Enjoy The Best News and Blogs
بہترین خبریں ، بلاگ اور تجزئیے

" - صحافت اور قوموں کا زوال ایک ساتھ ہوتا ہے"

Failure is word unknown to me ...

         

( تلاش کریں )

Shortcut( شارٹ کٹ )

صدارتی اور پارلیمانی نظام کا ملاپ

05 May 2019 32

اسد عمر کے بعد نئے مشیر خزانہ آئندہ  مالی سال کیلئے بجٹ سازی اورآئی ایم ایف سے پروگرام فائنل کرنےمیں مصروف ہیں۔ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی,روپے کی بے قدری، ٹیکس وصولیوں میں کھربوں روپے کے شارٹ فال پر قابو پانا ،درآمدات میں کمی  سمیت مالیاتی خسارے  اور کرنٹ اکاونٹ خسارے پر قابو پاکر ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھانے  اور جی ڈی پی گروتھ میں اضافہ جیسے   چیلنجز ہیں ، جو ڈگمگاتی ہوئی ملکی معیشت کو سنبھالنا دینے کیلئے نئے مشیر خزانہ کو درپیش ہیں۔ مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو ان کے پیشرو اسد عمر نےجاتےجاتےآگاہ کیاتھاکہ انہیں  بہت مشکل معیشت ملے گی۔

ملک میں رمضان المبارک کے دوران ویسے ہی ناجائزمنافع خوروں کی لوٹ مار بڑھ جاتی ہے،جس سےمہنگائی میں شدیداضافہ ہوجاتاہے جبکہ آئندہ مالی سال کابجٹ اور آئی ایم ایف کا پروگرام مہنگائی میں جلتی پرتیل ڈالنے کا کام کرنےوالے ہیں۔آئندہ دنوں میں غربت کے ماروں کی حالت مزید ابدتر ہوسکتی ہے ۔اور اگر آئی ایم ایف سے نئی ٹیم پروگرام لینے میں کامیاب نہیں ہوتی تو ایسے میں کوئی پلان بی نہیں ہے جو حالات کو سنبھالا دینے کیلئے لاگو کیا جاسکے ۔حالات بےقابو ہوئے تو نئےنظام کی بازگشت میں شدت آئے گی،ویسےبھی کہنےوالے کہہ رہے ہیں کہ صدارتی نظام آدھا آچکا ہے۔

صدارتی نظام کے حق میں بڑھتے ہوئے مباحثے کے دوران حکومت چلانے کیلئے منتخب نمائندوں کی بجائے غیر منتخب مشیروں اور خصوصی معاونین پر انحصار شروع کر دیا گیا ہے۔ وفاقی کابینہ میں حالیہ اکھاڑ پچھاڑ ظاہر کرتی ہے کہ حکومت کا اعتماد حکمران جماعت کے ارکان پارلیمنٹ اور سینیٹرز کی بجائے نامزد کردہ افراد پر بڑھ رہا ہے۔وفاقی  کابینہ میں  تبدیلیوں کے بعد اقتصادیات کی اہم ترین وزارتیں اُن مشیروں اور معاونین کے کنٹرول میں آ گئی ہیں جو پارلیمنٹ میں جواب دہ نہیں۔حالیہ تبدیلیوں کے نتیجے میں صرف منتخب  ارکان کو ہدف بنایا گیا اور حکومت کے مقرر کردہ غیر منتخب مشیروں اور خصوصی معاونین میں سے کسی کو ہٹایا گیا  نہ  کوئی نئی ذمہ داری دی گئی۔ جس وقت کئی غیر منتخب مشیروں کو پہلے ہی وزیر کی حیثیت سے اہم ذمہ داریاں دی گئی ہیں اس وقت حالیہ  اقدام سے ان کی طاقت  تعداد اور تفویض کردہ ذمہ داریوں کے لحاظ سے بڑھ گئی ہے۔

کابینہ میں پہلی تبدیلی سے  رکن قومی اسمبلی اسد عمر  وزیر خزانہ کے اہم ترین عہدے سے رخصت ہوئے  اور ان کی جگہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو لگا دیاگیا۔ حفیظ شیخ پیپلز پارٹی کی سابق حکومت میں وزیر خزانہ کی حیثیت سے کام کر چکے ہیں۔ پی ٹی آئی کے ایک اور رکن قومی اسمبلی سرور خان کو بھی پٹرولیم کی اہم وزارت سے ہٹا دیا گیا ۔ پٹرولیم کی یہ اہم وزارت اب غیر منتخب شخصیت ندیم بابر چلائیں گے۔پیپلزپارٹی کےرہنماقمرزمان کائرہ کاالزام ہے کہ ندیم بابرایس این جی پی ایل کے 86کروڑ روپےکےنادہندہ ہیں۔ وزیر اطلاعات کو تبدیل کرتے ہوئے حکومت نے یہاں بھی غیر منتخب پی ٹی آئی رہنما فردوس عاشق اعوان کو گوجر خان سے منتخب ہونے والے پارٹی رکن قومی اسمبلی فواد چوہدری کی جگہ پر مقرر کیا ہے۔  ڈاکٹر ظفر اللہ مرزا بھی نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے شخص ہیں جنہیں حکومت نے وزارت صحت کیلئے مقرر کیا ۔ وہ راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی عامر محمود کیانی کی جگہ اہم ذمہ داری نبھائیں  گے۔ کابینہ میں کی جانے والی تازہ ترین تبدیلیوں کے نتیجے میں اگرچہ چار غیر منتخب مشیر / معاونین خصوصی کابینہ میں شامل ہو گئے ہیں لیکن پی ٹی آئی کی پارلیمانی طاقت میں سے کسی کو بھی ملک کے پالیسی ساز ادارے (کابینہ) میں شامل نہیں کیا گیا۔ غیر منتخب مشیروں / معاونین خصوصی کی کابینہ میں شمولیت ایسے نامزد کردہ افراد کی فہرست میں نیا اضافہ ہے جو اہم عہدوں پر موجود ہیں۔ مثلاً ڈاکٹر رزاق داود وزیر اعظم کے مشیر تجارت ہیں، ڈاکٹر عشرت حسین وزیراعظم کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات اور کفایت شعاری ہیں، محمد شہزاد ارباب وزیر اعظم کے مشیر برائے اسٹیبلشمنٹ ہیں، ملک امین مشیر ماحولیاتی تبدیلی ہیں، بیرسٹر شہزاد اکبر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب ہیں، ذلفی بخاری خصوصی معاون برائے اوور سیز پاکستانیز اور ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ ہیں، شہزاد سید قاسم خصوصی معاون برائے پاور، عثمان ڈار امور نوجوانان دیکھتے ہیں۔  اب وفاقی کابینہ میں پانچ مشیر اور 17 خصوصی معاونین ہیں۔ صدارتی نظام کے برعکس، پارلیمنٹ نظام میں کابینہ منتخب نمائندوں / ارکان پارلیمنٹ پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس نظام میں وزیراعظم اور ان کی کابینہ پارلیمنٹ کو جواب دہ ہوتے ہیں۔ صدارتی نظام میں صدر مملکت اور ان کی کابینہ پارلیمنٹ کو جواب دہ نہیں ہوتے۔ اگرچہ پاکستان میں پارلیمانی نظامِ حکومت ہے لیکن حکومت کا طرزِ حکمرانی صدارتی اور پارلیمانی نظام کا ملاپ ہے۔

اگر عمران خان کامیاب نہ ہوئے تو تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہو گا کہ ہمارے پاس کوئی متبادل پارٹی ایسی نہیں ہو گی جو فوراً اقتدار سنبھال کر ملک کو آگے لے جا سکے۔ پیپلز پارٹی زخم خوردہ، نیب زدہ اور اسیرِ مقدمات ہے۔ پنجاب میں اُس کی جڑیں نہیں ہیں، اِس لئے پورے ملک کی باگ ڈور سنبھالنا اُس کے لئے بھی کافی مشکل ہوگا۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما  سابق وزیراعظم نواز شریف شدید بیمار ہیں، اُن کی سزائیں معاف ہو جائیں اور اُنہیں دوبارہ اقتدار ملے بھی تو وہ اُس صحت کے ساتھ اِسے چلا نہیں پائیں گے۔ مسلم لیگ (ن) نے عمران خان کے متبادل کے طور پر میاں شہباز شریف کو کھڑا کر رکھا ہے مگر اُن پر مقدمات کی بھرمار اور اُن کے خاندان کے خلاف مہم کے بعد ایسا نہیں لگتا کہ وہ عمران خان کی طرح اِنہی طاقتوں سے اقتدار لے لیں گے بلکہ ایسا لگتا ہے کہ حال ہی میں کوئی ایسی دراڑ آئی ہے جس سے شہباز شریف کے معاملات جو کافی حد تک طے لگتے تھے پھر بکھر کر رہ گئے ہیں۔  اِس ساری بات سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ پورے ملکی منظر نامے میں اِس وقت نہ تو کوئی متبادل سیاسی جماعت ہے اور نہ کوئی لیڈر، جو فوراً اقتدار سنبھال کر ملک کی کشتی کو آگے لے جا سکے۔

mughal_khalil@ymail.com

Author: Khalil Mughal

Mr. Khalil Mughal is a senior journalist with a long career. He has served in the leading media organizations in Pakistan. Currently, he is associated with Express News.

Read More From: Khalil Mughal

تازہ ترین

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

یوٹرن تواچھےہوتےہیں

یوٹرن تواچھےہوتےہیں اسلام علیکم دوستو۔۔  قسمت کےکھیل بھی نرالےہیں،کب کیاہوجائے،پتاہی نہیں چلتا،یوٹ
By : Muhammad Zaheer
12 Jan 2019

اگلی باری تحریک انصاف کی

دوستو،آج آپ سےایک بات شیئرکرنی ہے۔ کچھ عرصہ پہلےجب ملک میں ن لیگ کی حکومت تھی ،نیب کامولابخش پیپلزپارٹی
By : Muhammad Zaheer
30 Oct 2018

نیاپاکستان ، حقیقت یاخواب ؟

تحریک پاکستان نئےپاکستان کانعرہ لگاکرحکومت میں آئی ہے ۔ لیکن میراایک سیدھااورمعصومانہ ساسوال ہےکہ یہ نیاپ
By : Muhammad Zaheer
26 Oct 2018

سیاستدان اورگاوں کاچور

 پاکستان کےموجودہ سیاسی حالات پرغوروفکرکےگھوڑےدوڑاتےدوڑاتےمیں فی الحال اس نتیجےپرپہنچاہوں کہ کوئلوں کی
By : Muhammad Zaheer
19 Oct 2018