Enjoy The Best News and Blogs
بہترین خبریں ، بلاگ اور تجزئیے

" - صحافت اور قوموں کا زوال ایک ساتھ ہوتا ہے"

Failure is word unknown to me ...

                        امریکا نے پاکستان کو باعث تشویش ممالک پر عائد معاشی پابندیوں سے استثنیٰ دے دیا                         بشریٰ بی بی گوگل پر سب زیادہ سرچ کی جانے والی شخصیات میں سرفہرست                         پی سی بی کو 70 ملین ڈالرز زر تلافی کیس میں بھارت سے شکست مزید مہنگی پڑگئی

تازہ ترین

( تلاش کریں )

Shortcut( شارٹ کٹ )

اپنےپیچھےپڑجائیں

30 Sep 2018 69

کہنےکوتوواقعی بہت عجیب بات ہےلیکن سچ ہےکہ نوکری کرنےکےبیس سال بعدمجھ پریہ رازافشاہواکہ ’’میاں آپ تونوکری کیلئےبنےہی نہیں ۔۔ ‘‘

 آج جب میں اپناتجزیہ کرتاہوں تومجھےلگتاہے’’واقعی میں نوکری کیلئےنہیں بنا،مجھےتوکچھ اورکرناتھا۔۔‘‘ لیکن کرناکیاتھا؟ یہ جاننامیری زندگی کااہم ترین مقصدبن گیا ۔۔

 میری باتیں شاید آپکوعجیب لگیں لیکن دوست یہ نہایت سنجیدہ موضوع ہےجس پربہت ہی کم بات کی جاتی ہے ۔ ہوناتویہ چاہیےکہ ہمارےتعلیمی ادارےقابلیت اورذہنی میلان کی بنیادپرطلبہ کےمستقبل بارےانہیں گائیڈکریں لیکن بدقسمتی سےوہاں توغلاموں کی ایسی نسل تیارکی جارہی ہےجنہیں پتاہی نہیں کہ ’’آزادی‘‘اللہ پاک کی بہت بڑی نعمت ہے۔

  ہمارےہاں بڑےبڑےتعلیمی ادارےہیں لیکن کسی ایک میں بھی ذہن سازی اورخودشناسی جیسےانتہائی اہم پہلووں پرذرہ بھرتوجہ نہیں دی جاتی ۔۔ یہی وجہ ہےکہ یہاں بھیڑبکریوں کی بہتات جبکہ  لیڈرزڈھونڈےسےبھی نہیں ملتے ۔۔ ایم بی اےکی ہوا چلی تو چلےایم بی اےکرنے،کمپیوٹرسےآشنائی ہوئی توآئی ٹی ایکسپرٹ بننےکاشوق چرانےلگا،کسی افسرکودیکھاتوسی ایس ایس کی دھن سرپرسواہوگئی، وغیرہ وغیرہ ۔۔

 قاسم علی شاہ بڑےزبردست موٹی  ویشنل سپیکرہیں ۔ وہ کہتےہیں طلبہ کوباربارخودسےیہ سوال کرتےرہناچاہیےکہ آخرہم کس لئےبنےہیں،کونساشعبہ یاکام ایساہےجسےکرنےکیلئےاللہ پاک نےہمارےاندرحیرت انگیزصلاحیتیں رکھی ہیں ۔ یادرکھیں جس کام کیلئےآپ بنےہیں ،وہی کام کرینگےتوبلندیوں پرپہنچیں گےوگرنہ شایدساری زندگی بھٹکتےرہیں اوراپنی ناکامیوں پردوسروں کوکوستےرہیں ۔۔

  نوےکی دہائی میں بی اےکرنےکےبعدمجھےاورکچھ نہ سوجھاتوایک کمپنی میں سیلزآفیسرلگ گیا۔۔ اس نوکری کاملناتھاکہ زندگی ایک نہ ختم ہونےوالی ٹینشن میں آگئی ۔ رات کوسوتےمیں بھی ٹارگٹ پوراکرنےکےخواب آتےرہتے۔ ظاہرہےوہ میراکام نہیں تھالہذابہت جلدکمپنی نےفارغ کردیا۔ اسی طرح کےاوربھی کام کرنےکی کوشش کی، بری طرح ناکام ہوا،کبھی کمپنی مجھےفارغ کردیتی توکبھی میں انہیں چھوڑدیتا۔ طویل عرصہ اسی ’’گناہ بےلذت‘‘ میں ضائع ہوگیالیکن بیماری اپنی جگہ موجودرہی کیونکہ میں اس کی تشخیص ہی نہیں کرپارہاتھا ۔ اس دورمیں کوئی موٹی ویشنل سپیکربھی نہیں تھاکہ جومجھ جیسے’’بھٹکےمسافر‘‘کوصحیح راستہ ہی دکھادیتا۔۔

 کئی سال ضائع کرنےکےبعداللہ تعالیٰ کورحم آگیااورمجھےایک اخبارمیں نوکری مل گئی جہاں سےشروع ہونےوالاسفرآج اپنےبیس سال پورےکرچکاہے۔ صحافت سےاپنی طویل رفاقت کی مجھےسوائےاس کےکوئی اوروجہ سمجھ نہیں آتی کہ اللہ پاک نےمجھےلکھنےلکھانےکیلئےبھیجاہےاورمالک دوجہاں کی دی ہوئی اس صلاحیت کےبل بوتےپرہی آج ایک بڑےنیوزچینل میں عزت سےکام کررہاہوں ۔۔ الحمدللہ

 آپ لوگوں کومیری ایک ہی نصیحت ہےکہ اپنےآپ کوکھوجتےرہیں،باربارخودسےپوچھتےرہیں کہ آپ اس دنیامیں آئےکس لئےہیں ۔۔ سب سےزیادہ ضروری بات: اللہ تعالیٰ سےدعامانگتےرہیں کہ وہ آپکوسیدھاراستہ دکھائے،آپکی زندگی کےمقصدسےآپکوروشناس کرادے،آپکی خوابیدہ صلاحیتوں کوبیدارکردےاورآپکووہ بنادےجووہ چاہتاہے۔۔ یادرکھئے:کوشش کےبناآپ نہ توخودکوپاسکتےہیں اورنہ ہی اپنےاندرچھپےگوہرکوپہچان کراسےپالش کرسکتےہیں ۔

 میری طرف سےچندٹپس:

 جوکام کرکےآپکوخوشی محسوس ہو، جوکام آپکوکم سےکم تھکائےاورجس کام کوکرنےکےلئےآپکےذہن میں نت نئےآئیڈیازآئیں اورسب سےبڑھ کریہ کہ جسےکرنےکےبعدآپ ڈپریشن کاشکارنہ ہوں،بلکہ اطمینان محسوس کریں سمجھ لیں وہی آپکاکام ہے،ایمانداری سےاسےکیجئےکامیابیاں ضرورقدم چومیں گی ۔۔

 اب آتےہیں اس بنیادی سوال کی طرف کہ کیسےبیس سال بعدمجھ پریہ رازفاش ہواکہ میں تونوکری کیلئےبناہی نہیں ۔۔

  چندسال پہلےکی بات ہےمیرےایک کولیگ کومیراانچارج بنادیاگیا،ویسےتوہم دوست تھےلیکن بطورانچارج اس کارویہ بسااوقات انتہائی ناقابل برداشت ہوجاتا۔ دوست کےناررواسلوک پرمیں اندرہی اندرکڑھتارہتا،خون جلاتارہتا ۔۔ پھراچانک سےاللہ پاک کی طرف رجوع کرنےکاخیال آیااورمیں گڑگڑاکراللہ تعالیٰ سےاس اذیت سےچھٹکارےکی دعائیں مانگتارہتا۔ مالک کواپنےبندےپرترس آگیااوراس نےاپنےبندےکےدل میں یہ بات ڈال دی کہ نوکری تودوسروں کی غلامی کرنےکانام ہے،عزت سےکام کرناچاہتےہوتواپناکوئی کام کرو۔۔ آپ یقین کریں کہ اس سےپہلےمیرےدل میں کبھی اپناکام کرنےکاخیال تک نہیں آیاتھا۔ پھراللہ پاک ہی کی مہربانی سےمیں نےشعبہ صحافت ہی سےملتاجلتاایک چھوٹاساکام شروع کردیاجوالحمدللہ جاری وساری ہے ۔۔

  سوچتاہوں بیس سال پہلےنوکری کی بجائےاپناکام کیاہوتاتوجانےآج کہاں ہوتا؟ پھرسوچتاہوں میں نےاللہ سےجب ہدایت مانگی اس نےدےدی۔ مجھ سےتودیرہوگئی لیکن آپ ہدایت پانےمیں جلدی کیجئے۔ ہدایت مل گئی توسمجھ لینادنیااورآخرت دونوں مل گئے۔

Author: Muhammad Zaheer

The author is a senior journalist. He is currently working for a news channel.

تازہ ترین

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اپنےاندرجھانکئے

پاکستان کی موجودہ صورتحال کومحض داخلی مسائل اوربیرونی سازشوں کاشاخسانہ قراردیناشایددرسس

By : Muhammad Zaheer
30 Sep 2018

انوکھابیوٹی پارلر : لوگ دیکھتےہی آپ پرمرمٹیں گے

اسی موضوع پرگزشتہ تحریرمیں اپنےایک دوست سےیہ سوال پوچھا تھاکہ کیادنیامیں کوئی ایسابیوٹی پارلربھی

By : Muhammad Zaheer
30 Sep 2018

کامیاب ہوناچاہتےہیں؟

 کامیابی کسےاچھی نہیں لگتی ؟ ہرکوئی اپنےاپنےشعبےمیں کامیاب ترین انسان بنناچاہتاہےلیکن

By : Muhammad Zaheer
30 Sep 2018