News Makers

تازہ ترین

افغان امن معاہدےکولاحق خطرات ، پاکستان کوکیاکرناہوگا؟

افغان امن معاہدےکولاحق خطرات ، پاکستان کوکیاکرناہوگا؟
اپ لوڈ :- اِتوار 01 مارچ 2020
ٹوٹل ریڈز :- 67

اب جبکہ افغان طالبان اورامریکاکےدرمیان 29 فروری کوتاریخی امن معاہدےپردستخط ہوچکےہیں اورمشترکہ اعلامیےمیں معاہدےپرعملدرآمدکی شرائط کوبھی واضح کردیاگیاہے۔ امریکی فوجوں کےانخلاسمیت امن معاہدےکی دیگرشرائط جیسےکہ دونوں اطراف کےقیدیوں کی رہائی اوردیگرنکات پرعملدرآمدبظاہرانتہائی آسانی دکھائی دیتاہےلیکن حقیقت میں یہ اتنابھی آسان نہیں جتنادکھائی دیتاہے۔
 
معروف سفارتکاراورافغان امورکےماہررستم شاہ مہمندکےمطابق افغان امن معاہدےکی راہ میں بہت سےچیلنجزکھڑےہیں ۔ سب سےبڑاچیلنج اس میں یہ ہوگاکہ طالبان موجودہ افغان حکومت میں اپنےلئےکردارکامطالبہ کریں گے۔ظاہرہے ان کایہ کردار حکومت میں موجودہ دوسرےسٹیک ہولڈرپربھاری ہوگااورموجودہ افغان حکومت میں شامل سٹیک ہولڈرزآسانی سےطالبان کےمطالبات کوتسلیم نہیں کریں گے۔
 
رستم شاہ مہمندنےایکسپریس ٹریبیون میں اس معاہدےکودرپیش چیلنجزکےحوالےسےتفصیلی مضمون لکھاہے۔ کہتےہیں اس معاہدےکےنتیجےمیں اگرافغانستان میں نئی حکومت معرض وجودمیں آتی ہےتوافغان آرمی اورپولیس کامستقبل کیاہوگا؟ ظاہرہےجب ملک میں جاری جنگ کاخاتمہ ہوجائےگاتواتنی بڑی فوج رکھنےکاکیاجوازہوگا؟ اس کےعلاوہ جنگی جرائم میں ملوث بڑےبڑےاوربارسوخ سرداروں کاکیاہوگا؟ جہاں تک طالبان جنگجوءوں کاتعلق ہےتووہ یاتواپنےگھروں کولوٹ جائیں گےیاحکومت کےکسی ادارےمیں نوکری کریں گے ۔
 
یہ بھی پڑھیں ۔۔
 
مزیدیہ کہ وہ عناصرجواس معاہدےکےحق میں نہیں اسےتباہ کرنےکی ہرممکن کوشش کرسکتےہیں ۔ ممکن ہےحکومت پرحملہ وہ کریں لیکن الزام طالبان پرآجائے۔ افغان حکومت کوبھی نئےسیٹ اپ میں اپنےغیرموثرہونےکاشبہ ہواتووہ بھی اس امن معاہدےکی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرسکتی ہے۔
 
معاہدےکی روسےامریکانےاپنی فوجوں کےانخلاکیلئےجوٹائم ٹیبل دیاہے،اگراس حساب سےفوج کاانخلانہ ہواتومعاہدہ خطرےمیں پڑجائےگا۔
 
ان سب چیلنجزکےباوجوامن معاہدےکی کامیابی کیلئےیہ امیدقائم ہےکہ چاردہائیوں سےخانہ جنگی کاشکارملک میں امن کاقیام سب کی خواہش ہے۔ طالبان سمیت سب کواس معاہدےکی سبوتاژکرنےوالوں سےسختی سےنمٹناچاہئیے۔
 
یہ بھی پڑھیں ۔۔
 
خطےکےتمام ممالک کی اس امن معاہدےپرگہری نظرہے۔ جہاں تک چین کاتعلق ہےتووہ اس معاہدےکوکامیاب دیکھناچاہتاہےکیونکہ افغانستان میں امن کی صورت میں چین کاون بیلٹ ون روڈمنصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچایاجاسکتاہے۔ اس کےعلاوہ افغان حکومت میں طالبان کومرکزی پارٹنرکےطورپرشامل کرنےسےداعش کوباآسانی شکست دی جاسکتی ہے جس سےچین ، ایران اورروس کوخطرہ ہے۔ یہی وجہ ہےکہ یہ تینوں ملک امن معاہدےکی حمایت کررہےہیں ۔
 
یہ بھی پڑھیں ۔۔
 
امن معاہدےکی کامیابی سےپاکستان کوبہت فائدہ ہوگا۔ ایک تواس کی مغربی سرحدزیادہ محفوظ ہوجائےگی اوردوسرےاس کاسینٹرل ایشیاسےتجارت کرناآسان ہوجائےگا۔ پاکستان افغانستان کی تعمیرنومیں بھی اپنابھرپورکرداراداکرناچاہےگا۔ البتہ افغانستان سےتجارت ، بارڈرپرباڑلگانےجیسےمعاملات اوردیگردوطرفہ معاملات میں پاکستان کواپنی افغان پالیسی کوازسرنومرتب کرناہوگا، وگرنہ دونوں ملکوں میں موجود نفرت کی دیوارکوگرانامشکل ہوگا۔
 
نوٹ : رستم شاہ مہمند نےیہ مضمون روزنامہ ایکسپریس ٹریبیون کیلئےلکھا ۔ ہم نےپوری ایمانداری سےاس کااردومیں ترجمہ کرکےاپنےقارئین کیلئےشائع کیاہےتاکہ مضمون نگارکاپیغام زیادہ سےزیادہ لوگوں تک پہنچ سکے ۔
 
 یہ بھی پڑھیں ۔۔

Copyright © 2018 News Makers. All rights reserved.