Enjoy The Best News and Blogs
بہترین خبریں ، بلاگ اور تجزئیے

" - صحافت اور قوموں کا زوال ایک ساتھ ہوتا ہے"

Failure is word unknown to me ...

         

( تلاش کریں )

Shortcut( شارٹ کٹ )

دن کو تارے دکھائی دینے لگے

16 May 2019 61

یوٹیلٹی اسٹورز خالی اور  رمضان ریلیف بازار  اِکا دُکا  لگے ،مہنگائی کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے،ایسے وقت میں آئی ایم ایف اور آئندہ بجٹ  کے دیو   بھی غریب  کے دروازے پرآپہنچے ہیں،عوام چیخ رہے ہیں اور پی ٹی آئی والے کرپشن مکاو  کانعرہ  ہی بلند کرتے چلےجارہے ہیں،سوال گندم جواب چنا  کے مترادف صورتحال ہے۔آئندہ دنوں میں موسم کا پارہ مزید ہائی ہونےوالا ہے،ایسے میں مہنگائی بھی  بلند ترین سطح پردن کو تارے دکھائے گی۔آئی ایم ایف سے مذاکرات کےاثرات   آئندہ مالی سال کےبجٹ  میں جلوہ افروز ہوں گے۔

پاکستان اورآئی ایم ایف کےمابین6ارب ڈالرقرض کی فراہمی کامعاہدہ طےپایاہے۔آئی ایم ایف سے تین سال میں 6ارب ڈالرملیں گے جبکہ عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے بھی کم شرح سود پر دو سے تین ارب ڈالر ملنے کی توقع ہے ۔حکومتی حلقے امیدظاہر کررہے ہیں کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ کےباعث  دنیا کو مثبت پیغام جائے گا،جس سےغیرملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموارہوگی۔ جبکہ خسارے کا شکار سرکاری اداروں کے مسائل حل کرنے کےلئے اصلاحات سمیت برآمدات اور محصولات میں اضافےکاموقع ملےگا۔حکومت کا خیال ہے کہ کچھ شعبوں میں اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا تاہم ملکی معیشت کو توازن پرلایا جاسکے گا،یوں عام لوگ متاثرنہیں ہوں گے،216 ارب روپے پاور سیکٹر میں سبسڈی کے لئے دیئے جائیں گے اور جو صارفین 300سے کم یونٹس استعمال کررہے ہیں ان پر بجلی کی اضافی قیمت کااثرنہیں پڑےگا،بےنظیرانکم سپورٹ فنڈ اور احساس پروگرام کے لئے 180ارب روپے کی رقم آئندہ بجٹ میں مختص کی جارہی ہے اور یہ پہلے کےمقابلے میں دوگنا ہوگی۔

 سنہ 1947ءمیں معرض وجود  میں آنے کے صرف تین سال بعد پاکستان 11جولائی 1950ء میں آئی ایم ایف کا ممبر بنا۔اورگزشتہ 69سال میں قرضے کےحصول کے لئے21مرتبہ آئی ایم ایف جاچکاہے ۔ سنہ 1988ء سے پہلے پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین ہونےوالےمعاہدےقلیل مدتی بنیادوں پرہوتے تھے جن میں عمومی طور پر قرض معاشی اصلاحات سےمشروط نہیں ہوتے تھے۔تاہم سنہ 1988ء کے بعد سٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ پروگرامز شروع ہوگئےاور اس کے تحت معاشی اصلاحات کا شکنجہ تیارہوا۔ سٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ پروگرامز یعنی ایس اے پی وہ ہوتے ہیں جن میں قرض دینے والا ادارہ شدید معاشی مشکلات کے شکار قرض حاصل کرنےوالےممالک کو کڑی شرائط کے تحت ہی قرضہ دیتا ہے ۔ماہرین معیشت اس بات کااظہارکررہے ہیں کہ  پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین نئے معاہدہ کی شرائط  تفصیل کے ساتھ سامنے نہیں آئیں تاہم جو معلومات ملی ہیں اُن کے مطابق یہ مصر ماڈل کا چربہ ہے،آئی ایم ایف میں مصر کو ایک پوسٹرچائلڈ کے طور پر پیش کیا جارہا ہےجبکہ آئی ایم ایف کے پروگرام میں جانے سے پہلے مصرمیں تقریباً30فیصد لوگ خط غربت سے نیچےزندگی بسر کررہے تھے اور آج یہ شرح55فیصدہے۔مصرمیں اس طرح کے پروگرام کے ثمرات یہ ہیں کہ غربت میں بےتحاشہ اضافہ ہوگیا۔مصر کی کرنسی کی قدر کم ہونے سے مہنگائی کا طوفان آگیا۔پاکستان میں بھی یہی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جانےلگا ہے،ڈسکاونٹ ریٹ بڑھنے،روپے کی قدر میں کمی،غربت اور بےروزگاری بڑھنے کےخطرات منڈلانےلگے ہیں۔تمام طرح کی سبسڈیز ختم ہوں گی۔آئندہ دنوں میں  گیس اور بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوگا۔آئی ایم ایف سےقرض لینے کےبعد معاشی استحکام کی بجائے شرح نمو میں مزید کمی کاامکان زیادہ ہوگا۔آئی ایم ایف پروگرام پرعمل درآمد کے دو سے تین سال تک جی ڈی پی کی شرح نمو 2 سے ڈھائی فیصد تک رکھنااہم ہوگا۔ملک میں ہرسال روزگارتلاش کرنےوالوں  میں15لاکھ  نوجوانوں کا اضافہ ہورہاہے،جس  کی روک تھام کیلئے شرح نمو کم ازکم سات ست آٹھ فیصد ہونا ضروری ہے ۔

آئی ایم ایف سے معاہدہ کے مندرجات کی تفصیل توسامنے نہیں آئی تاہم  مذاکرات کے دوران  پاکستانی حکام کی طرف سے پیش کئے گئے ورکنگ پلان کےمتعلق یہ سامنے آیا کہ آئندہ بجٹ میں 750ارب روپے کےٹیکس لگانے، چینی پر جی ایس ٹی کی شرح بڑھانے،گیس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے جبکہ  الیکٹرونکس اور فوم انڈسٹری کی مصنوعات کی پرچون قیمت پر سیلز ٹیکس لاگو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس سےآئندہ بجٹ میں چینی  اورگیس سمیت دیگر اشیاءکے مہنگے ہونے جبکہ جی ایس ٹی کی معیاری شرح 17 سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کا امکان ہے  ۔

 ورکنگ پلان کے مطابق  سگریٹ اور مشروبات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ صنعتوں اوربجلی کی پیداوار میں استعمال ہونیوالی ایل این جی کی درآمد پر تین فیصدکسٹمز ڈیوٹی کی چھوٹ ختم کرکے پانچ فیصد کسٹمز ڈیوٹی عائد کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے ۔جس سے بجلی اور صنعتی اشیاءمزید مہنگی ہونے کا امکان ہے ۔آئندہ بجٹ میں مراعات یافتہ افراد ،اداروں،امدادی اشیاءاور برآمدی اشیاءمیں استعمال ہونے والے خام مال ، پلانٹس اور مشینری کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی  اور ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی کی چھوٹ سمیت  رعایات برقرار رکھنے کا  فیصلہ کیا گیا ہے ۔جس سے ملکی درآمدات پر 60 کروڑ ڈالر سالانہ کا دباو ہوگا۔آئندہ  بجٹ میں قدرتی گیس پر انفرا سٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کی جگہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے سے  فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 60 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہونےکاامکان ظاہرکیاگیاہے۔تاہم ان اقدامات سے مہنگائی کا نیاطوفان آئےگا۔

mughal_khalil@ymail.com

Author: Khalil Mughal

Mr. Khalil Mughal is a senior journalist with a long career. He has served in the leading media organizations in Pakistan. Currently, he is associated with Express News.

Read More From: Khalil Mughal

تازہ ترین

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

یوٹرن تواچھےہوتےہیں

یوٹرن تواچھےہوتےہیں اسلام علیکم دوستو۔۔  قسمت کےکھیل بھی نرالےہیں،کب کیاہوجائے،پتاہی نہیں چلتا،یوٹ
By : Muhammad Zaheer
12 Jan 2019

اگلی باری تحریک انصاف کی

دوستو،آج آپ سےایک بات شیئرکرنی ہے۔ کچھ عرصہ پہلےجب ملک میں ن لیگ کی حکومت تھی ،نیب کامولابخش پیپلزپارٹی
By : Muhammad Zaheer
30 Oct 2018

نیاپاکستان ، حقیقت یاخواب ؟

تحریک پاکستان نئےپاکستان کانعرہ لگاکرحکومت میں آئی ہے ۔ لیکن میراایک سیدھااورمعصومانہ ساسوال ہےکہ یہ نیاپ
By : Muhammad Zaheer
26 Oct 2018

سیاستدان اورگاوں کاچور

 پاکستان کےموجودہ سیاسی حالات پرغوروفکرکےگھوڑےدوڑاتےدوڑاتےمیں فی الحال اس نتیجےپرپہنچاہوں کہ کوئلوں کی
By : Muhammad Zaheer
19 Oct 2018