News Makers

تازہ ترین

کورونا وائرس پاکستان میں مصدقہ کیسز
274289
  • اموات 5842
  • سندھ 118311
  • پنجاب 92073
  • بلوچستان 11601
  • خیبرپختونخوا 33397
  • اسلام آباد 14884
  • گلگت بلتستان 1989
  • آزاد کشمیر 2034

 

بچوں سےزیادتی اورقتل کےبڑھتےواقعات کوکیسےروکیں ۔۔ ؟

بچوں سےزیادتی اورقتل کےبڑھتےواقعات کوکیسےروکیں ۔۔ ؟
اپ لوڈ :- سوموار 08 جون 2020
ٹوٹل ریڈز :- 70

پچھلےکچھ عرصےمیں پاکستان باالخصوص پنجاب میں بچوں سےزیادتی  اورقتل کےواقعات میں خطرناک حدتک اضافہ ہوگیاہے۔ اس حوالےسےانتہائی حیرت انگیزبلکہ افسوسناک بات یہ ہےکہ زیادتی اورقتل کےزیادہ ترواقعات میں ملوث ملزمان یاتومقابلوں میں مارےجاچکےہیں ، کئی ایک کوپھانسی لگ چکی ہےجبکہ بہت سےجیلوں میں پڑےسڑرہےہیں لیکن اس کےباوجوداس قسم کےدل دہلادینےوالےواقعات کم ہونےکی بجائےتسلسل کےساتھ ہورہےہیں ۔ اس سلسلےمیں چندمشہورواقعات کاحوالہ دیکرآگےچلتےہیں ۔
 
قصورکی بچی زینب کاکیس محض ایک سال پہلےکی بات ہے۔ اس کیس میں ملوث عمران نامی مجرم کوایک مثال بنانےکیلئےتیزترین عدالتی کارروائی کےبعدپھانسی دےدی گئی ۔۔ خس کم جہاں پاک ۔۔ لیکن وہ بات جس کی سمجھ نہیں آرہی وہ یہ ہےکہ زینب زیادتی کیس کےبعدآج کی تاریخ تک ملک کےمختلف حصوں میں ایسےہی متعددواقعات رونماہوچکےہیں۔ 
 
اسلام آباد میں مارگلہ کی پہاڑیوں سےملنےوالی فرشتہ نامی بچی، جس کی تصویریقیناً آج کئی ماہ بعدبھی لوگوں کےحافظےمیں محفوظ ہوگی ۔ عینی شاہدین کےمطابق اس بچی کی لاش جب پولیس کوملی تواسےجنگلی جانوربری طرح سےنقصان پہنچاچکےتھے۔ یہ ایک اندھےقتل کاکیس تھاجسےپولیس نےانتہائی ذہانت سےبچی کی ماں سےملنےوالی ایک ٹپ کی مددسےحل کیا۔ فرشتہ قتل کیس کاملزم جب پولیس نےگرفتارکیاتوپتاچلاکہ اس شخص کاپہلےسےمجرمانہ ریکارڈتھا۔ یہ آدمی 2006 اور2017میں بھی کچھ چھوٹی بچیوں سےزیادتی کی کوشش میں پکڑاگیالیکن بعدمیں متاثرہ خاندانوں صلح سےنتیجےمیں سزاسےبچ گیا۔  
 
16ستمبر2019چونیاں ۔۔ ضلع قصور۔۔ سےلاپتہ ہونےوالےآٹھ سالہ بچےمحمدفیضان کی لاش چندروزبعداس کےگھرسےدومیل دورویرانےسےمل گئی اوراس کےساتھ ساتھ پولیس کوجائےوقوعہ سےمزیدکچھ بچوں کی ہڈیاں اورکپڑےبھی ملےجنہیں بعدمیں ان کےورثانےپہچان لیا۔ ان گھناونےاورپورےضلع کوخوف میں مبتلاکردینےوالےواقعات میں ملوث ملزم کوپولیس نےسخت محنت کےبعدبلاخرپکڑلیا۔۔
 
ابھی چندروزپہلےلاہورکےعلاقےنواب ٹاون میں دس سالہ بچےکواس کےگھرقریب سےایک اوباش نوجوان ورغلاکرقریبی زیرتعمیرپلازہ میں لےگیااوروہاں اسےزیادتی کانشانہ بنانےکےبعدبےرحمی سےقتل کردیا۔ پولیس نےاس واردات میں ملوث ملزم کومحض چندروزمیں گرفتارکرلیاتوپتاچلاکہ وہ اس سےپہلےبھی دوبچوں کوزیادتی کانشانہ بناچکاہے۔ 
 
معصوم بچوں کوزیادتی کےبعدبےرحمی سےموت کےگھاٹ اتاردینےکےگھناونےواقعات کی فہرست بہت طویل ہے،ہم اگرایک ایک کرکےانہیں ڈسکس کرنےلگےتواپنےموضوع سےہٹ جائیں گے۔ ویسےبھی میرامقصدان واقعات کودہراکوغمزدہ خاندانوں کےدکھوں کوتازہ کرنانہیں بلکہ کوئی ایساطریقہ ڈھونڈناہےجس پرعمل کرتےہوئےہم اپنےبچوں کی عزت اورجان دونوں کوممکن حدتک محفوظ بناسکیں ۔۔
 
   آج کی نشست میں ہم غورکرینگےایسےگھناونےواقعات کےتدارک کی ۔۔ کہ کس طرح چند طریقےاپناکران واقعات کوروک نہیں تو کم سےکم ضرورکیاجاسکتاہے ۔۔ لیکن اپنےموضوع پربات کرنےسےپہلےدوخبریں سن لیں ۔۔
 
جاپان میں جہاں لوگ بےحدمصروف ہوتےہیں ، بہت سےوالدین ایسےہیں جواپنےبچوں کوبالکل اکیلےاسکول بھیجتےہیں ۔ وہ کرتےیہ ہیں کہ بچےکےبیگ کےساتھ ایک چپ لگادیتےہیں جوگھرمیں موجودایک ڈیوائس سےمنسلک ہوتی ہے۔ بچےکواسکول بھیج کرماں لمحہ بہ لمحہ اس کی موومنٹ اورلوکیشن چیک کرسکتی ہے۔ الیکٹرانک ڈیوائس کی مددسےماں یہ دیکھ سکتی ہےکہ اس کابچہ کس وقت کس جگہ موجودتھااورکتنےبجےوہ اپنےاسکول میں داخل ہوا۔ اسی طرح جب بچہ اسکول سےگھرواپس آنےکیلئےنکلتاہےتوماں ڈیوائس کی مددسےاس کی مانیٹرنگ کرتی رہتی ہے۔ 
 
دوسری خبر: چین بہت عرصےسے۔۔ میس سرویلنس ۔۔ کےایک بہت ہی بڑےمنصوبےپرکام کررہاہے۔۔ اس منصوبےکی تکمیل کےبعدریاست کاہرشہری حکومت کی جانب سےلگائےجانےوالےکیمروں کےنشانےپرہوگا۔یعنی آپ کہیں بھی چلےجائیں کیمروں کی آنکھ سےنہیں بچ پائیں گے۔۔
 
 جہاں تک چینی منصوبےکی بات ہےتوظاہرہےیہ اربوں ڈالرکامنصوبہ ہے،ہم ایک غریب ملک ہیں ،، اتنامہنگامنصوبہ افورڈنہیں کرسکتے۔۔ جہاں تک جاپان والی خبرکاتعلق ہےتووہ تجربہ بھی ہم پاکستان میں نہیں کرسکتے۔ کیوںکہ جاپان اورہمارےحالات میں زمین وآسمان کافرق ہے،ہم بچےکومحض ایک چپ لگاکراکیلےاسکول بھیجنےکارسک نہیں لےسکتے۔ اس لئےیہ دونوں منصوبےفی الحال توہمارےکسی کام کےنہیں ۔۔ لیکن مایوس ہونےکی ضرورت نہیں ۔۔ مہنگی دوائی خریدنےکےپیسےنہیں توکیاہوا؟ آپا زبیدہ کےٹوٹکےتوہیں ناں ۔۔ وہ بھی بالکل فری ۔۔ 
 
 روزانہ نہیں توہفتےمیں دوتین باربچےکےساتھ وقت گزاریں اوراسےاپنےاورپرائےکافرق سمجھائیں ۔۔ اسےبتائیں کہ اس کااپناکون ہےاورپرایاکون ۔۔ یادرکھیں پرائےمیں ہروہ فردشامل ہےجوبچےکارشتہ دارنہیں ۔۔ پھرچاہےوہ ساتھ والاہمسایہ ہی کیوں نہ ہو۔۔ بچےکوبتائیں کہ اگرکوئی پرایااسےٹافی ، چاکلیٹ ، جھولوں یاکپڑوں کالالچ دیکرساتھ لےجانےکی بات کرےتواسےکیاجواب دیناہےاورکیسےدیناہے۔ یہ بات اس کےذہن میں بٹھادیں کہ ایسی کسی بھی آفرکواسےہرصورت ردکرناہےاوربھاگ کرگھرآجاناہے۔ بچےکویہ بھی بتائیں کہ اگرکوئی پرایایااجنبی اسےزبردستی کہیں لےجانےکی کوشش کرتاہےاس صورت میں اسےکیسےری ایکٹ کرناہے؟
 
 اب آجائیں ۔۔ اپنوں کی طرف ۔۔ اپنوں کودوکیٹگریزمیں تقسیم کردیں ۔۔ ایک وہ جوبچےکےساتھ ایک ہی گھرمیں رہتےہیں اوردوسرےوہ قریبی عزیزجوالگ گھروں میں رہتےہیں ۔ وہ اگرآپ کےبچےکےساتھ غیرمعمولی طورپرزیادہ وقت گزاررہےہیں ، بارباراسےباہرلیکرجارہےہیں،اسےچیزخریدکردےرہےہیں تواس بات کانوٹس لیں ۔ کوشش کریں کہ بچےکےوہ کزن جوعمرمیں اس سےکافی بڑےہیں اس کےساتھ زیادہ نہ کھیلیں اورنہ ہی بچہ اکیلاان کےساتھ زیادہ وقت گزارے۔ ایک اوربات کاآپ نےبطورخاص خیال رکھناہے۔ وہ یہ کہ بعض اوقات گھرمیں مہمان آجانےکی وجہ سےسونےکیلئےجگہ کم پڑجاتی ہے،ایسی صورت میں اپنےبچےکوکبھی مہمان کےساتھ مت سونےدیں،اسےاپنےساتھ یااس کےبہن بھائیوں کےساتھ سلائیں،بچےکواس کی عمرسےبڑےکزن کےساتھ بھی مت سونےدیں ۔ ملازم ۔۔ جی ہاں اس بات کویقینی بنائیں کہ گھرکےمردملازم بچےکےساتھ ہرگزہرگزوقت نہ گزاریں اورنہ ہی بچےکومردملازمین کےرحم و کرم پرچھوڑکرباہرجائیں ۔۔ 
 
 مختصراً یوں سمجھ لیں کہ بچےکےمعاملےمیں ماں باپ اورسگےبہن بھائیوں کوچھوڑکرہرشخص آپ کےشک کےدائرےمیں ہوناچاہیے۔ برامت مانیں لیکن گزشتہ کچھ عرصےمیں بچوں سےزیادتی اورقتل کےبہت سےواقعات میں اس کےانتہائی قریبی عزیزملوث تھے۔ 
 
 اورہاں ۔۔ سب سےاہم بات جس کاآپ نےبطورخاص خیال رکھناہے ۔۔ بچےکوتربیت آپ نےاس طرح سےکرنی ہےکہ وہ آپ کی بات سمجھ بھی جائےاوراسکے دل میں ڈربھی نہ بیٹھے۔۔ یادرکھیں بچےکی تربیت کرنی ہےاسےبزدل نہیں بنانا ۔۔ اس عمرمیں اس کےاندرڈربیٹھ گیاتوعمربھرنہیں
جائےگا،لہذایادرہےکہ بچےکی شخصیت کوڈیمیج نہیں کرنا،بلکہ اسےمضبوط بناناہے۔۔ یہ سب جومیں کہہ رہاہوں ۔۔ سنناآسان ہےمگرکرناکسی امتحان سےکم نہیں ہوگا۔۔ لیکن مجھےیقین ہےآپ اس امتحان میں اللہ کےکرم سےسرخروہونگے ۔۔ 
------------------
 
 
 
 

Muhammad Zaheer

The author is a journalist. He is currently working for a news channel.

Muhammad Zaheer مزید تحریریں

Muhammad Zaheer

Copyright © 2018 News Makers. All rights reserved.