News Makers

تازہ ترین

کورونا وائرس پاکستان میں مصدقہ کیسز
274289
  • اموات 5842
  • سندھ 118311
  • پنجاب 92073
  • بلوچستان 11601
  • خیبرپختونخوا 33397
  • اسلام آباد 14884
  • گلگت بلتستان 1989
  • آزاد کشمیر 2034

 

کوروناوائرس ۔۔ جنوبی ایشیاکیلئےخوفناک طوفان : عالمی بنک کی رپورٹ

کوروناوائرس ۔۔ جنوبی ایشیاکیلئےخوفناک طوفان : عالمی بنک کی رپورٹ
اپ لوڈ :- جمعرات 16 اپریل 2020
ٹوٹل ریڈز :- 215

 ویب ڈیسک ۔۔
 
حال ہی میں سامنےآنےوالی عالمی بنک کی ایک رپورٹ نےاندرباہرسےہلاکررکھ دیاہے۔ رپورٹ میں جس معاشی تباہی کی پیشگوئی کی گئی 
ہےاس کےبارےمیں سوچ کرہی دل کانپ اٹھتاہے۔ آئیےاس رپورٹ کےچیدہ چیدہ نکات کاجائزہ لیتےہیں ۔ 
 
عالمی بینک نےاپنی رپورٹ میں کورونا وائرس کو جنوبی ایشیا کی معیشت کیلئے ایک ’بھرپور طوفان‘ کے مترادف قرار دیا ہے۔ عالمی بنک 
 
کےمطابق کوروناوائرس جنوبی ایشیائی ممالک کی غربت کے خلاف عشروں سےجاری جنگ کےثمرات کومٹی میں ملاکےرکھ دےگااوراس 
 
خطے کےملکوں اگلےچالیس برس تک اس موذی وائرس کےبرےاثرات سےلڑناہوگااوراس دوران ان ممالک کی اقتصادی کارکردگی بدترین 
 
ہوگی۔ 
 
جہاں تک پاکستان کاتعلق ہےتوعالمی بینک کی رپورٹ کےمطابق پاکستان کو شدید کسادبازاری کےساتھ ساتھ رواں رواں مالی سال فی کس 
 
آمدنی میں بھی کمی کاسامناکرناپڑسکتاہے۔عالمی بینک کے اندازوں کے مطابق پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ (شرح نمو) مزید سکڑنے کے 
 
بعد منفی ہوسکتی ہے ، جی ڈی پی منفی 2.2سے لیکر منفی 1.1فیصد تک ہونےکاامکان ہے۔
 
کوروناوائرس سےپہلےورلڈ بینک نےجوتخمینہ لگایا تھااس کےمطابق اس سال جنوبی ایشیا میں علاقائی سطح پر اقتصادی ترقی کی 
 
شرح6.3فیصد تک رہنا تھی۔ اب لیکن یہ شرح زیادہ سے زیادہ بھی 1.8فیصد اور 2.8 فیصد کے درمیان تک رہے گی۔
 
ورلڈ بینک نےخبردارکیاہےکہ جنوبی ایشیا میں کورونا وائرس کی وبا سے ملکی سطح پرسب سےزیادہ نقصان مالدیپ کو پہنچے گا، جس کی 
 
معیشت میں سیاحتی شعبے کی کارکردگی کلیدی ہوتی ہے۔ مالدیپ کی مجموعی قومی پیداوار میں اب 13 فیصد تک کمی کا خدشہ ہے۔بھارت 
 
میں کورونا کے باعث شرح نمو 1.8فیصد سے لیکر 2.8فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔ 
 
ورلڈ بینک کہتاہےکہ پاکستان سمیت جنوبی ایشیائی ممالک میں ترسیلات ذرمیں بھی کمی ہوگی،پاکستان کازیادہ ترترسیلات ذر خلیجی 
 
ممالک،امریکا،برطانیہ اوردیگر ممالک سےآتا ہےجہاں کورونا وائرس کےباعث مکمل لاک ڈاون سےپہلےہی وہاں کام کرنےوالےپاکستانیوں 
 
کی حالت انتہائی پتلی ہے۔۔
 
سائوتھ ایشیااکنامک فوکس نامی یہ رپورٹ عالمی بنک کی جانب سےواشنگٹن سےجاری کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ پاکستان کی 
 
شرح نمو آئندہ مالی سال2021ء میں 0.3فیصد سے لیکر 0.9فیصد تک رہنے کا امکان ہے جبکہ 2022ء میں شرح نمو 3.2فیصد سے لیکر 
 
3.3فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔ 
 
جنوبی ایشیا کیلئے عالمی بینک کے نائب صدر ہارٹ وگ شیفر اور جنوبی ایشیا کیلئے ورلڈ بینک کے چیف اکانومسٹ ہانس ٹمر نے ویڈیو 
 
کانفرنس کے ذریعے سے یہ رپورٹ صحافیوں کیساتھ دو روز قبل شیئر کی تھی تاہم اتوار کی صبح تک اسے شائع نہ کرنے کی شرط رکھی 
 
تھی، انہوں نے جنوبی ایشیا سے متعلق اس رپورٹ کے کچھ خاموش مندرجات کے حوالے سے بھی بریفنگ دی تھی۔ 
 
انتہائی غریب قرض دارممالک کےقرضوں کی معافی کےحوالے سے پوچھے گئےایک اور سوال کےجواب میں ورلڈ بینک کےعہدیدارنے 
 
کہا کہ قرضوں کی معافی بھی ڈونرز کےایجنڈے میں شامل ہے۔ورلڈ بینک نے پہلے یہ تخمینہ لگایا تھا کہ اس سال جنوبی ایشیا میں علاقائی 
 
سطح پر اقتصادی ترقی کی شرح چھ اعشاریہ تین فیصد تک رہنا تھی۔
 
اب لیکن یہ شرح زیادہ سے زیادہ بھی ایک اعشاریہ آٹھ فیصد اور دو اعشاریہ آٹھ فیصد کے درمیان تک رہے گی۔1980ء کے بعد 1.8فیصد 
 
شرح نمو جنوبی ایشیا میں 40سال کی بدترین کارکردگی ہوگی ۔ 1991ء میں جنوبی ایشیا کی شرح نمو 1.9فیصد رہی تھی ۔ 
 
آئندہ مالی سال 2021ء میں بھی جنوبی ایشیا کی جی ڈی پی گروتھ پر اثرات رہیں گے اور شرح نمو 3.0 فیصد سے لیکر 4.1 فیصد تک رہنے 
 
کا امکان ہوگا جبکہ 6 ماہ قبل لگائے گئے اندازوں کے مطابق 2021ء میں شرح نمو 6.7 فیصد تک رہنے کا امکان تھا۔
 
2022ء میں جنوبی ایشیا کی شرح نمو دوبارہ 6 فیصد تک رہنے کا امکان ہوگا۔ امریکا، یورپی یونین کے حامل ممالک سمیت دیگر بڑے ممالک 
 
میں کام کرنے والے تارکین وطن کی آمدنی بھی متاثر ہوگی جس کے باعث جنوبی ایشیا میں ترسیلات ذر کی آمدن بھی کم ہوگی۔ 
 
اس کے علاوہ تیل کی قیمتوں میں 50 فیصد سے زائد کمی کے بعد تیل سے منسلک کاروبار بھی بند ہونے کا امکان ہے اور اس کے نتیجے 
 
میں بھی جنوبی ایشیا میں ترسیلات ذر کے بہاو میں کمی ہوگی۔ 
 
رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیائی ریاستوں میں ٹوارازم ختم ہوچکی ہے، سپلائی چین متاثر ہے، گارمنٹس کی ڈیمانڈ ختم ہوکر رہ گئی ہے 
 
جبکہ صارف اور سرمایہ کار دونوں کے ارادے غیر متزلزل نظر آرہے ہیں۔عالمی منظر نامے اور لاک ڈاون کے پیش نظر بیشتر ممالک نے 
 
ملکی معیشت کے بڑے حصے کو منجمد کردیا ہے۔ ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کی عالمی وباء سے بڑھتی ہوئی 
 
اموات اور عالمی معیشت کو نقصان کے پیش نظر جنوبی ایشیائی حکومتوں کو چاہئے کہ وہ ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کریں۔
 
عالمی بنک کاکہناہےکہ جنوبی ایشیائی ممالک اپنی عوام اوربالخصوص غریب شہریوں اورزیادہ خطرے کےحامل افراد کی زندگیاں بچائیں اورمعیشت کی تیزی سے بحالی کی راہ ہموار کریں۔ جنوبی ایشیا کیلئے عالمی بینک کے نائب صدر ہارٹ وگ شیفر کا کہنا ہے کہ اگر جنوبی ایشیائی حکومتیں ایسا کرنے میں ناکام ہوئیں تو انہیں طویل المدتی معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور غربت میں مزید اضافہ ہوگا۔ 
 
رپورٹ کے مطابق عالمی وباء کم آمدنی والے افراد کو زیادہ متاثر کریگی بالخصوص سیاحت کے شعبے میں کام کرنے والے ملازمین، 
 
پرچون کی تجارت کرنے والے اور ٹرانسپورٹ سیکٹرز میں کام کرنے والے افراد زیادہ متاثر ہوں گے جنھیں پہلے ہی ہیلتھ کیئر یا سوشل 
 
سیفٹی نیٹس تک رسائی کم یا نہ ہونے کے برابر ہے۔ رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کے باعث جنوبی ایشیا میں امیراورغریب کافرق مزیدگہراہوسکتاہے۔ 
 
جنوبی ایشیا میں بڑے پیمانے پر کم اجرتی ملازمتوں کے خاتمے کے بعد شہروں سے ملازمین کی بڑی تعداد دوبارہ دیہاتوں کا رخ کرے گی 
 
اوروہاں پہلےسےکام نہ ہونےکی وجہ سےلوگوں کی بڑی تعداد دوبارہ غربت کا شکار ہوجائیگی۔ 
 
اگر چہ فی الوقت بڑے پیمانے پر غذائی قلت کے آثار نہیں ہیں تاہم رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر کورونا وائرس کے بحران کی مدت 
 
میں اضافہ ہوا تو اس سے فوڈ سیکورٹی کو خطرہ ہوگا۔ 
 
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح رواں مالی سال 11.80فیصد تک رہ سکتی ہے اور پھر اس میں کمی ہوگی ، کرنٹ 
 
اکاونٹ خسارہ جی ڈی پی کا 1.9فیصد رہے گا جبکہ برآمدات میں برآمدات سے زیادہ کمی ہوگی۔
 
دوستو ۔۔ رپورٹ آپ نےپڑھ لی ۔۔ اب ہماری طرف سےتوبس یہی دیاہےکہ اللہ پاک تو ہی سب سےبہترین کارسازہے،اس مشکل میں ہماری مددفرما۔ بےشک آپ کی مددکےبغیرہم اس مشکل سےنکلنےوالےنہیں ۔ آمین ۔
 
 

Copyright © 2018 News Makers. All rights reserved.