Enjoy The Best News and Blogs
بہترین خبریں ، بلاگ اور تجزئیے

" - صحافت اور قوموں کا زوال ایک ساتھ ہوتا ہے"

Failure is word unknown to me ...

         

( تلاش کریں )

Shortcut( شارٹ کٹ )

کوا حلال ہے یا حرام

09 May 2019 95

گورنر سندھ عمران اسماعیل کہتے ہیں  ملک میں صدارتی نظام کی باتیں ہونے میں کوئی حرج نہیں  ،صدارتی نظام سے جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا،اگر قوم صدارتی نظام پر بحث کررہی ہے تو ضرور کرے،کئی ممالک میں صدارتی نظام بہتر پرفارم کررہے ہیں،ملک میں صدارتی نظام آئے یا پھر پارلیمانی نظام رہے،پاکستان میں جمہوریت قائم و دائم رہنی چاہیے،تسلیم کرتا ہوں کہ  معاشی صورتحال بہتر نہیں  ،جو ماضی کے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے،ماضی میں  قرضے لے کر جائیدادیں بنائی گئیں اور اب ماضی کے حکمرانوں کا قرض ہم ادا کر رہے ہیں۔ گورنر سندھ عمران اسماعیل کی اِن باتوں کے بعد یہ کہنے میں کوئی دشواری باقی نہیں رہتی کہ موجودہ پارلیمانی حکومت ہی صدارتی نظام کی سب سے بڑی داعی ہے ۔

ہماری تاریخ میں یہ ہوتا آیا ہے کہ جب ملت پر برا وقت آیا تو  ذہنی انتشار پھیلا دینے والی بحثیں شروع کر دی گئیں۔ کہتے ہیں  جس وقت ہلاکو خان بغداد میں مسلمانوں کا قتلِ عام کر رہا تھا تو بعض علما ء کے مابین یہ مباحثہ جاری تھا کہ کوّا حلال ہے یا حرام۔ یہی سب کچھ آج پاکستان میں  ہو رہا ہے۔ اِس آن جب عوام کے مسائل نہایت گھمبیر ہو چکے ہیں، قومی سلامتی کو ہولناک چیلنجز درپیش ہیں اور پورا نظامِ حکومت شدید ابتری سے دوچار ہے  تو  اسلامی صدارتی نظام  کی بحث چھیڑ دی گئی ہے۔ پارلیمانی نظام کی تباہ کاریوں اور صدارتی نظام کے فیوض وبرکات کے بارے میں فصاحت و بلاغت کے دریا بہائے جا رہے ہیں۔ ہمارے آج کے بقراط یہ ثابت کرنے پر تُلے ہوئے ہیں کہ ہماری زیادہ تر مشکلات پارلیمانی طرزِ حکومت کی پیدا کردہ ہیں، جس میں اربابِ حکومت کو قدم قدم پر ارکانِ پارلیمان کی حمایت حاصل کرنے کے لئے سمجھوتے اور میرٹ پر سودے کرنا پڑتے ہیں۔ اِس طرح نااہلی، بدانتظامی اور بدعنوانی کی جڑیں گہری ہوتی جاتی ہیں اور کوئی بڑا کارنامہ سرانجام دینا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ ہماری خوش نصیبی دیکھیں  کہ پارلیمانی نظام کے حق میں شیخ رشید احمد میدان میں اُترے ہیں۔

اِس ذہنی کھینچا تانی میں لوگوں کو یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ ملک میں نصف صدارتی نظام تو نافذ ہو چکا ہے۔ پارلیمانی نظام کے اندر صدارتی نظام نے اپنے پنجے گاڑ دیئے ہیں اور گاڑتا چلا جا رہا ہے۔ وزیرِاعظم عمران خان کی کابینہ میں 17 کے لگ بھگ غیر منتخب اور ٹیکنو کریٹ براجمان ہیں اور اُنہی کو اہم وزارتیں سونپی گئی ہیں۔ یہ بات زبانِ زدعام وخواص ہے کہ  جہانگیر ترین جن کو عدالتِ عظمیٰ نے خائن قرار دے کر زندگی بھر کے لئے حکومتی معاملات سے بےدخل کر دیا ہے، وہی  اسد عمر کو کابینہ سے باہر کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ یہ بھی سنا جارہا ہے کہ اُن کے ساتھ وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی اور پنجاب کے گورنر چوہدری محمد سرور کا فیصلہ کن اقتدار کا میچ ہونے والا ہے۔پارلیمانی طرزِ حکومت میں پارلیمان بالادست ہوتی ہے  جبکہ صدارتی نظامِ حکومت میں صدرِ مملکت کو لامحدود اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ اب ایسے حالات پیدا ہونےلگے ہیں جن میں وزیرِاعظم کی ذات میں سارے اختیارات مرتکز ہو گئے  اور منتخب اسمبلیاں ہنگامہ آرائی کی زد میں ہیں۔ اُن میں قانون سازی ہو رہی ہے نہ ملکی مسائل سنجیدگی سے زیرِ بحث آتے ہیں۔ یہ ایک خطرناک صورتحال ہے، ایسے میں شہبازشریف کی جگہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر  اور چیئرمین پبلک اکاونٹس کمیٹی کی تبدیلی ہواوں کارخ بدلنےکاعندیہ  ہے۔دوسری طرف سیاسی موسم میں نیب کی حدت بڑھ رہی ہے اور سیاستدان خزاں میں زرد پتوں کی طرح پریشان حال ہیں۔

سابق صدر پرویز مشرف نے ملک کو بدعنوانی سے پاک کرنے کے نام پر صدارتی آرڈیننس کے ذریعے قومی احتساب بیورو قائم کیا،جسے نیب کہاجاتاہے۔ آج بھی نیب پر پولیٹکل انجینئرنگ اور سیاسی انتقام کے الزامات  ہیں۔ اِس سے زیادہ دلچسپ مگر تلخ حقیقت بھی کوئی نہیں ہو سکتی کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) سمیت ملک کی سیاسی جماعتوں کے رہنما جب بھی کرپشن کے الزامات کے تحت نیب کے شکنجے میں آئے، تب یہ ادارہ اُنہیں ایک آنکھ نہ بھایا اور نیب لاء اُن کے لئے کالا قانون ہی ٹھہرا لیکن جیسے ہی نیب کا ریڈار اُن سے ہٹ کر مخالفین کی طرف مڑا تو یہی نیب اُنہیں بھلا لگنے لگا۔ ملک میں یہ آنکھ مچولی  بیس سال سے جاری ہے، اِس بار تماشا دیکھنے کی باری اُس کھیل میں شامل ہونے والے نئے کھلاڑی کی ہے اور یہاں بھی حسنِ اتفاق کہ جسے کالا قانون کہا جاتا ہے اُس میں ترمیم کے لئے کلیدی کردار اُس وفاقی وزیرِ قانون وانصاف فروغ نسیم نے ادا کرنا ہے جو کل تک پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس میں بطور وکیل اُس کا دفاع کرتے رہے ہیں۔ اپنے اپنے دورِ حکومت میں نیب کی کارروائیوں پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنے والی مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کےرہنما اب برملا اعتراف کرتے ہیں کہ اِس قانون کو تبدیل نہ کر کے اُنہوں نے بہت بڑی غلطی کی۔ موجودہ حکومت کے رہنما اگرچہ نیب کو آزاد اور خود مختار ادارہ قرار دیتے ہیں لیکن وزیراعظم عمران خان کے خلاف ہیلی کاپٹر کے ناجائز استعمال کی تحقیقات ہوں یا پرویز خٹک کے خلاف مالم جبہ کیس کی انکوائری یا تحریک انصاف کے دیگر رہنماوں کے خلاف مقدمات، یہی حکومتی رہنما نیب قانون میں ترامیم کی خواہش کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نیب قانون کو تبدیل کرنے اور نیب میں اصلاحات متعارف کرانے کے لئے   چار ماہ سے بیک ڈور رابطے جاری ہیں۔ اِس ضمن میں وفاقی وزیرِ قانون وانصاف بیرسٹر فروغ نسیم قومی اسمبلی میں بتا چکے ہیں کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نیب قانون میں تبدیلی کے لئے اتفاق تو پایا جاتا ہے تاہم ساتھ ہی اُنہوں نے یہ تشویش بھی ظاہر کی کہ چار مذاکراتی دور کے باوجود نیب قانون میں ترامیم  پر پیش رفت نہیں ہو سکی۔ ڈیڈلاک کی وجہ یہ بتائی گئی کہ حکومت فی الوقت نیب کے قانون میں چیدہ چیدہ ترامیم چاہتی ہے جبکہ اپوزیشن نیب قانون میں وسیع پیمانے پہ تبدیلیوں کی خواہاں ہے۔ وفاقی وزیرِ قانون کے مطابق حکومت نے نیب قانون میں ترامیم کا بارہ نکاتی مسودہ تیار کیا ہے لیکن اپوزیشن کے مجوزہ مسودے میں لگ بھگ اُنتالیس ترامیم شامل ہیں۔ حکومتی مسودے میں تجویز کیا گیا ہے کہ احتساب عدالت سے وارنٹ جاری ہونے کے بعد ہی کسی ملزم کو گرفتار کیا جائے جبکہ ضمانت کا اختیار بھی ٹرائل کورٹ کو دے دیا جائے، ریمانڈ کی مدت بھی ضابطہ فوجداری کے تحت ہو، ملزم کو خود بے گناہی ثابت کرنے کی شق میں ترمیم کی جائے جبکہ نیب کا نیا نام قومی احتساب کمیشن ہو۔ چیئرمین نیب کی تقرری کی اہلیت اور طریقہ کار جبکہ احتساب کے نئے قانون کے اطلاق سمیت کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کی تشریح بھی از سرِ نو کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

mughal_khalil@ymail.com

Author: Khalil Mughal

Mr. Khalil Mughal is a senior journalist with a long career. He has served in the leading media organizations in Pakistan. Currently, he is associated with Express News.

Read More From: Khalil Mughal

تازہ ترین

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

یوٹرن تواچھےہوتےہیں

یوٹرن تواچھےہوتےہیں اسلام علیکم دوستو۔۔  قسمت کےکھیل بھی نرالےہیں،کب کیاہوجائے،پتاہی نہیں چلتا،یوٹ
By : Muhammad Zaheer
12 Jan 2019

اگلی باری تحریک انصاف کی

دوستو،آج آپ سےایک بات شیئرکرنی ہے۔ کچھ عرصہ پہلےجب ملک میں ن لیگ کی حکومت تھی ،نیب کامولابخش پیپلزپارٹی
By : Muhammad Zaheer
30 Oct 2018

نیاپاکستان ، حقیقت یاخواب ؟

تحریک پاکستان نئےپاکستان کانعرہ لگاکرحکومت میں آئی ہے ۔ لیکن میراایک سیدھااورمعصومانہ ساسوال ہےکہ یہ نیاپ
By : Muhammad Zaheer
26 Oct 2018

سیاستدان اورگاوں کاچور

 پاکستان کےموجودہ سیاسی حالات پرغوروفکرکےگھوڑےدوڑاتےدوڑاتےمیں فی الحال اس نتیجےپرپہنچاہوں کہ کوئلوں کی
By : Muhammad Zaheer
19 Oct 2018