News Makers

تازہ ترین

حکومتی وزرامیں لفظی جنگ چھڑگئی ۔۔ ایکدوسرےپرتابڑتوڑحملے

حکومتی وزرامیں لفظی جنگ چھڑگئی ۔۔ ایکدوسرےپرتابڑتوڑحملے
اپ لوڈ :- ہفتہ 08 فروری 2020
ٹوٹل ریڈز :- 79

ویب ڈیسک ۔۔
معصوم بچوں سےزیادتی کرنےوالوں کوسرعام پھانسی دینےکےمعاملےپرحکومتی وزرامیں پھوٹ پڑگئی ،ایک دوسرےکوبرابھلاکہنےلگے۔ جی ہاں پارلیمانی امورکےوزیرمملکت علی محمدخان نےقبائلی نظام کوبراکہنےپراپنی ہی پارٹی کےوفاقی وزیرفوادچودھری کوکھری کھری سنادیں ۔۔
 
یادرہےکہ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے مجرموں کو سرعام پھانسی کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی ، قراردادکو وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے پیش کیا تھا۔
 
اس قراردادکےجواب میں وفاقی وزیرسائنس وٹیکنالوجی فواد چوہدری نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں بچوں کے ساتھ زیادتی کےمجرمان کو سرِعام پھانسی کی قرارداد کی مذمت کی اور کہا کہ اس طرح کے قوانین تشدد پسندانہ معاشروں میں بنتے ہیں اور یہ انتہا پسندانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے، بربریت سے آپ جرائم کے خلاف نہیں لڑ سکتے ہیں۔
 
اس کےبعدفواد چوہدری نےایک اورٹویٹ کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ دنیا کی تاریخ میں یہ سب ہو چکا ہے، اس طرح کی سزائیں قبائلی معاشروں میں ہوتی ہیں جہاں انسان اور جانور ایک برابر ہیں۔
 
ان کا کہنا تھا کہ مہذب معاشرے مجرموں کو سزا سے پہلے جرم روکنے کی تدبیر کرتے ہیں، اس طرح کی سزاؤں سے معاشرے بے حس ہو جاتے ہیں اور سزا اپنا اثر کھو دیتی ہے۔
 
فواد چوہدری کی ٹویٹس پرعلی محمدخان برہم ہوگئےاورکہا کہ اللہ الحق ہے اور اس کا حکم الحق ہے، اسلامی سزاؤں کو ظلم و بربریت کہنے والے خود ظالم ہیں۔دوسرا قبائلی معاشرہ دنیا کا سب سے مہذب معاشرہ ہے جہاں عورت کی عزت، بڑوں کا ادب اور پختون ولی ہے۔
 
علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ قبائلی معاشرہ وہ ہے جہاں سر قربان کیا جاتا ہے لیکن عزت نہیں، مجھے فخر ہے اپنےقبائلی معاشرے پر۔
 
یادرہےکہ علی محمدخان کی قراردادپرشیریں مزاری کی تنقیدبھی سامنےآئی ہے۔ انہوں نےاس قراردادکوایک فردواحدکی سوچ قراردیااورکہاکہ اس کاپارٹی پالیسی سےکوئی تعلق نہیں ۔۔ 
 

Copyright © 2018 News Makers. All rights reserved.