Enjoy The Best News and Blogs
بہترین خبریں ، بلاگ اور تجزئیے

" - صحافت اور قوموں کا زوال ایک ساتھ ہوتا ہے"

Failure is word unknown to me ...

                        امریکا نے پاکستان کو باعث تشویش ممالک پر عائد معاشی پابندیوں سے استثنیٰ دے دیا                         بشریٰ بی بی گوگل پر سب زیادہ سرچ کی جانے والی شخصیات میں سرفہرست                         پی سی بی کو 70 ملین ڈالرز زر تلافی کیس میں بھارت سے شکست مزید مہنگی پڑگئی

تازہ ترین

( تلاش کریں )

Shortcut( شارٹ کٹ )

کامیاب ہوناچاہتےہیں؟

30 Sep 2018 54

 کامیابی کسےاچھی نہیں لگتی ؟ ہرکوئی اپنےاپنےشعبےمیں کامیاب ترین انسان بنناچاہتاہےلیکن ایساکیوں ہےکہ کامیابی ملتی بہت کم لوگوں کوہےیایوں سمجھ لیجئےکہ بہت کم لوگوں کولگتاہےکہ وہ ایک کامیاب زندگی گزاررہےہیں ۔۔ زیادہ ترلوگوں کولگتاہےکہ وہ زندگی میں جوبنناچاہتےتھےوہ نہیں بن پائےاوراپنی اس ناکامی کاذمہ داروہ عام طورپرحالات یاقسمت کواوراس کےساتھ ساتھ دوسروں کوٹھہراتےہیں ۔ کیاان کاایساسوچنادرست ہے؟ ہماراآج کاموضوع یہی ہےَ۔۔

 اپنی اب تک کی زندگی کےانتہائی تلخ تجربات اورگہرےمشاہدےکےبعدمیری ناقص رائےمیں کامیابی دوباتوں کامجموعہ ہے ۔ نمبرایک: کوشش اور نمبردو: دعا ۔۔

 ممکن ہےآپ میری بات سےاتفاق نہ کریں اورایساکرنےکی آپکےپاس کوئی معقول وجہ بھی ہو۔ ویسےبھی اس دنیامیں ہرانسان اپنی الگ الگ قسمت لیکرپیداہوتاہے۔ کچھ کوکامیابی جلدمل جاتی ہے،کچھ کوکوشش کےبعدملتی ہے،کچھ کوشایدنہیں ملتی جبکہ کئی ایک پیداہی منہ میں سونےکاچمچہ لیکرہوتےہیں ۔ لیکن اس کےباوجودمیں اپنی بات پرقائم ہوں کہ کامیابی کوشش اوردعاوں کےاشتراک کانتیجہ ہوتی ہے۔ ویسےبھی کسی بات کاعمومی تجزیہ عام مشاہدےمیں آنےوالےحالات و واقعات کی بنیادپرکیاجاتاہے۔

 آپ بھی اپنی زندگی اورشعبےمیں ایک کامیاب انسان بنناچاہتےہیں توپہلی کوشش کےطورپراس شعبےکےکامیاب لوگوں کی زندگی کامطالعہ شروع کردیجئے۔ اس دوران آپکےسامنےان لوگوں کی شخصیت کےمثبت اورمنفی پہلودونوں آئیں گے۔ مثبت کواپناتےاورمنفی کوردکرتےجائیے ۔ یادرکھئےکہ ضروری نہیں جسےآپ منفی سمجھ رہےہوں وہ واقعی منفی ہوں ۔ اس نکتےکوسمجھنےکیلئےایک مثال پیش خدمت ہے :

 ’’میرےدفترمیں ایک نئےصاحب آئے ۔ دوپہرکاکھاناوہ عام طورپرآفس کنٹین سےکھانےکی بجائےباہرسےمنگواتے۔ باہرسےکھانالانےکاکام میرےایک کولیگ نےرضاکارانہ طورپراپنےذمہ لےلیا۔ صاحب اسےپیسےدیتے،وہ صرف یہ کرتاکہ ان پیسوں میں بازارسےانتہائی لذیزکھانالاکر،اسےطریقےاورسلیقےسےپلیٹوں میں سجاکررکھ دیتا۔ صاحب کھانےکےساتھ ساتھ کھانالانےوالےکےبھی دیوانےہوگئےاورپھرایک روزصاحب نےوہ نوکری چھوڑدی لیکن جانےسےپہلےوہ میرےکولیگ کوپروموٹ کرنانہیں بھولے ۔۔‘‘

 یہ مثال دینےسےمیراہرگزیہ مقصدنہیں کہ آپ بھی اپنےاپنےافسران کیلئےبازارسےکھانالانےکاکام اپنےذمےلےلیں ۔ مقصدصرف یہ سمجھاناہےکہ آپکواپنےسینئرزکادل جیتناہےاوریہ کام صرف آفس ورک کوکرنےسےنہیں ہوگا۔ اس کےلئےایکسٹراکوشش کرناہوگی اوراس ایکسٹراکوشش سےمیری مرادخوشامدیاچاپلوسی ہرگزنہیں ۔ سادہ سی بات ہے:اپنےسینئرزاورکولیگزکوعزت اوراحترام دیجئے،انہیں اپنائیت کااحساس دلائیے۔ سلام کرنےمیں پہل کیجئے،کسی سینئریاانچارج نےکوئی اچھاکام کیاہےتواس کی تعریف کردیجئے،روزمرہ کےایشوزپربات کیجئے،ادب واحترام کےدائرےمیں رہتےہوئےفرینکنیس کالیول بڑھاتےرہیے۔ اپنی قبولیت اس حدتک لےجائیےکہ کل کلاں آپکےحوالےسےکوئی بھی بات انکےسامنےجائےتوووٹ آپکےحق میں پڑے،خلاف نہیں ۔

 اپنی ذاتی زندگی سےایک مثال دیتاہوں :

 میرےآفس میں ایک صاحب انتہائی بددماغ اوربدتمیزواقع ہوئےتھے۔ یوں سمجھ لیں کہ دوسروں کی بےعزتی کرنےکیلئےانہیں کسی بہانےکی ضرورت نہیں تھی ۔ میری خوش بختی کہ میں انکے شعبےمیں نہیں تھا لیکن اس کےباوجود مجھےوہ جہاں بھی ملتے،میں انہیں احترام سےسلام کرتا،وہ جواب دیتےاوربس۔۔ کچھ عرصےبعددفترمیں ڈائون سائزنگ ہوئی،بہت سےلوگوں کونکال دیاگیالیکن مجھ سمیت چندلوگوں کورکھ لیاگیا۔ مجھ میں سرخاب کےپرنہیں لگےتھےکہ دفترنےمجھےنہیں نکالا۔ پتانہیں کیوں مجھےآج بھی یوں لگتاہےکہ میری نوکری بچانےمیں اس ’’سلام‘‘نےمرکزی کرداراداکیاجومیں اس بددماغ اوربدمزاج افسرکوکیاکرتاتھا ۔۔

 یادرکھئےخوش اخلاقی اورخوش مزاجی ہمیشہ آپکوپےبیک کرےگی ۔ دوسروں کیلئےآسانیاں پیداکرتےرہیے،آپکی زندگی میں بھی آسانیاں پیداہوتی رہیں گی ۔۔

  یہ محض باتیں نہیں بلکہ زندگی کاوہ سبق ہےجومیں نےسیکھا۔۔ اورجسےپوری ایمانداری سےآج آپ سےشئیرکررہاہوں ۔

  اب آئیےایک دوسری کوشش کاذکرکرلیتےہیں ۔ آپ کوئی کام کرناچاہتےہیں جیسےکوئی کاروباروغیرہ توسب سےپہلےاس حوالےسےہوم ورک ضرورکرلیجئےاورکام وہ کریں جس کی آپ اچھی سمجھ بوجھ رکھتےہوں ۔ ضروری نہیں کہ ادھرآپ نےکوئی کام کیااورادھروہ کامیاب ہوگیا ۔ عین ممکن ہےپےدرپےناکامیاں آپ کااعتماداورہمت دونوں شل کردیں لیکن آپ نےاللہ کی رحمت سےمایوس نہیں ہونابلکہ اپناکام پوری دلجمعی اورایمانداری سےکرتےرہناہے۔ کوشش کیجئےکہ کام کےحوالےسےآپ ان لوگوں سےمشاورت کریں جوآپ سےمخلص اورآپ کےخیرخواہ ہوں ۔ اکیلےکچھ بھی نہیں ہوگا،اپنےساتھ پرفیشنل اورمحنتی لوگوں کی پوری ٹیم کھڑی کرنےکی کوشش کریں ۔ اس سےآپکا کام آسان سےآسان ترہوتاجائےگا۔۔

 ایک بہت پتےکی بات ذہن میں بٹھالیجئےکہ بیٹھےبٹھائےکچھ نہیں ہونےوالا۔۔ چاہےلاکھ دعائیں کروالیں ۔ منصوبےبنائیں ، بڑےبڑےخواب ضروردیکھیں لیکن ان منصوبوں اورخوابوں کوتعبیرتبھی ملےگی جب آپ انہیں عملی جامہ پہنانےکیلئےمیدان میں نکلیں گے ۔۔

 کوشش کےحوالےسےمیراجوبھی علم ، تجربہ اورمشاہدہ تھا میں نےانتہائی خلوص اورنیک نیتی کےساتھ آپکےسامنےرکھ دیا۔ آپ اس سےاتفاق کرنےیاردکرنےمیں مکمل آزادہیں ۔ 

 اب ذرا دعاکی اہمیت پرروشنی ڈالتےہیں ۔

 بطورایک مسلمان دعاکی ہمارےلئےکیااہمیت ہے،یہ مجھےبتانےکی ضرورت نہیں ۔ ہماری توزندگی ٹکی ہی دعاوں کےسہارےپرہے۔ یہ بات سمجھانےکیلئےمیری نظرمیں زمین سےبہترکوئی اورمثال نہیں ۔ آپ زرخیززمین کاایک ٹکڑالیں ،پھراس ٹکڑےمیں دنیاکےبہترین بیج اورکھادڈالیں ۔۔ لیکن اگرآپ اس زرخیززمین میں پانی نہیں ڈالیں گےتوزمین کی زرخیزی اوراس میں ڈالےگئےبیج کسی کام نہیں آئیں گے۔ پانی نہ ملنےپرزمین سوکھ جائےگی اوربیج گل سڑجائیں گے۔ انسانی زندگی میں دعاکی اتنی ہی اہمیت ہےجتنی ایک زرخیززمین کیلئےپانی کی ۔

 دعاکی بھی دوقسمیں ہیں : ایک  وہ جوآپ اپنےلئےمانگتےہیں اوردوسری وہ جولوگ آپ کیلئےمانگتےہیں ۔ میری رائےمیں دوسری قسم کی دعازیادہ قیمتی ہے۔ اپنےوالدین،بڑوں اورسب سےزیادہ سےزیادہ دعائیں سمیٹنےکی کوشش کرتےرہیے ۔۔ ایمان سےبہت فائدہ ہوگا۔۔  

شایدکہ تیرےدل میں اترجائےمیری بات

Author: Muhammad Zaheer

The author is a senior journalist. He is currently working for a news channel.

تازہ ترین

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اپنےاندرجھانکئے

پاکستان کی موجودہ صورتحال کومحض داخلی مسائل اوربیرونی سازشوں کاشاخسانہ قراردیناشایددرسس

By : Muhammad Zaheer
30 Sep 2018

انوکھابیوٹی پارلر : لوگ دیکھتےہی آپ پرمرمٹیں گے

اسی موضوع پرگزشتہ تحریرمیں اپنےایک دوست سےیہ سوال پوچھا تھاکہ کیادنیامیں کوئی ایسابیوٹی پارلربھی

By : Muhammad Zaheer
30 Sep 2018

اپنےپیچھےپڑجائیں

کہنےکوتوواقعی بہت عجیب بات ہےلیکن سچ ہےکہ نوکری کرنےکےبیس سال بعدمجھ پریہ رازافشاہواکہ &rs

By : Muhammad Zaheer
30 Sep 2018