات شیئرکرنی ہے۔ کچھ عرصہ پہلےجب ملک میں ن لیگ کی حکومت تھی ،نیب کامولابخش پیپلزپارٹی
By : Muhammad Zaheer
30 Oct 2018

عمران خان کاسب سےبڑامسئلہ کیاہے؟

مائی نیم ازریمبوریمبو،جان ریمبو،سلویسٹرسٹیلیون۔۔ دوستو،جس طرح یہ ڈائیلاگ بولنےسےمیں ریمبونہیں بن گیا،ا
By : Muhammad Zaheer
12 Jan 2019

سیاستدان اورگاوں کاچور

 پاکستان کےموجودہ سیاسی حالات پرغوروفکرکےگھوڑےدوڑاتےدوڑاتےمیں فی الحال اس نتیجےپرپہنچاہوں کہ کوئلوں کی
By : Muhammad Zaheer
19 Oct 2018