News Makers

تازہ ترین

حکومت کی خراب گورننس ۔۔ نیافارمولاآزمایاجائے

حکومت کی خراب گورننس ۔۔ نیافارمولاآزمایاجائے
اپ لوڈ :- بدھ 26 فروری 2020
ٹوٹل ریڈز :- 113

وہ لوگ جوپڑھےلکھےاورسمجھدارہیں اورجنہوں نےعمران خان کوپاکستان کی آخری امیدقراردیتےہوئےانہیں ووٹ دیا،آج جب ان کی حکومت کےبارےمیں کوئی بری خبرسنتےہیں توان کےدل ڈوب ڈوب جاتےہیں ۔ اس حکومت کےبارےمیں جوبری خبریں آرہی ہیں ان کاتعلق کسی ایک شعبےسےنہیں ۔ 
 
اس حکومت کےپندرہ ماہ میں پاکستان کےواجب الاداقرضےگیارہ کھرب روپےتک جاپہنچے ہیں ۔ اس سےپہلےپیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کےادوارمیں ان قرضوں کاحجم 10کھرب روپےتھا ۔
 
آٹےکی قیمت میں 30فیصداضافہ ہوچکاہے، بیس کلوآٹےکاتھیلا970روپےمیں مل رہاہےجبکہ ایک سال پہلےاس کی قیمت 750روپےتھی ۔ چینی کی قیمت میں 15سے20فیصداضافہ ہواہے۔ چینی اورآٹےکی وافرپیداوارکےبعدان کی قیمتوں میں خوفناک اضافہ حکومت کی خراب انتظامی صلاحیت یاپھربددیانتی کی طرف اشارہ کرتاہے ۔
 
یہ بھی پڑھیں ۔۔
 
اچھےلوگ اس حکومت کاساتھ چھوڑتےجارہےہیں ۔ تازہ ترین مثال ہےایف بی آرچئیرمین شبرزیدی کی ۔ شبرزیدی جیسےلوگ جنہیں عہدےاورمراعات کالالچ نہیں اورجوملک کی خدمت کرناچاہتےہیں ، ایسےلوگوں کوصرف حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ شبرزیدی پروزیراعظم کےمشیرخزانہ حفیظ شیخ کی تنقیدکےبعدعمران خان کوشبرزیدی کاساتھ دیناچاہیےتھاجنہوں نےآئی ایم ایف کےکہنےپرٹیکسوں کےانتہائی غیرمعمولی ٹارگٹ کوحاصل کرنےکی حامی بھرلی تھی ۔ 
 
 عمران خان کی فلاسفی یہ ہےکہ انفرادی حیثیت میں لوگوں کواہمیت دینےکی ضرورت نہیں کیونکہ دنیامیں اچھےلوگوں کی کمی نہیں ، اورآجائیں گے ۔ لیکن شایدعمران خان یہ نہیں جانتےکہ ان کی حکومت کوجوائن کرنےکیلئےاچھےلوگوں کی کمی ہوتی جارہی ہے ۔ 
 
یہ بھی پڑھیں ۔۔
 
اسدعمرکی مثال لیجئے۔ کس طرح انہیں عوامی فورمزپرتضحیک کانشانہ بنایاگیاجس کےبعدانہیں وزارت خزانہ سےمستعفی ہوناپڑا۔ اب اس کےبعدنجی شعبےسےکون بیوقوف ہوگاجواس حکومت کوجوائن کرکےاپنی سالوں پرمحیط ساکھ تباہ کرنےکارسک لےگا ۔
 
جہاں تک بیوروکریسی کاتعلق ہےتووہ احتساب کےخوف سےڈلیورنہیں کرپارہی ۔ نیب ترمیمی آرڈیننس درست سمت میں ایک قدم ہےلیکن اسےبہت دیرسےاٹھایاگیاہے۔ 
 
 اس حکومت میں گورننس کی ناکامی اوپرسےشروع ہوتی ہے ۔ خیبرپختونخواکےدواہم وزراکوان کاموقف سنےبغیروزارتوں سےفارغ کردیاگیا ۔ کچھ دن بعدانہی فارغ کئےگئےوزراسےملاقات کرکےوزیراعظم نےوزیراعلیٰ کوپیغام دیاکہ انہیں واپس کابینہ میں لےلولیکن عاطف خان اورشہرام ترکئی کوواپس کابینہ میں لینےکیلئےباقاعدہ احکامات جاری نہیں کئےگئےجس سےکنفیوژن پھیلی ۔ اس سیٹ اپ میں جس کاڈی فیکٹوسربراہ بےاختیاراورحقیقی سربراہ کنفیوزہوکیسےکام کرسکتی ہے؟ 
 
یہ بھی پڑھیں ۔۔
 
 ہماراالمیہ یہ ہےکہ بطورفیس آف پاکستان وزیراعظم عمران خان کی بین الاقوامی ویلیومسلمہ ہےلیکن بطورایڈمنسٹریٹرعمران خان کامطلب ہےکنفیوژن اوربیڈگورننس ۔ یہ حکومت ملک کوجس بری طرح چلارہی ہےاسےدیکھتےہوئےعوام اوراسٹیبلشمنٹ فرسٹریشن کاشکاردکھائی دیتےہیں ۔ 
 
 اس موقع پرہمیں ایک بارپھرکسی روایتی تجربہ کودہرانےکی بجائےکوئی نیافارمولاآزماناچاہیےجس میں ملک کاچہرہ توعمران خان ہوں لیکن ملک کوچلانےکی ذمہ داری کسی تجربہ کارشخص کودےدی جائے۔  
 
یہ بھی پڑھیں ۔۔
 
 نوٹ : سابق سیکرٹری داخلہ تسنیم نورانی کایہ آرٹیکل روزنامہ ڈان میں شائع ہوا ۔ ہم نےپوری ایمانداری اورنیک نیتی سےاس کااردو ترجمہ آپکی خدمت میں پیش کیاہے تاکہ مصنف کاپیغام زیادہ سےزیادہ لوگوں تک پہنچایاجاسکے ۔ اگرسہواً کوئی غلطی ہوگئی ہےتواس پرپیشگی معذرت ۔ 
 

Copyright © 2018 News Makers. All rights reserved.