News Makers

تازہ ترین

کورونا وائرس پاکستان میں مصدقہ کیسز
70381
  • اموات 1499
  • سندھ 28245
  • پنجاب 25056
  • بلوچستان 4193
  • خیبرپختونخوا 9540
  • اسلام آباد 2418
  • گلگت بلتستان 678
  • آزاد کشمیر 251

 

بندروں کےہاتھ میں استرے

بندروں کےہاتھ میں استرے
اپ لوڈ :- ہفتہ 07 مارچ 2020
ٹوٹل ریڈز :- 131

ان دنوں میڈیامیں عورت مارچ اور اس کے نعرے"میراجسم میری مرضی" پردباکےبحث کی جارہی ہے۔ فریقین اپنےاپنےموقف ڈٹےہوئےایک دوسرےکونیچادکھانےکیلئےایڑی چوٹی کازورلگارہےہیں۔ سوشل میڈیاپراس حوالےسےہونےوالی بحث کاتوبہت ہی براحال ہے۔ اچھےبھلےانسانوں کےمنہ کلاشنکوف بنے دلائل کوگولیوں کی طرح برساکر مخالفین کےکلیجےچھلنی کررہےہیں ۔ اس قسم کی لفظی فائرنگ سےخوش قسمتی سےکسی کی جان تونہیں جارہی البتہ روحیں ضرور گھائل ہورہی ہیں ۔ 
 
عورت مارچ اوراسکےنعرے"میراجسم میری مرضی"کوشایداس قدرمیڈیاکوریج نہ ملتی اگرنجی ٹی وی چینل کےٹاک شوکی وہ ویڈیووائرل نہ ہوتی جس میں ڈرامہ نگارخلیل الرحمان قمراورعورت مارچ کی روح رواں ماروی سرمدکےدرمیان عورت مارچ اوراس کےنعروں کولیکراچھی خاصی جھڑپ ہوئی ۔
 
 دونوں میں سےکون صحیح تھااورکون غلط،اس بحث کوفی الحال ایک طرف رکھتےہوئےاس نکتےپربات کرتےہیں کہ کیااس ںاخوشگوارواقعےکوآن ائیرجانےسےروکاجاسکتاتھا ؟ الیکٹرانک میڈیاسےوابستہ ہونےکےناطےاپنےقارئین کی اطلاع کیلئےعرض ہےکہ جی ہاں اس بےہودہ گفتگوکوبڑےآرام سےآف ائیرکیاجاسکتاتھا،لیکن بوجوہ ایسانہیں ہوا۔ کیوں ؟ پروفیشنل صحافی ہونےکی حیثیت سےمجھےاس کیوں کی دووجوہات سمجھ آتی ہیں ۔ 
 
نمبرایک :ہمارےہاں عام تاثرہےکہ اینکرحضرات مہمانوں کی لڑائی کراکےپروگرام کیلئےریٹنگ حاصل کرتےہیں اوربظاہراس لڑائی کےپیچھےبھی اینکرکامقصدریٹنگ کاحصول ہی دکھائی دیتاہےکیونکہ اگروہ چاہتیں توبڑی آسانی سےاس لڑائی کوروک سکتی تھیں ۔ 
 
نمبردو: پروگرام کی خاتون اینکرصحافتی تربیت کی کمی کےباعث اپنےموضوع کی حساسیت کوسمجھنےسےقاصرتھیں ۔ اسی لئےلڑائی کےدوران ہونےوالی جملےبازی اوراس کےنتیجےمیں سامنےآنےوالےردعمل کاانہیں اندازہ ہی نہ ہوسکا،ورنہ جس طوفان کاآج انہیں ، ان کےچینل اورسب سےبڑھ کراس معاشرےکوسامناہےاسےوقوع پزیرہونےسےپہلےہی روکاجاسکتاتھا ۔ 
 
دوستو،کچھ عرصےسےنیوزٹاک شوزمیں ہمیں جس بدتمیزی ،بدتہذیبی اورپھکڑپن کاسامناہےاس کی بنیادی وجہ ان 
ٹاک شوزکےاینکرزکابالادست کردارہےجس کی وجہ سےپروگرام پروڈیوسرزمحض ایک شوپیس بن کررہ گئےہیں ۔ پروڈیوسرجوبنیادی طورپرایک صحافی ہوتاہے،کونٹینٹ یادوسرےلفظوں میں موضوع کی حساسیت اورسنگینی کواچھی طرح سےسمجھتاہے،اسےدیوارسےلگانےکانتیجہ یہ نکلاہےکہ بیشترغیرصحافی اینکرحضرات و خواتین اتنےخودسراوربددماغ ہوچکےہیں کہ پروڈیوسران کےسامنےپرنہیں مارسکتا ۔ خلیل الرحمان اورماروی سرمدکےقصےمیں اگرپروڈیوسرمیں جان ہوتی تووہ پینل پربیٹھےبیٹھےکسی بھی مہمان کی زبان بندی کرسکتاتھالیکن اسےاینکرکاحکم شاہی آنےتک ایساکرنےکی ہرگزاجازت نہیں تھی اوراگروہ خودسےفیصلہ کرکےایساکربیٹھتاتویقین کریں اسےاپنی نوکری کےلالےپڑجاتے ۔ یہی وجہ ہےکہ ٹاک شوزکےزیادہ ترپروڈیوسرزمحض بریک لینے تک محدودہوکررہ گئےہیں ۔ نتیجہ آپ کےسامنےہے کہ کبھی کوئی مہمان لائیوپروگرام میں فوجی بوٹ لاکرمیزپررکھ دیتاہے ،  کوئی ساتھ بیٹھےمخالف کوتھپڑجڑدیتاہےاورلفظی گولہ باری کی توکوئی حدہی نہیں ۔ بس ماں بہن کی گالیوں کی کسرباقی ہے۔
 
ٹاک شوزمیں لگنےوالایہ تماشاصحافت اورصحافتی اقدارسےنابلدپیراشوٹرزکی مرہون منت ہے۔ پیراشوٹرزکی اصطلاح صحافت کےلبادےمیں چھپےان گھس بیٹھیوں کیلئےاستعمال کی جاتی ہےجوکسی طرح سےصحافت کےشعبےمیں گھس توگئےہیں لیکن ان کا صحافت اورصحافیوں سےدوردورتک کوئی تعلق نہیں ۔ مثال کےطورپران دواینکرزکایہاں ذکرکروں گاجنہیں وفاقی وزیرفوادچودھری کےہاتھوں تھپڑپرچکےہیں ۔ سوچنےکی بات ہےکہ اس سےپہلےکسی صحافی اینکرکوکیوں کسی سیاستدان نےسرعام تھپڑنہیں مارا؟ وجہ صاف ظاہرہےکہ صحافی خودکومادرپدرآزادنہیں سمجھتا،وہ خوداحتسابی کےایک خودکارنظام سےبندھاہونےکےباعث وقتاًفوقتاً اپنی اصلاح کرتارہتاہے ۔ لیکن یہ گھس بیٹھئیےچونکہ ریٹنگ پانےکےچکرمیں کسی بھی حدتک جاسکتےہیں اس لئےان کےخلاف تھپڑوں کی شکل میں سامنےآنےوالاغیرمعمولی ردعمل کوئی اچنبھےکی بات نہیں ۔ 
 
بس ڈرائیورکوپائلٹ سمجھ کرکاک پٹ میں بٹھانےسےجہازکاجوحال ہوگا،وہی حال ان پیراشوٹرزنےمیڈیاکاکیاہے۔ جس کاجوکام ہےوہ وہی کرےگاتوبات بنےگی ورنہ بات بگڑتےبگڑتےاتنی بگڑجائےگی کہ کسی سےبنائےنہیں بنےگی ۔ زیادہ دورجانےکی ضرورت نہیں ۔ اپنےوزیراعظم کوہی دیکھ لیں ۔ بہترین کرکٹرتھے،ہم نےانہیں وزیراعظم بنادیا۔ نتیجہ سامنےہے۔ ریاست اورریاستی اداروں کی تمام ترسپورٹ کےباجودموصوف ڈلیورنہیں کرپارہےکیونکہ جوکام ان سےلیاجارہاہےوہ ان کاہےہی نہیں ۔ یہ ملک کاوہی حال کریں گےجوبس ڈرائیورجہازکااورگھس بیٹھئےصحافت کاکررہےہیں ۔ اسی کو کہتے ہیں بندر کےہاتھ میں استرا۔ اب آپ خوداندازہ لگالیں کہ بندراس استرےسےکس کس کو کس کس طرح زخمی کردےگااورآخرمیں خوداپنابھی کیاحال کرلےگا؟ ۔ 
 

Copyright © 2018 News Makers. All rights reserved.